آئی پی پیزکیخلاف تحقیقات حتمی مرحلے میں داخل،اضافی منافع خوری کی نشاندہی
انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز ( آئی پی پیز)کے خلاف جاری تحقیقات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئیں۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے سی پیک کے تحت لگنے والے پاور پلانٹس کی اضافی منافع خوری کی نشاندہی کرلی ہے، 13 آئی پی پیز مالکان کو کل اسلام آباد طلب کر لیا جبکہ آئی پی پیز مالکان کو فنانشل رپورٹس بھی ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی پی پیز کے سینئر ایگزیکٹیوزکو مختلف شہروں میں پوچھ گچھ کے بعد اسلام آباد طلب کیا گیا ہے، آئی پی پیز مالکان کو باورکروایا جائےگا کہ ملک کو اس وقت ان کے تعاون کی ضرورت ہے۔ذرائع نے بتایا وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن محمد علی تحقیقات میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
آئی پی پیز مالکان سے 2021 میں ہونے والی تحقیقات کے طرز پر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے جبکہ تحقیقاتی ٹیم کے بااثر ارکان نے ریکارڈ اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے مختلف پلانٹس کا دورہ بھی کیا۔ذرائع کے مطابق چینی آئی پی پیز سے رعایت حاصل کرنے کے لیے حکومتی ٹیم اعلیٰ سطح پر بات کرے گی جبکہ سرکاری پاورپلانٹس کے کپیسٹی پیمنٹ اور منافع میں بھی کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں