پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی، ہنڈریڈ انڈیکس 600 سے زائد پوائنٹس گر گیا
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کے آغاز پر غیر یقینی اور دباؤ کا ماحول رہا، جب کہ فیوچر کانٹریکٹس کے رول اوور کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 600 سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔
صبح 11 بج کر 40 منٹ پر 100 انڈیکس 148,864.19 پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو کہ 628.86 پوائنٹس یا 0.42 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ کمی ’پرافٹ ٹیکنگ‘ اور رول اوور ویک کے آغاز کی وجہ سے سامنے آئی ہے، جس ضمن میں تقریباً 77 ارب روپے مالیت کی بقیہ فیوچر پوزیشنز کو رول اوور کرنا ہے۔
رول اوور ویک دراصل وہ دورانیہ ہوتا ہے جب فیوچر ٹریڈنگ میں موجودہ معاہدے ختم کر کے اگلے مہینے کے نئے معاہدے کیے جاتے ہیں تاکہ سرمایہ کار اپنی پوزیشنز برقرار رکھ سکیں۔
کاروباری سیشن کے دوران آٹو موبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیز میں نمایاں سیلنگ پریشر دیکھا گیا، بڑی کمپنیوں جیسے حبکو، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی اور وافی کے شیئرز بھی مندی کا شکار رہے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان کی ایکوٹی مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی تھی، جب مضبوط کارپوریٹ منافع اور سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت کے باعث انڈیکس نے 151,262 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھوا اور ہفتے کے اختتام پر 149,493 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ہفتہ وار بنیادوں پر 2 فیصد اضافہ تھا۔
بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس پیر کے روز بڑھ گئیں کیونکہ سرمایہ کار امریکی سود کی شرح میں کمی کے امکانات اور امریکی کمپنی اینویڈیا کے نتائج کے منتظر ہیں، جاپان کا نکی 0.6 فیصد، جنوبی کوریا کا انڈیکس 0.7 فیصد اور آسٹریلیا کا انڈیکس 0.4 فیصد بڑھا۔
ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک انڈیکس جاپان کے علاوہ 1.1 فیصد بڑھا، جس کی قیادت چینی بلیو چپس نے کی، جو اس ماہ تقریباً 9 فیصد اوپر جا چکے ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں