فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کردیا گیا، عمران خان
اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جنرل فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا، فوج فیض سے تفتیش کررہی ہے، یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے مجھے اس سے کیا؟
عمران خان نے کہا کہ جنرل فیض حمید کا احتساب کررہے ہیں اچھی بات ہے لیکن پھر یہ سب کا احتساب کریں، آئی بی کی رپورٹس تھیں موجودہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ہر وقت جنرل باجوہ کے پاس بیٹھے رہتے تھے۔
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ جنرل باجوہ نے نواز شریف اور شہباز شریف کے کہنے پر جنرل فیض کو ہٹایا تھا، جنرل فیض حمید کو ہٹانے پر میری جنرل باجوہ سے سخت تلخ کلامی ہوئی تھی، وزیردفاع نے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کی بات کر کے میرے مؤقف کی تائید کی ہے۔
بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلہ پرعمل نہ کرکے یہ آئین کی تیسری مرتبہ خلاف ورزی کریں گے، پی ٹی ائی کو مخصوص نشستیں نہ دینے اور آئین کی خلاف ورزی پرمیں پارٹی کو ابھی سے تیار کررہا ہوں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں