پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے درمیان آئینی ترمیم پر 100 فیصد اتفاق ہو چکا ہے: بلاول بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان آئینی ترمیم پر 100 فیصد اتفاق ہو چکا ہے، مولانا فضل الرحمن کے مسودے کو من وعن تسلیم کیا گیا ۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم پارلیمان کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے میری بات چیت اور مشاورت جاری ہے، میری خواہش ہے کہ مولانا فضل الرحمن خود مسودہ پارلیمان میں پیش کریں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمعیت علمائے اسلام کا آئینی ترمیم کا مسودہ من و عن تسلیم کیا ہے، حتیٰ کہ کوئی ’کوما‘ ’نکتہ‘ بھی تبدیل نہیں کیا، ہم نے سیاسی طور پر جو کر سکتے تھے ہم نے کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ثابت کرے کہ وہ آئینی ترمیم میں سنجیدہ ہے، ہم چاہتے ہیں پی ٹی آئی بھی ہمارے ساتھ چلے اور آئینی ترمیم پر اپنی رائے دے اور بعد میں ’رونا دھونا‘ نہ کرے، ہمیں امید ہے کہ مولانا فضل الرحمن تحریک انصاف کو راضی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل سے متعلق بھی بل میں تبدیلیاں ہیں۔ مولانا فضل الرحمن جو مجلس شوریٰ میں چیزیں شامل کریں گے اس پر اتفاق کریں گے۔ پی ٹی آئی نے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کی۔ شکر ہے یہ ملاقات ہو گئی، امید ہے مولانا تحریک انصاف کو بھی قائل کر لیں گے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عدالتی اصلاحات پر مولانا فضل الرحمٰن سے بات چیت کے لیے مسلسل رابطہ ہے، ہمارے درمیان آئینی بینچزپراتفاق ہوگیا ہے، بہت طویل مشاورتی عمل کے بعد آئین سازی کا عمل آگے بڑھتا جارہا ہے، ہمیں اس میں کامیابی مل رہی ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سیاسی اتفاق رائے کے لیے ہم نے دن رات کام کیا جس کا مقصد آئین اورپارلیمنٹ کو مزید طاقتوربنانا ہے، جس طریقے سے مولانا فضل الرحمٰن چاہتے تھے اس طرح مسودہ بنایا ہے، جو ڈرافٹ ہمارا ہے وہ مولانا فضل الرحمٰن نے خود لکھا ہے اس لیے چاہتا ہوں وہ خود پارلیمنٹ میں اسے پیش کریں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں