سپریم کورٹ ججز کی ریٹائرمنٹ عمر 68 سال کرنے کی تجویز، آئینی ترمیم آج پیش ہونے کا امکان
وزیر دفاع خواجہ آصف نے تصدیق کی ہے کہ عدلیہ سے متعلق آئینی ترمیم آج پیش کی جائے گی۔
گزشتہ روز ایک اخبار میں شائع ہونے والی خبر میں بتایا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 179 کے مطابق سپریم کورٹ کا جج 65 سال کی عمر تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا، ماسوائے اس کے کہ وہ جلد استعفیٰ دے یا آئین کے مطابق عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ آئین کے آرٹیکل 195 کے مطابق ہائیکورٹ کا جج 62 سال کی عمر تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا، الا یہ کہ وہ جلد استعفیٰ دے یا آئین کے مطابق عہدے سے ہٹا دیا جائے۔
حکومت سپریم کورٹ کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا کر 68 کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ہائیکورٹ کے ججز کے معاملے میں ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال کی جائے گی اور ایسا آئینی ترمیم سے ہی ممکن ہو گا۔
اس کے علاوہ ججز تقرری کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کا امکان ہے، جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کو ایک بنانے کی تجویزآئینی ترمیم کا حصہ ہوگی تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔
دی نیوز اور جنگ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے سے متعلق آئینی ترمیم کیلئے حکومت نے قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلی، سینیٹ میں اکثریت صرف تین ووٹوں کی دوری پر رہ گئی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس آج تین بجے اور سینیٹ کا اجلاس شام چار بجے ہوگا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں