اے این پی کو بڑا دھچکا،ثمر بلور ن لیگ میں شامل، ایم این اے بنانے کا فیصلہ

پشاور:عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) کی پہچان اور  بلور خاندان سے تعلق رکھنے والی  سابق رکن صوبائی اسمبلی ثمربلور نے (ن) لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔

ثمرہارون بلوراے این پی کی   صوبائی سیکرٹری اطلاعات بھی رہ چکی ہیں ۔

ثمر ہارون بلور نے عوامی نیشنل پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان  وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کے دوران کیا اس موقع پرعوامی نیشنل پارٹی کے سابق ترجمان زاہد خان،سعیدہ جمشید اور جمشید مہمند بھی موجود تھے۔

وفاقی وزیر امیر مقام ،مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثنااللہ،سردار یوسف، رانا مبشر اور رہنما ن لیگ مرتضیٰ جاوید عباسی بھی ملاقات میں شریک تھے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ثمر بلورکےمسلم لیگ ن میں شامل ہونےسےصوبےمیں پارٹی مضبوط ہوگی۔

ثمر بلور کا سیاسی پس منظر

ثمربلور اے این پی کے شہید رہنما ہارون بشیر بلور کی بیوہ ہیں، وہ  2018 میں  ضمنی انتخاب جیت کر پہلی بار صوبائی اسمبلی کی رکن بنیں، شہید ہارون بلور کی بیوہ ہونے کے ناطے دوسری سیاسی جماعتوں نے ثمربلور کے مقابلے میں اپنے امیدوار کھڑے نہیں کئے تھے اور جو لوگ الیکشن میں حصہ لے بھی رہے تھے ان کو بھی عوام کی حمایت حاصل نہیں تھی ، ثمر بلور کو الیکشن میں ملنے والی کامیابی کو پشاور کے لوگوں کی سیاسی رواداری قراردیا جاتا ہے ۔

ثمر بلور 24 اکتوبر 2018 سے 18 جنوری 2023 تک (تقریباً 4 سال اور 3 مہینے) اسمبلی کی فعال رکن رہیں،  جون 2020 میں انہیں خیبر پختونخوا اے این پی کی صوبائی سیکرٹری انفارمیشن مقرر کیا گیا ۔

وہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی پہلی خاتون ایم پی اے بنیں جو عوامی نشست سے منتخب ہوئیں، یہ اعزاز پشاور میں 16 سال بعد پہلی بار کسی خاتون کو ملا تھا ۔

ثمر بلور اور اے این پی میں جھگڑا کیا تھا؟ 

پشاور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی لحاظ علی کے مطابق ثمر ہارون بلور کے اپنی پارٹی کے ساتھ کچھ اختلافات کافی عرصہ سے چلے آرہے تھے ، ثمر بلور پارٹی میں کوئی عہدہ نہ ملنے پر ناراض تھیں اور زیادہ اطلاعات یہ تھیں کہ وہ پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کریں گی لیکن پیپلزپارٹی کی طرف سے مثبت جواب نہ ملنے پران کے پاس مسلم لیگ ن میں شمولیت کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔

لحاظ علی کا مزید کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی اور بلور خاندان کو ایک دوسرے کی ضرورت تھی اسی ضرورت کے تحت فریقین کا آپس میں تعلق رہا اور یہ مفادات کا تعلق تھا اور مفادات کے گرد ہی گھومتا رہا۔

مسلم لیگ (ن) نے  پشاور سے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والی ثمر بلور کو رکن قومی اسمبلی بنانے کا فیصلہ کرلیا۔وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے اطلاعات و نشریات اختیارولی نے تصدیق کردی۔ انہوں نے کہا کہ ایک نشست ثمر بلور اور دوسری نشست ایم پی اے جمشید مہمند کی اہلیہ کو دی جائے گی۔

ثمر بلور اور اے این پی میں جھگڑا کیا تھا؟ 

دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ثمر ہارون بلور کی جانب سے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ حیران کن نہیں، متعدد ساتھیوں نے پہلے ہی اس امکان سے آگاہ کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آج ثمر بی بی کو ایک ایم این اے کی نشست ملی ہے تو وہ صرف شہید بشیر احمد بلور اور شہید ہارون احمد بلور کے لہو کی بدولت ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج جو فیصلہ سامنے آیا، وہ حاجی صاحب کا نہیں بلکہ عرفان اللہ مروت جیسے فرد کا ہے، جس کی سیاست کا نہ کوئی نظریہ ہے نہ وزن۔ایمل ولی خان نے اعلان کیا کہ شہید ہارون احمد بلور کی برسی کل صبح 11 بجے ان کی قبر پر عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی،انہوں نے  تمام کارکنان سے بھرپور شرکت کی اپیل کی۔

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے