ن لیگ کا یوٹرن اور متاثرین 26 ویں ترمیم
پاکستان کے ایوان بالا اور ایوان زیریں سے منظوری کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم نافذ ہوچکی ہے ،اس ترمیم کا مرکزی نکتہ چیف جسٹس پاکستان کی تقرری کے طریقہ کار سے متعلق ہے تاہم اس کے علاوہ بھی آئین میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں ،ترمیم سے پہلے تاریخ پیدائش کی بنیاد پر شمار کی جانے والی سنیارٹی کے مطابق سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج کو چیف جسٹس تعینات کیا جاتا تھا اور 65 سال عمر پوری ہونے پر اگلے چیف جسٹس کی باری یقینی ہوتی تھی ۔ چیف جسٹس کی تقرری کے اس طریقہ کار کی خوبصورتی یہ تھی تمام ججز کو اپنی باری کا پہلے سے علم ہوتا تھا اور وہ چیف جسٹس بننے کے لئے کسی لابنگ سے دور رہتے تھے ،پھر چاہے کسی کو ایک دن کے لئے چیف جسٹس بننے کا موقع ملتا یا ایک سال کےلئے، اس پر کبھی کوئی ہنگامہ برپا نہیں ہوتا تھا۔ اگر سب کچھ خیر خیریت سے چلتا رہتا تو شائد چیف جسٹس کی تقرری کا مذکورہ طریقہ کار بھی جاری رہتا لیکن اعلیٰ عدلیہ میں بعض عناصر کی جانب سے اپنی مرضی کی فیلڈ سیٹ کرنے اور اپنی ٹائم لائن کے حساب سے ججز کی سنیارٹی کا بندوبست کرنے کے اقدامات نے موجودہ حکمران اتحاد میں شامل سیاستدانوں کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز اور چیف جسٹس کی تقرری کے طریقہ کار کو تبدیل کریں ۔
یہ بات انتہائی حیران کن ہے شہبازشریف کی سربراہی میں بننے والی اتحادی حکومت کو جب2022 میں پاکستان کے نئے آرمی چیف کی تقرری کرنا تھی تو مسلم لیگ ن کی قیادت سنیارٹی کے اصول پر ہی تقرری کے لئے بضد تھی اور اپنے موقف میں کوئی لچک دکھائے بغیر سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو ہی نیا آرمی چیف تعینات کیا۔ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف بننے سے روکنے اور جنرل فیض حمید یا کسی دوسرے جنرل کو سپہ سالار بنوانے کی تمام کوششیں مسلم لیگ ن کی قیادت کے اٹل موقف کے سامنے ناکام رہیں لیکن آج اسی مسلم لیگ ن اور اس کے اتحادیوں نے سپریم کورٹ میں سنیارٹی کی بنیاد پر چیف جسٹس کی تعیناتی کا طریقہ کار تبدیل کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور26 ویں آئینی ترمیم منظور کروا لی ۔ مسلم لیگ ن نے جس سنیارٹی کے اصول کے تحت موجودہ آرمی چیف کی تقرری کی اسی سنیارٹی کے اصول کو سپریم کورٹ سے ختم کرنے کے لئے اتنا بڑا یوٹرن کیوں لیا اور کیا حاصل کیا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم دونوں فیصلوں کے متاثرین کی ایک لمبی فہرست ہے، اتفاق سے دونوں فہرستوں میں عمران خان اور ان کی پسندیدہ شخصیات اولین نمبروں پر ہیں۔
عمران خان لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کوآئی ایس آئی چیف برقرار رکھنا چاہتے تھے لیکن ان کی یہ خواہیش اپنے ہی دور اقتدار میں بھی پوری نہ ہوئی جس کے بعد عمران خان نے فیض حمید کو آرمی چیف بنوانے کے لئے سرتوڑکوششیں شروع کردیں،فیض حمید کو آرمی چیف بنوانا عمران خان کی ذاتی خواہش تھی یا وہ کسی کی خواہش پر ایسا کرنا چاہتے تھے اس سے قطع نظر اس مقصد کے لئے کی جانے والی تمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں،عمران خان کو جب یقین ہو گیا کہ فیض حمید آرمی چیف نہیں بن سکتے تو ان کی آخر وقت تک کوشش تھی عاصم منیر کسی صورت سپہ سالار نہ بنیں لیکن خان صاحب اس مقصد میں بھی کامیاب نہ ہوسکے، جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف بنانے کے فیصلے کے متاثرین کی فہرست میں عمران خان اور فیض حمید کےعلاوہ بھی کئی بڑے نام ہیں، متاثرین ابھی پہلے دکھ سے سنبلھے نہیں تھے کہ خان صاحب نے عدلیہ میں اپنی پسند کا چیف جسٹس آنے پر حکومت کا دھڑن تختہ ہونے کے دعوے شروع کردیئے ۔خان صاحب کا خیال تھا جسٹس منصور علی شاہ کے چیف جسٹس بنتے ہی سپریم کورٹ انتخابات کے آڈٹ کا حکم دے گی اور پی ٹی آئی دو تہائی اکثریت کے ساتھ اقتدار سنبھال لے گی جبکہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی مجموعی نشستیں بھی 50 کے ہندسے تک نہیں پہنچ سکیں گی لیکن عمران خان کی یہ خواہشات اور منصوبے بھی خاک میں مل گئے جب اتحادی حکومت نے 26 ترمیم کے ذریعے چیف جسٹس کی تقرری کا طریقہ کار ہی بدل دیا ،یوں جسٹس منصور علی شاہ چیف جسٹس بننے سے محروم ہو گئے ۔
یہ بھی عجیب مکافات عمل ہے کہ جس اصول کی زد میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر آئے ہیں، انہی دونوں ججز نے اسی اصول کی بنیاد پر لاہور ہائیکورٹ کے دو سینئر ججز کو نظرانداز کرتے ہوئے تیسرے نمبر پر موجود جسٹس عالیہ نیلم کو چیف جسٹس بنانے کی سفارش کی تھی۔ اگر لاہور ہائی کورٹ میں تیسرے نمبر پر موجود جج کو چیف جسٹس بنایا جا سکتا ہے تو سپریم کورٹ میں تیسرے نمبر پر موجود جج کو چیف جسٹس کیوں نہیں بنایا جا سکتا؟ جو اصول لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کے وقت کسی آئینی ترمیم کے بغیر درست سمجھا گیا وہی اصول سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کے وقت آئین کے ایک آرٹیکل کے تحت اپنانا کیوں غلط ہے؟
سینیئر ترین جج کو چیف جسٹس نہ بنانے پر اعتراض کرنے والے وکلاء اور سیاستدان اس وقت کیوں خاموش رہے جب ہائیکورٹس کے سینئر ججز کو نظر انداز کرکے جونیئرججز کو سپریم کورٹ بھیجا جارہا تھا۔
جسٹس منیب اختر صاحب کو جب سپریم کورٹ لایا گیا تو سندھ ہائی کورٹ میں ان سے سینیئر تین جج موجود تھے۔ جسٹس عائشہ ملک کو جب سپریم کورٹ میں جج مقرر کیا گیا تو اس وقت لاہور ہائی کورٹ میں وہ سینیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر تھیں ۔ جسٹس شاہد وحید، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی کو بھی جونیئر ہونے کے باوجود سپریم کورٹ میں لایا گیا ۔
جونیئر ججز کو سپریم کورٹ میں لاکر چیف جسٹس کی دوڑ میں من پسند ججز کوشامل کرنے کی انہی منظم کوششوں نے 26ویں ترمیم کے حالات پیدا کئے، اگر جوڈیشل کمیشن کے رکن کے طور پراعلیٰ عدلیہ کے بڑے عہدیداروں نے سنیئرز کو نظرانداز نہ کیا ہوتا تو شائد آج وہ خود بھی متاثرین کی فہرست میں شامل نہ ہوتے ۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں