بھارتی عالمی دہشتگردی بے نقاب ، کینیڈا کی 6بھارتی سفارتکار ملک بدر کرنے کی مکمل کہانی سامنے آگئی 

غیر ملکی سرزمین پر بھارت کی غیر قانونی اور مجرمانہ سرگرمیاں ایک بار پھر منظر عام پر آگئیں۔کینیڈا نے 6 بھارتی سفارت کاروں کو خفیہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر ملک سے بے دخل کردیا۔بے دخل ہونے والوں میں کینیڈا میں بھارتی ہائی کمشنر سنجے کمار ورما اور دیگر سفارتکار اور عہدیداران شامل ہیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق پولیس نے ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر 14 اکتوبر کو 6 بھارتی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا۔ کینیڈین پولیس کو مودی سرکار کی سکھوں کیخلاف پرتشدد مہم میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد حاصل ہوئے تھے ۔

کینیڈین پولیس کمشنر مائیک ڈوہیم نے بتایا کہ “تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کینیڈا میں مقیم بھارتی سفارت کار اور قونصلر اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خفیہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں”ان سرگرمیوں کے دوران بھارتی سفارت کار مودی سرکار کے لیے اپنے ایجنٹس کے ذریعے معلومات اکٹھا کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شواہد سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ بھارتی ایجنٹس کے ذریعے کینیڈا میں مختلف اداروں کو معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ افراد اور اداروں کے ساتھ بھارتی حکومت کے لئے کام کرنے کے لیے زبردستی کی گئی اور دھمکیاں دی گئیں۔جمع کی گئی معلومات کو جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے اراکین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

کمشنر کے مطابق تمام ثبوت براہ راست بھارتی حکومت کو پیش کیے گئے تھے جس میں تشدد کو روکنے کے لیے ان کے تعاون پر زور دیا گیا تھا۔ بھارت سے کینیڈا کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔

کمشنر مائیک ڈوہیم کا کہنا تھا کہ کینیڈین پولیس نے ایسے شواہد حاصل کیے ہیں جو بہت سنگین مسائل کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ خالستانی رہنماؤں کے قتل کے مقدمات سے متعلق بھی شواہد حاصل ہوئے ہیں۔

بھارت میں کینیڈا کے ڈپٹی ہائی کمشنر سٹیورٹ ویلر کا کہنا تھا کہ کینیڈا نے بھارتی حکومت کے ایجنٹس کی مجرمانہ کاروائیوں اور کینیڈین شہری کے قتل کے ناقابل تردید ثبوت فراہم کیے ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے