چینی بحران، پی اے سی نے شوگر ملز مالکان کے نام طلب کر لیے
ملک بھر میں چینی کی قیمت اس وقت 200 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر حکومت نے نوٹس لیا اور ایکس مل ریٹ 165 روپے فی کلو جبکہ پرچون ریٹ 172 روپے مقرر کیا۔تاہم اس کے باوجود اسلام آباد سمیت ملک بھر میں چینی 195 سے 200 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔
پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارروائیوں کے باعث اب مارکیٹ میں چینی دستیاب نہیں ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ مہنگی چینی خرید کر سستی کیسے بیچیں؟
چیئرمین جنید اکبر خان کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں چینی بحران پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔اجلاس میں چینی کی امپورٹ سے متعلق ایف بی آر کا ایس آر او زیر بحث آیا، جس پر رکن کمیٹی ثناء اللہ مستی خیل نے سوال کیا کہ کن شوگر ملز مالکان کو فائدہ پہنچانے کے لیے یہ ایس آر او جاری کیا گیا؟
انہوں نے کہا کہ چینی کی فی کلو قیمت میں ایک روپے اضافے سے 44 ارب روپے کمائے جاتے ہیں۔ کئی سالوں سے چوہے بلی کا کھیل جاری ہے، پہلے چینی ایکسپورٹ کی جاتی ہے، بعد میں مہنگی ہو کر امپورٹ کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر شوگر ملز کو نقصان ہو رہا ہے تو مالکان انہیں قوم کے حوالے کر دیں، ہم چلا لیں گے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے شوگر ملز مالکان اور ڈائریکٹرز کے نام طلب کیے، لیکن سیکریٹری نے نام فراہم نہیں کیے۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں مالکان کے نام اور دیگر تفصیلات طلب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر معلومات فراہم نہ کی گئیں تو معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔
رکن کمیٹی معین عامر پیرزادہ نے کہا کہ چینی بحران کی جڑ شوگر ایڈوائزری بورڈ ہے۔ اس میں عوامی نمائندے ہونے چاہئیں، لیکن عوام یا صارفین کی نمائندگی اس بورڈ میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں وزیراعظم عوام کو لوٹ کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ ہم نے اگلے سال کی چینی قیمتیں پہلے ہی فکس کر دی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ چینی کی امپورٹ سے کتنے ڈالرز ضائع ہوں گے؟
ایف بی آر حکام نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں کمیٹی نے شوگر ملز کے نام طلب کیے تھے، جو ہم لے آئے ہیں۔ جب کمیٹی حکم دے گی تو تفصیلات فراہم کر دی جائیں گی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں