یورپ: نومبر سے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 45 فیصد ڈیوٹی عائد
یورپی یونین نے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 45 فیصد کی بھاری ڈیوٹی عائد کرنے کے منصوبوں پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے میں جرمنی نے ڈیوٹی کے خلاف ووٹ دیا۔
یورپی یونین میں اس فیصلے کے بعد اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔یہ اقدام بیجنگ کے ساتھ ایک دہائی کے سب سے بڑے تجارتی تنازعے کا حصہ ہے۔
چینی الیکٹرک گاڑیوں پر تجویز کردہ ڈیوٹی کے نتیجے میں کار سازوں کو یورپ میں اپنی گاڑیاں لانے کے لیے اربوں ڈالر کا اضافی خرچ اٹھانا پڑے گا یہ ڈیوٹی اگلے ماہ سے پانچ سال تک وصول کی جائے گی۔
ایم جی موٹرز جو چین میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرتی ہے، نے یورپی یونین کے فیصلے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ وہ 2024 کے آخر تک اپنی الیکٹرک گاڑیوں کی قیمت میں اضافہ نہیں کریں گے۔
یورپی یونین کی تجارتی پالیسی کی نگرانی کرنے والے کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ بیجنگ کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گا، ممکنہ طور پر کم از کم قیمتیں مقرر کرنے کے سمجھوتے کے لیے گزشتہ سال، ایم جی موٹرز نے یورپ میں دو لاکھ گاڑیاں فروخت کیں اور کمپنی یورپ میں پلانٹ کھولنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
آج ہونے والی ووٹنگ میں 10 یورپی یونین کے ارکان نے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر ڈیوٹی کی حمایت کی، جبکہ 5 نے مخالفت کی اور 12 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
ڈیوٹی کو روکنے کے لیے یورپی یونین کی 65 فیصد آبادی کی نمائندگی کرنے والے 15 ارکان کے ووٹ کی ضرورت تھی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں