عرب بہار اور عمران کے انقلابی
پاکستان آج جس سیاسی اور فکری انتشار کا شکار ہے اس کی جڑیں تلاش کریں تو ایسا لگتا ہے کہ ملک کو اس نہج تک پہنچانے کے لیے خوب محنت کی گئی ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کی پیشنگوئی سنیں تو معلوم ہوتا ہے انتشار کی اس محنت کا آغاز تین دہائیاں قبل ہی ہوچکا تھا تاہم اسے جو توانائی 2011 میں فراہم کی گئی اس سے یہ محنت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوئی جس نے پاکستان میں امید کا قتل عام کیا اور مایوسیوں کا ایسا بیج بویا کہ پورا معاشرہ اس کی لپیٹ میں آگیا۔
دلیل اور ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ کرنے والے جج و قانون دان۔ وطن پر مر مٹنے والے سپوت۔ فہم و فراست سے جڑے دانشور اور وقت کے بڑے معتبر علماء بھی اس زہریلے بیج کی ہلاکت خیزی کا ادراک نہ کر سکے ۔جذباتی نوجوانوں کو تو اس کی لت لگانے کا پورا پورا اہتمام کیا گیایہ محض اتفاق نہیں کہ 2011 میں جب پاکستان میں اس انتشار کو ہوا دی جا رہی تھی عین اسی وقت پورا عالم عرب ایسے ہی انتشار کی آگ میں جھلس رہا تھا۔
تیونس میں ایک ریڑھی بان کی خود کشی کے بعد شروع ہونے والا احتجاج اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ اس نے تیونس مصر لیبیا۔ شام ۔ یمن۔ لبنان ۔بحرین۔ سوڈان ۔ مراکش اور ترکی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔انقلاب۔ حقوق اور آزادی کے خوبصورت نعروں نے عرب بہار نامی اس بے لگام تحریک کو اس قدر تقویت پہنچائی کہ دہائیوں سے اقتدار پر قابض ڈکٹیٹروں کو راہ فرار اختیار کرنا پڑی لیکن تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ انقلابی کسی بھی جگہ اپنی جدوجہد کے ثمرات نہ سمیٹ سکے۔ مصر پہلے سے زیادہ جابر حکمرانوں کی گرفت میں آگیا۔
انقلابیوں کی قیادت کرنے والے محمد البرادعی نوجوانوں کو آگ و خون میں جھونک کر ایسے غائب ہوئے کہ جیسے ان کا مشن ہی انتشار کو ہوا دینے تک تھا۔ شام میں ایسی تباہی آئی کہ شائد ہی کوئی گھر اس کے مہلک اثرات سے بچ پایا ہو ,13 لاکھ سے زیادہ شامی بے گھر ہوئے۔ ہزاروں قتل کر دیے گئے۔ یمن اپنی وحدت کھو بیٹھا آج یمن میں صرف بھوک اور بد امنی کا انقلاب ہی نظر آتا ہے ۔ لیبیا کی خوشحالی جنگ و جدل میں بدل گئی ملک عملی طور پر دو حکومتوں میں تقسیم ہو کر رہ گیا۔ سوڈانی افواج بھی باہم دست و گریباں ہیں ۔ عرب بہار نے خطے کے معاشی استحکام کو گویا نگل لیا صرف چند ممالک ہی اس بحران سے نمٹ سکے۔
پاکستان میں گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے ایسے ہی انقلاب کی ہنڈیا پک رہی ہے جس کے خواب عرب اور افریقی نوجوانوں کو دکھائے گئے تھے۔ ایسا لگتا ہے ایجنڈا صرف یہ ہے کہ سب کچھ تلپٹ کر دیا جائے ۔ آئین باقی رہے نہ ادارے اور ریاست سلامت رہے نہ اس کے باسی۔ 2013 کے الیکشن کے بعد یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ذاتیات کے لیے ملکی سلامتی , اداروں کی حرمت۔ معیشت اور اخلاقی اقدار تک داؤ پر لگا دی گئی ہیں۔ ریاست اور ریاستی اداروں سے عوام کو اس قدر متنفر کیا گیاکوئی عزت دار شخص کسی تعمیری کام کے لیے آگے آنے کو تیار نہیں۔
پاکستان میں ہر دور میں عوام کی اکثریت تقریبا اس سوچ کی حامی رہی ہے کہ سیاست اور اقتدار سمیت ذاتی مفادات کی سب باتیں ثانوی ہیں یہ ملک سلامت رہنا چاہئے ۔یہ بات لوگوں کے لیے عقیدے کا درجہ رکھتی تھی کہ مملکت پاکستان کا قیام اللہ تعالی کا خاص انعام ہے۔ لیکن اب انقلابیوں کے غصے کا پہلا نشانہ ہی ریاست بن چکی ہے ۔ کبھی پاکستان پر حملہ آور ہونے والے دہشت گردوں کو داد دی جاتی ہے اور کبھی بیرونی طاقتوں کو مداخلت کے خطوط لکھے جاتے ہیں۔ شہداء کا مذاق اڑانا بھی وطیرہ بنا لیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا کا ہر پلیٹ فارم پاکستان کی اساس پر حملوں کے مواد سے بھرا پڑا ہے, ہم نہیں تو کچھ بھی نہیں کی ضد پر اڑے انقلابی آج معاشرے میں اتنی گہری تقسیم کے بیج بو چکے ہیں کہ دہائیوں تک ازالہ نہیں ہو سکے گا۔ آزاد کشمیر میں دو ماہ قبل ہونے والے احتجاج کو دیکھ لیجیئے کہ کس طرح دشمنوں کو ہنسنے کا موقع فراہم کیا گیا۔۔تصور کریں کنٹرول لائن کے پار ان لوگوں کو کیا پیغام دیا گیا جو پاکستان کی محبت میں اپنی نسلیں قربان کر چکے ہیں۔ 24
کروڑ لوگوں کا یہ خوبصورت ملک کبھی عالم اسلام کے لیے امید کی کرن ہوا کرتا تھا اورآج اس کے باسی مایوسی اور نا امیدی کی تصویر بنے ہوئے ہیں ۔ ستم ظریفی دیکھیں مفتی تقی عثمانی جیسی شخصیت بھی دبے لفظوں میں عوام سے بغاوت کی اپیل کرتی نظر آرہی ہے گو انہوں نے بغاوت کا لفظ استعمال نہیں کیا لیکن عوام کو سڑکوں پر آکر معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے اکسانے کی اپیل کرنے کو میں کوئی دوسرا معنی دینے سے قاصر ہوں ۔تاہم عرب ممالک کے برعکس پاکستان میں حالات اب بھی پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہیں پہنچے۔
موجودہ سیاسی انتشار اور معاشی عدم استحکام سے تنگ نوجوان ابھی بے لگام نہیں ۔ خوش قسمتی سے ایسی شخصیات ابھی موجود ہیں جو چاہیں تو صورتحال کو سدھار کی طرف لے جا سکتی ہیں۔ اس ضمن میں سب سے بڑی ذمہ داری عمران خان پر ہی عائد ہوتی ہے کہ وہ ذاتی انا کا بت توڑیں اور ملک کو ایسی آگ میں مت جھونکیں جہاں سب کچھ جل کر بھسم ہو جائے ۔
سدھار یا انتشار کا چابی اب بھی عمران خان کے پاس ہے۔ وقت گزرنے کے بعد تو مرسی اور حسنی مبارک بھی مذاکرات پر آمادہ ہو گئے تھے لیکن تب تک زمین ان کے پاؤں کے نیچے سے کھسک چکی تھی۔ فلسطین کے متحارب گروپ بھی آج ایک ساتھ بیٹھنے پر آمادہ ہو گئے ہیں کاش یہ قدم غزہ کی بربادی سے پہلے اٹھا لیا جاتا تو شائد حالات مختلف ہوتے۔
عمران خان کے لیے ابھی وقت ہے کہ اپنے فالورز کو دوسروں کا گریبان پکڑنے اور ریاست کی بنیادیں ہلانے سے باز رکھیں کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔ نوجوانوں کو گالم گلوچ کا جو شعور دیا ہے اس پر نظر ثانی کی جائے ۔ آپ کا ہر قول اور فعل تاریخ کی امانت ہے اور وقت آنے پر تاریخ یہ ضرور پوچھے گی کہ
تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا قافلہ کیوں لٹا
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری راہبری کا سوال ہے
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں