کاش ذاکر نائیک پاکستان نہ آتے
تقابل ادیان کے ماہرمعروف اسلامی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے اعلان کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گئے تھے لیکن اسلام آباد پہنچنے کے بعد انہوں نے اپنے بعض بیانات اور رویے کی وجہ سے اس بحث کو مزید طول دے دیا ہے ۔ صرف پاکستان ہی نہیں بھارت ،بنگلہ دیش اور دیگر کئی ممالک میں بھی ڈاکٹر ذاکر نائیک کے دورہ پاکستان کا خوب چرچا ہو رہا ہے،پاکستان میں موجودگی کے دوران ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بعض مواقع اپنے میزبانوں کو مشکل میں ڈالا اور خود بھی تنازعات میں الجھے ہوئے دکھائی دیئے ۔
ڈاکٹر نائیک ابھی پاکستان پہنچے بھی نہ تھے کہ ایئرلائن کے عملے سے اپنے سامان پر چارجز کی چھوٹ مانگتے ہوئے الجھ پڑے ۔ایک عام مسافر تیس کلو تک سامان مفت لا سکتا ہے جبکہ ذاکر نائیک کو پانچ سو کلو سامان مفت لانے کی پیشکش کی گئی لیکن وہ بضد تھے کہ ایک ہزار کلو سامان فری ڈلیور کیا جائے ، ایئرلائن کے عملہ نے سرکاری مہمان کا بھرم رکھا اور ان کی غیر معقول خواہش اور غیر مہذب طرز عمل کی پردہ داری کی لیکن ڈاکٹر صاحب نے بھرے مجمع میں خود ہی واقعہ سنا کر پاکستانیوں پر طنز کے تیر چلانا شروع کردیئے، جوش خطابت میں یہ بھی بھول گئے کہ وہ کونسی ایئرلائن سے پاکستان آئے تھے اور الزام کس پر لگارہے ہیں بعد میں وضاحت بھی کرنا پڑی لیکن تب تک اپنی اور میزبانوں کی اچھی خاصی عزت کروا چکے تھے۔
دورہ پاکستان کے آغاز میں ہی ڈاکٹر ذاکر نائیک کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب موصوف اسلام آباد میں یتیم اور بے سہارہ بچوں کی پرورش کرنے والے ادارے پاکستان سویٹ ہومز کی بچیوں کے ہاتھوں شیلڈ وصول کرنے سے انکارکرتے ہوئے سٹیج سے اتر گئے ۔ ڈاکٹر نائیک کا کہنا تھا کہ ’اسلام میں آپ بالغ اور نامحرم لڑکیوں کو چُھو نہیں سکتے۔
شیلڈ لینے سے انکار کا تنازعہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ کراچی میں لیکچر کے دوران صوبہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے سوال کو ’تضاد پر مبنی‘ کہہ کر اُن سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرڈالا۔لکی مروت سے تعلق رکھنے والی پلوشہ نے پوچھا تھا کہ ہمارے علاقے کا ماحول ایسا مذہبی اور اسلامی ہے کہ خواتین بلاضرورت گھر سے باہر نہیں جاتیں، بڑے بڑے تبلیغی اجتماعات ہوتے ہیں، مساجد ہیں،مدارس ہیں، علماء ہیں لیکن ان اچھائیوں کے باوجود اسی معاشرے میں سود اورسمگلنگ جیسی برائیاں عام ہیں، بچوں کے ساتھ جنسی فعل کی بیماری اس قدر ہے کہ ایک کے بعد دوسری نسل اس کی لپیٹ میں ہے،اس دورنگی کی وجہ کیا ہے؟ ۔ خاتون کا سوال سیدھا اور واضح تھا مگر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے سوال کو مس ہینڈل کیا اور الٹا لڑکی کو ڈانٹ دیا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر سوال غلط بھی تھا تو اس کی اصلاح کرتے اور سکون کے ساتھ جواب دیا جاتا۔ ڈاکٹر صاحب بضد تھے کہ اسلامی معاشرے میں ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ لڑکی اتنی اعلیٰ ظرف تھی کہ اس نے فوری طورپر معذرت کرتے ہوئے کہا ہو سکتاہے میرے سوال کی نوعیت غلط تھی مگر ڈاکٹر نائیک یہ کہلوانا چاہتے تھے کہ سوال نہ صرف غلط بلکہ اسلامی معاشرے پر الزام بھی تھا۔ سامعین کی اکثریت کو بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ سوال سمجھا ہی نہیں گیا۔ ڈاکٹر نائیک کا جواب اور نامناسب لب ولہجہ بین الاقوامی میڈیا نے شہ سرخیوں میں پیش کیا اور سوال پوچھنے والی لڑکی کے ساتھ یکجہتی کااظہار بھی کیا۔ نامناسب جواب پرپاکستانی صارفین نے بھی سرکاری مہمان کو آڑے ہاتھوں لیا۔ سوال پوچھنے والی لڑکی نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اس سوال کی ویڈیو آنے کے بعد انھیں سوشل میڈیا پر ٹرول کیا جا رہا ہے۔ کہتی ہیں کہ ’بدقسمتی سے شاید ڈاکٹر صاحب میرا سوال سمجھ نہیں سکے۔
بات ایک دو تنازعات تک ختم ہوجاتی تب بھی کچھ بھرم رہ جاتا لیکن ڈاکٹر صاحب نے پاکستانی اینکرز کے ساتھ تبادلہ خیال کا بھی رسک لیا ۔ وہ لاکھوں کے مجمع میں اکیلے ہی تقریر کے عادی تھے اور مخالفت میں آواز اٹھنے پر مائیک بند کرنے کے لئے ان کی ٹیم ہروقت تیار رہتی تھی بدقسمتی سے یہ سہولت پاکستان میں میسر نہ آئی تو ڈاکٹر صاحب کی کرشماتی شخصیت کے وہ پہلو بھی سامنے آئے جو پہلے کم ہی دیکھے گئے تھے، یعنی وہ بھی روایتی مجمع بازوں کی طرح تحمل ،بردباری ،حکمت ،بصیرت اور مروت سے عاری دکھائی دیئے ۔ دور کے ڈھول سہانے والی بات ڈاکٹر صاحب پر ایسی فٹ بیٹھی کے ان کے چاہنے والے بھی بعض مواقع پر دفاع کرنے سے گریز کرتے رہے اور یہ کہتے سنے گئے کہ کاش ڈاکٹر ذاکر نائیک پاکستان نہ آتے اور اپنا بھرم ہی برقرار رکھ پاتے۔ ڈاکٹر نائیک کے طرز عمل سے مایوس افراد میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو ان کی آمد پر بہت پرجوش تھے۔
پاکستانی خاتون اینکرفریحہ ادریس کے ساتھ انٹرویو کے دوران ڈاکٹرنائیک نے خواتین کے لباس، طرز زندگی اور مرد کی چار شادیوں سمیت متعدد معاملات پرایسی گفتگو فرمائی کہ سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہوگیا۔ایک موقع پرفرمایا کہ اگر عورت حجاب نہیں کرتی اور مرد انہیں چھیڑتا ہے تو اس میں دونوں کا قصور ہے، کیوں کہ عورت نے خود کو محفوظ کیوں نہیں کیا۔ ایک موقع پر کہا کہ اسلام میں عورت سے قبل مرد کو پردہ اور پرہیز کرنے کا کہا گیا ہے۔ اسی معاملے پر مزید کہا کہ اگر کوئی مرد ٹی وی چینل پر کسی خاتون کو میک اپ میں دیکھتا ہے اور اس کے دل و دماغ میں ہلچل نہیں ہوتی تو وہ مرد بیمار ہے،اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیے۔ان کے مطابق اگر مرد عورت کو دیکھ کر بھی گزر بسر کرتا ہے تو وہ گناہگار نہیں لیکن وہ خاتون جو ٹی وی پر آ رہی ہیں، وہ گناہگار ہے ۔
ایک لیکچر کے دوران واجد احساس نامی نوجوان نے پوچھا کہ اگر میں کسی کونقصان نہیں پہنچاتا تو پھر بھی میرا ایک عملی مذہبی انسان بننا کیوں ضروری ہے؟ اس سوال کے بعد ڈاکٹر ذاکر نائیک نے نوجوان کے مرتد ہونے کا فتویٰ دیتے ہوئے جس طرح کی گفتگو کی وہ کسی داعی کی نہیں بلکہ گلی محلوں کے مناظرے باز کی لگتی تھی۔
بعض مذہبی حلقوں کی جانب سے ذاکر نائیک کے پاکستان آنے کی پہلے دن سے مخالفت کی جارہی تھی اور کئی دانشور دورے کی ٹائمنگ پر سوالات اٹھا رہے تھے ۔ کسی نے دورے کو پاک بھارت تعلقات میں مزید تلخی پیدا ہونے کا موجب قرار دیتے ہوئے سرکاری مہمان کی حیثیت سے مدعو کرنے کی مخالفت کی لیکن ذاکر نائیک کے چاہنے والے بھی کم نہ تھے وہ ناقدین کی باتوں کو مسلکی مخالفین، لبرل اور مذہب بیزار لوگوں کا وطیرہ قرار دیتے رہے لیکن اب تو سنجیدہ پاکستانی اور ذاکر نائیک کے حمایتی بھی پوچھ رہے ہیں کہ اس بے مروت شخص کو بلانے کی ضرورت کیا تھی؟ ۔
ذاکر نائیک کو مدعو کرنا کس کا مشن تھا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن بھارتی وزارت خارجہ کا بیان دہلی کی سخت ناگواری کی نشاندہی کرتا ہے جس بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے بھارت میں انتہائی مطلوب شخص کو سرکاری مہمان کے طورپر مدعو کرکے اچھا نہیں کیا ۔ اسلام آباد کے سفارتی حلقوں نے بھارتی پیغام کو محسوس کیا اور دفتر خارجہ نے بھی ردعمل دیا، اب اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ بھارت پاکستان میں مطلوب کسی شخصیت کو دہلی میں مدعو کرسکتاہے۔ اگر بھارت نے ایسا کوئی قدم اٹھایا تو ذاکر نائیک کا دورہ ایک سفارتی کشمکش پیدا کرسکتاہے جو موجودہ صورتحال میں کسی طرح بھی پاکستان کے مفاد میں نہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں