معاشی ترقی کے لیے دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ناگزیر ہو چکا : وزیر اعظم شہباز شریف

وزیر اعظم  شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ناگزیر ہے، حکومت اور افواج پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، بلیو اکنامی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، دوست ملک چین بھی پاکستان کے گہرے پانیوں میں وسائل کی تلاش میں پاکستان کی مدد کے لیے تیار ہے۔

پاکستان نیوی وار کالج میں ساتویں میری ٹائم سکیورٹی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم  نے  کہا کہ اس وقت ملک کو دہشتگردی کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے،  2018 میں ہم نے دہشتگردی کا خاتمہ کر دیا تھا، لیکن بدقسمتی سے دہشتگردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت معاشی چیلنجز کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے چیلنجز کا سامنا ہے، پاک افواج سرحدوں اور پاک نیوی گہرے پانیوں کی حفاظت کر کے ملک کو محفوظ بنا رہی ہیں،  ہم اگر ملک کی معیشت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں سب سے پہلے ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو ختم کرنا ہو گا۔

شہباز شریف  نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کی وجہ سے بھاری قیمت چکائی ہے اور اب بھی چکا رہا ہے، ہشتگردی سے 80 ہزار لوگ شہید ہوئے جبکہ 3 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ملک میں فول پروف سکیورٹی چاہتے ہیں تاکہ لوگ اپنی صلاحیتوں سے استفادہ کر سکیں، پاک بحریہ ہر طرح کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے ہمارا عزم غیر متزلزل ہے،  ہم نے 2018 میں ملک سے دہشتگردی کاخاتمہ کر دیا تھا، بد قسمتی سے دہشتگردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، دہشتگردی ہماری معاشی ترقی کے لیے ناسور کی حیثیت رکھتی ہے،

شہباز شریف نے کہا کہ اب دوست ملک چین بھی بحری شعبے میں پاکستان سے بھرپور تعاون کے لیے تیار ہے اور ہمیں ان کے لیے فول پروف سکیورٹی فراہم کرنا ہو گی اور پاکستان کی شپنگ صورت حال پر توجہ دینا ہو گی۔کراچی پورٹ ٹرسٹ کو جدید تقاضوں کے مطابق لوڈنگ اور ان لوڈنگ پر توجہ دینا ہو گی، کراچی پورٹ ٹرسٹ کا کام رئیل اسٹیٹ نہیں، کاروبار کی سہولت دینا ہے۔ پاکستان شپنگ کارپوریشن کا آج جو حال ہے، ہمیں اس کا جائزہ لینا ہو گا۔کے پی ٹی کا کام رئیل اسٹیٹ کا نہیں، کاروبار کے لیے سہولیات کی فراہمی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نیوی بلیو اکنامی کے لیے اقدامات کر رہی ہے، موجودہ دور میں کسی بھی معیشت کے لیے ’بلیو اکنامی‘ مرکزی حیثیت رکھتی ہے، چند دن قبل چین سے پیغام ملا کہ ایک وفد پاکستان بھیج رہے ہیں جو گہرے پانیوں میں وسائل کی تلاش میں پاکستان کی مدد کرے گا، یہ وفد جہاز سازی میں پاکستان کی مدد کے علاوہ بندرگاہوں کو سافٹ بنانے اور آپریشنل بنانے میں بھی پاکستان کی مدد کرے گا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے