صوابی میں کلاؤڈ برسٹ اور لینڈسلائیڈنگ سے ہر طرف تباہی، گھر ڈوب گئے، ہلا کتیں 650 ہو گئی

صوابی میں کلاؤڈ برسٹ اور لینڈسلائیڈنگ نے ہر طرف تباہی مچا دی، سیلابی ریلوں کے باعث کئی گھر ڈوب گئے جبکہ متعدد افراد ریلے میں بہہ گئے۔

ڈپٹی کمشنر صوابی نصراللہ خان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دالوڑی گاؤں میں کلاؤڈ برسٹ سے کئی گھر ڈوب گئے ہیں، کلاؤڈ برسٹ سے سیلابی ریلے کا بہاؤ بہت تیز ہے، پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے مختلف مقامات پر لینڈسلائیڈنگ بھی ہوئی ہے۔انتظامیہ، ریسکیو اور دیگر امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، ہری پور اور مردان سے بھی ریسکیو ٹیموں کو بلا لیا گیا ہے۔

دوسری جانب شدید بارش کے باعث سوات کے علاقے ظاہر آباد، شہید آباد، مکان باغ، ملا بابا، محلہ بنگلادیش، رحیم آباد، کوکورائی، منگلور، بشنبڑ اور شگئی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ مکان باغ، سیدو شریف روڈ اور ملا بابا سمیت کئی علاقوں میں 4 روز سے بجلی بند ہے، 4 روز بعد بھی ملا بابا روڈ ٹریفک کے لیے بحال نہ ہو سکی، پینے کا صاف پانی نایاب ہو چکا ہے جبکہ نکاسی نہ ہونے سے معمولات زندگی شدید متاثر ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق  سوات میں بارش سے 400 مکانات متاثر ہوئے، کئی گھر مکمل طور یر تباہ ہو گئے، 124 تعلیمی ادارے متاثر ہوئے جبکہ 3 مکمل تباہ ہوئے۔15 اگست کو کلاوڈ برسٹ کے بعد طوفانی بارش سے 22 افراد جاں بحق ہوئے، متاثرہ علاقوں تک رسائی اورمدد کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ مون سون بارشوں میں اب تک 660 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جس میں سے 392 اموات خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوئیں۔ اس کے علاوہ پنجاب میں 164، سندھ میں 29، بلوچستان میں 20، گلگت بلتستان میں 32، آزاد کشمیر میں 15 اور اسلام آباد میں 8 افراد جاں بحق ہوئے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے