راوی اور ستلج میں غیر معمولی سیلابی صورتحال، چناب میں پلکھو نالہ بپھر گیا، پانی وزیر آباد شہر میں داخل
حکومت پنجاب نے ضلع حافظ آباد میں شدید سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر فوج کی فوری تعیناتی کی درخواست کردی ہے، اس طرح پنجاب کا یہ آٹھواں ضلع بن گیا ہے جہاں ضلعی انتظامیہ کی درخواست پر ریلیف سرگرمیوں کے لیے فوجی دستے طلب کیے گئے ہیں۔
فوج کو اس سے قبل لاہور، قصور، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، اوکاڑہ اور سرگودھا میں بھی تعینات کیا جا چکا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق ریسکیو 1122، پولیس اور سول ڈیفنس پہلے ہی متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں لیکن صورتحال کی سنگینی کے باعث وسائل ناکافی ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ لاہور اور پنجاب کے دیگر اضلاع کو انتہائی بلند سیلابی خطرہ لاحق ہے، بھارت کی جانب سے ڈیموں کے کھولنے اور موسلادھار بارشوں نے دریاؤں کی سطح کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔
دریائے راوی، چناب اور ستلج میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے، دریائے راوی جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 26 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے جس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، اسی دریا کا حفاظتی بند شکرگڑھ کے قریب بھیکو چک پر ٹوٹ گیا، جس سے ہریالی، ممکہ، نوشہرہ اور دیگر علاقے زیرِ آب آ گئے۔
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے مقامات پر پانی کا بہاؤ ساڑھے 6 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق اس کی گنجائش ساڑھے 11 لاکھ کیوسک ہے۔ کمشنرگوجرانوالہ نوید حیدر شیرازی کے مطابق اگر بہاؤ ساڑھے 10 لاکھ کیوسک سے بڑھا تو شگاف ڈالنے کے لیے پہلے سے اہداف مقرر کر لیے گئے ہیں تاکہ بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
سیلابی ریلوں نے نارووال، سیالکوٹ اور شکرگڑھ کے نشیبی دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، ظفر وال کے قریب نلہ ڈیک کے دباؤ سے ہنجلی پل گرنے سے درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے، بہاولپور کی تحصیل خیرپور ٹامے والی میں کھڑی فصلوں، سرکاری اسکولوں اور مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ادھر دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا پر ڈھائی لاکھ کیوسک سے زائد پانی موجود ہے جو آئندہ بارشوں کے باعث مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہونے سے ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آ چکی ہے اور فصلیں برباد ہو رہی ہیں۔
بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے سیلابی ریلے نے گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، سکھوں کے اس مقدس مقام کی دیواریں پانی میں ڈوب گئیں، جس سے نہ صرف عمارت کو نقصان پہنچا ہے بلکہ مقامی اور سکھ برادری میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے۔
پنجاب حکومت نے لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال اور اوکاڑہ میں فوج کی مدد طلب کر لی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریسکیو 1122، پولیس اور سول ڈیفنس پہلے ہی متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں لیکن صورتحال کی سنگینی کے باعث وسائل ناکافی ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں کشتیوں کی مدد سے دیہات کے باسیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔ اب تک ایک لاکھ 74 ہزار سے زائد افراد کو انخلا کے بعد ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا جا چکا ہے، جہاں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑنے کا امکان ہے۔ اطلاعات کے مطابق تھیئن ڈیم 97 فیصد بھر چکا ہے اور کسی بھی وقت مزید پانی چھوڑا جا سکتا ہے۔ اگر بھارت کی جانب سے اضافی تین لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا تو پنجاب کے مزید اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں