کرنسی میں بھی جدت :پاکستان میں اب کاغذ نہیں کرنسی نوٹ چلیں گے

پاکستان میں کاغذ نہیں پلاسٹک کرنسی نوٹ آئیں گے ،سٹیٹ بینک نے نئے نوٹوں کے لئے کام شروع کر دیا ۔دس ، بیس ، پچاس ، سو ، پانچ سو ، ہزار اور پانچ ہزار کے نوٹ تبدیل ہوں گے ۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں گورنرسٹیٹ بینک نے کہا کہ پلاسٹک کے نئے کرنسی نوٹ لانے کیلیے کام کر رہے ہیں ۔ دسمبر تک تمام کرنسی نئے ڈیزائن کے مطابق متعارف کرائی جائے کی ۔کاغذ کی کرنسی کی بجائے ایک نوٹ پلاسٹک کا بھی متعارف کرایا جائے گا ۔
گورنر اسٹیٹ بنک جمیل احمد نے بریفنگ میں بتایا کہ نئے کرنسی نوٹوں میں تمام نئے فیچرز متعارف کرائے جائیں گے، پلاسٹک کرنسی کیلئے پولی مر کا پلاسٹک استعمال کیا جائے گا ۔ پلاسٹک کے نئے نوٹ لانے کے لیے کابینہ سے منظوری لی جائے ۔ پلاسٹک کرنسی کے لیے دیکھا جائے گا کہ اسکی عمر کیا ہے، اسکی فی نوٹ لاگت کیا ، پلاسٹک کرنسی کے لیےسیکیورٹی فیچر کس قدر پائیدار اور طویل ہیں ۔ ابھی ہم نے ٹیسٹ کرنا ہے، اسی لئے ابتدائی طورایک نوٹ پلاسٹک کرنسی میں متعارف کروانا چاہ رہے ہیں ۔ اگر یہ نوٹ پائیدار، سیکیورٹی فیچر لانگ ٹرم ہوئے تو ہم متعارف کروائیں ورنہ یہ شائد قابل عمل نہ ہو ۔
اجلاس میں تجویز دی گئی کہ پانچ ہزار کا نوٹ ختم کر دیا جائے ۔ رکن کمیٹی محسن عزیز نے کہا کہ پانچ ہزار روپے کا نوٹ کرپشن سمیت دیگر مسائل کی وجہ بن رہا ہے، پانچ ہزار روپے کا نوٹ ختم ہونا چاہیے، یہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا تھا ۔ اجلاس میں شریک گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پانچ ہزار روپے کے نوٹ ختم کرنے کی ابھی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے ۔ پہلے بھی تجاویز آتی رہی ہیں مگر اس تجویز کو نہیں مانا گیا ۔ اسی لئے ابھی ہم جو نئے ڈیزائن کے نوٹ لانے جارہے ہیں اس میں بھی پانچ ہزار روپے کا نوٹ شامل ہے ۔
محسن عزیز نے کہا کہ پانچ ہزار روپے کا نوٹ اگر آپ نے بند کردیا تو یقین دلاتا ہوں مارکیٹ میں یہ نوٹ3 ہزار کا فروخت ہوگا ۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اسکا غلط استعمال روکنا تو لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کا کام ہے ۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے