ابوظہبی کی رئیل سٹیٹ مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی، سرمایہ کار بھی خریداری کی دوڑ میں شامل
متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کی رئیل سٹیٹ مارکیٹ نے 2025 کی پہلی ششماہی میں غیر معمولی تیزی دکھائی ہے جہاں لین دین کی مالیت 51.72 ارب درہم (تقریباً 4 کھرب 14 ارب 80 کروڑ پاکستانی روپے) تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے 39 فیصد زیادہ ہے۔
ابوظہبی رئیل سٹیٹ سینٹر کے مطابق رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ میں 14 ہزار 167 سودے ہوئے جن میں سے 32.69 ارب درہم (تقریباً 2 کھرب 53 ارب 80 کروڑ روپے) کی خرید و فروخت براہِ راست ہوئی جبکہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ذریعے 19.03 ارب درہم (تقریباً 1 کھرب 47 ارب 74 کروڑ روپے) کی سرمایہ کاری کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق 85 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے ابوظہبی کی رئیل اسٹیٹ میں خریداری کی ۔روس، چین، برطانیہ، فرانس، قازقستان اور امریکا نمایاں خریدار رہے جبکہ پاکستانی اور بھارتی سرمایہ کار بھی خریداری کی دوڑ میں شامل رہے۔
سرمایہ کاروں کیلئے اولین ترجیح ابوظہبی کا علاقہ جزیرہ سعدیات رہا جہاں 9.1 ارب درہم (تقریباً 70 ارب 76 کروڑ روپے) کی پراپرٹی خریدی گئی جبکہ یاس آئی لینڈ پر 5.86 ارب درہم (تقریباً 45 ارب 40 کروڑ روپے) کے گھروں اور اپارٹمنٹس کی خریداری کی گئی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں