کچھوے کی خوبی یہ ہے کہ وہ جذباتی نہیں ہوتا!

خرگوش بہت بزدل جانور ہوتا ہے۔ تھوڑی سی آواز پر دبک جاتا ہے۔ اس کا دماغ کانوں میں ہوتا ہے۔ذراخطرہ محسوس کرے تو کان کھڑے کرکے زمین کے ساتھ چپک جاتا ہے۔ رفتار سے زیادہ اہم ، منزل کی طرف صحیح سمت میں مثبت قدم ہوتا ہے۔ کچھوا سست رفتار سہی، انتھک اور یکسو ہوتا ہے، غیر محتاط نہیں!
”آپ نے کچھوے اور خرگوش کی کہانی سنی ہے؟”
”سنی کیا بار ہا پڑھی ہے اور کئی بار امتحانات کے پرچوں میں لکھ بھی چکے ہیں۔۔۔اب تو یہ کہانی نہیں چلتی۔ اب کچھوا نہیں پہنچتا، خرگوش ہی بازی لے جاتا ہے، اس نے اپنی سپیڈ بڑھا لی ہے جب کہ کچھوا اپنی پرانی رفتار پر جماہوا ہے۔ زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے، کچھوے کے بس کی بات نہیں کہ وہ دنیا کی رفتار کا ساتھ دے سکے۔ یہاں تو سرعت سے چلنا پڑتا ہے ورنہ پسماندگی مقدر ٹھہرتی ہے۔ "
”یہ بات تو آپ کی ٹھیک لگتی ہے، ویسے آپ کو ان دونوں میں سے کون پسند ہے؟”
”اس دور میں کچھوے کو کون پسند کرے گا ۔ویسے بھی مجھے کراہت آتی ہے اس سے، کہیں دیکھ لوں تو اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک وہ یا میں ایک دوسرے سے اوجھل نہ ہوجائیں۔مجھے تو خرگوش پسند ہے، صاف ستھرا نفیس جانور ہے۔ ہلکا پھلکا اور تیز طرار، ایسے چلتا ہے جیسے زمانے کو پیچھے پھینک رہا ہو۔کچھوے کی رفتار سے تو یوں لگتا ہے جیسے ساری دنیا کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو…خرگوش بہت چست و چالاک ہوتا ہے ، چوکنا اور محتاط!”
”ویسے آپ غیر ضروری طور پر خرگوش سے متاثر ہوتے جارہے ہیں ۔ حالانکہ یہ بہت بزدل جانور ہوتا ہے، جس کے لئے آپ چوکنا اور محتاط کا پرفریب لقب استعمال کررہے ہیں۔ تھوڑی سی آوازسے دبک جاتاہے، ذراخطرہ محسوس کرے تو کان کھڑے کرکے زمین کے ساتھ چپک جاتا ہے، یا پھر اپنی بل میں جا گھستا ہے، بل بھی وہ جو زمین میں ایک کھلے گڑھے کی صورت میں ہوتی ہے۔ اس گڑھے تک زمین کی اوپری سطح سے کئی راستے چھوٹی چھوٹی سرنگوں کی شکل میں آتے ہیں۔ یہ اہتمام خرگوش کی بزدلی کی وجہ سے ہے، تاکہ جس طرف سے ذرا بھاگے، زمین میں گھسنے کا راستہ اسے مل جائے ۔ خرگوش عقل سے بھی پیدل ہوتا ہے اسی لئے اس خر…گوش کہتے ہیں۔ اس کا دماغ اس کے کانوںمیں ہوتا ہے۔ اور اس کے کان گدھے کے کانوں جیسے ہوتے ہیں۔ یہ ہر فیصلہ آواز سن کر کرتا ہے، لمحاتی تاثرات کی بنیاد پر۔”
”یہ بھی محض دھوکہ ہے، بے مقصد اور بے وجہ سی چالاکیاں توچھچھورے پن کی علامت ہوا کرتی ہیں۔ تامل اور متانت سنجیدہ فکر کے اظہار ہیں۔ تیز چلنے سے سفر کم ہوتا ہے اور تھکاوٹ زیادہ، پھر راستے میں سونا پڑتا ہے۔ نیند، غفلت کی علامت ہوتی ہے یا تھکاوٹ کا شاخسانہ……خرگوش کی پھرتی لمحاتی اثرات کی پیروکار ہوتی ہے اور اس کی حرکت وقتی خطرات سے خوف کا نتیجہ …اس کی کوئی کمٹمنٹ نہیں ہوتی، لہٰذا یہ مستقل مزاجی سے محروم ہوتاہے۔ ایک لمحے کی تیزی، دوسرے لمحے سستی، کیسی سطحی چیزیں پسند ہیں آپ کو!”
”کمال ہے بھئی، آپ کچھوے جیسی قبیح اور مکروہ چیز کو ترجیح دے رہے ہیں، جو سستی اور کاہلی کی علامت کے طور پر مشہور ہے۔ کیسا بے وضع جانور ہے یہ ، بے حسی کا لبادہ اوڑھے، ڈھٹائی کے آہنی خول میں بند، جسم کا ہر حصہ دوسرے سے زیادہ بدصورت ۔ اوپر سے بے انتہا سخت ، اندر سے کمزور و ناتواں ، منافقوں کی طرح گردن نکال کر حالات کا جائزہ لیتا ہے۔ تھوڑ اسا چلنے کے بعد آہٹ محسوس ہونے پر بے حس و حرکت ہوجاتا ہے،  آپ پاؤں کی ٹھوکر لگاکردیکھیں تو ایسے لگے جیسے بس خول ہی ہے اندر کچھ بھی نہیں۔”
”کچھوے کی خوبی یہ ہے کہ وہ جذباتی نہیں ہوتا۔ سنبھل سنبھل کے قدم رکھتا ہے، جلد بازی سے احتراز کرتا ہے، حالات کا جائزہ لے کر قدم اٹھاتا ہے ۔ حالات ناسازگارہوں تو فطرت کے فراہم کردہ حفاظتی انتظام میں اپنے آپ کو محفوظ کرلیتا ہے۔ سست روی میں وہ نقصان نہیں جو غلط سمت میں تیزرفتاری سے سفر کرنے میں ہے۔رفتار سے زیادہ اہم یہ ہے کہ صحیح منزل کی طرف، صحیح سمت میں، قدم مسلسل بڑھتے رہیں۔ کچھوا ریاکاری کا قائل نہیں ہوتا وہ اس اصول پر نہیں چلتا کہ مصروف نظر آؤ، کرو کچھ بھی نہیں۔ وہ تو بردبار ہوتا ہے، صبر آزما فاصلے طے کرجاتا ہے، اسے لمحے لمحے کارکنا اور سستانا اچھا نہیں لگتا۔ یکسوئی کے ساتھ،  وہ مسلسل حرکت میں رہتے ہوئے بہت آگے نکل جاتا ہے۔ وہ انتھک ہوتا ہے، غیر محتاط نہیں۔”
”لیکن اس جمود اور منافقت کا کیا علاج ہے؟”
”منافقت کیسی؟آپ نے اسے کبھی کسی کو دھوکہ دیتے دیکھا ہے؟ کیا وہ مفادات کی تجوریاں بھرتا ہے؟ یہ تو درویش قسم کا جانور ہے، حالات کی گرمی سردی ہمت اور حوصلے سے برداشت کرجاتا ہے۔ نزاکت حالات کے تحت حکمت عملی تبدیل کرنے کو آپ جمود کہتے ہیں کیا؟ نازک اور قابل حفاظت حصوں پر، اپنے فطری لباس اور قدرتی ڈھال کا استعمال کرنا منافقت ہے؟ کچھوے کے ساتھ خواہ مخواہ الجھنے والے، اسے سرد مہری کا طعنہ دیتے ہیں حالانکہ وہ ایسی صورت حال میں، صرف ردعمل کے کسی بھونڈے اظہار سے بچنے کی کوشش کررہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے کام سے کام رکھتا ہے اور رستے میں آنے والی غیر متعلقہ رکاوٹوں سے الجھ کر وقت اور توانائی ضائع نہیں کرتا۔اسے منزل پر پہنچنے سے زیادہ محبت، مسلسل سفر کے ساتھ ہے۔ یہی ارتقاء ، ترقی اور بڑھوتری کا اصول ہے!”
”ہم تو تیزی و طراری کو پسند کرتے ہیں۔ تیز حرکت تھوڑا وقت اور زیادہ کام…اسے ہم انقلاب کہتے ہیں…زیادہ وقت ، تھوڑا کام اور سست رفتار…آپ اسے ارتقاء کہتے ہیں…زمین کی سطح سے گھسٹ کر،رینگتے ہوئے چلنے سے بہتر ہے زمین کے اوپر یا ہواؤں اور فضاؤں میں اچھلنا ، کودنا اور جھپٹنا و پلٹنا ۔ بس بجلیاں کوندجانی چا ہئییں۔ شرارے پھوٹنے لگیں، طوفان! دہشت !انقلاب!”
”  دیکھئے! ایسے تو فشار خون کا خطرہ ہے، انقلاب کی بجائے اختلاج قلب کا اندیشہ بڑھ جائے گا…جذبہ قابل قدر ہے مگر جذباتی ہونا قابل گرفت…یہ کوندنے والی بجلیاں اور پھوٹنے والے شرارے دوسرے کے نشیمن کے ساتھ، اپنے گھروندوں کو بھی جلاکر بھسم کردیتے ہیں۔ بجلی کی چمک، روشنی مہیاکرتی ہے اور اس کے لشکارے نگاہیں روشن کردیتے ہیں مگر… اس کی اپنی آنکھیں نہیں ہوتیں، اس کی کڑک اندھی ہوتی ہے اور یہ تباہی بے شعوری میں کر جاتی ہے۔ شرارے جلاکر راکھ تو کرسکتے ہیں مگر یہ اپنے اور غیر کی تمیز سے عاری ہوتے ہیں… جھپٹنا اور پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا، شکاری ذہنیت کی علامتیں ہیں۔ ان حرکتوں سے ہوس رانی کی بوآتی ہے! انقلاب نہ تو اچھل کود کا نام ہے اور نہ ہی ذہنی و جسمانی عیاشی کا۔۔۔انقلاب کے جنون میں حرص و ہوس درآنے سے فتنہ برپا ہو جاتا ہے…ایسے انقلاب، فساد سے شروع فساد پر ختم ہوجاتے ہیں۔انقلاب وہ جو ارتقاء کے ذریعے برپا ہوتا ہے۔ ایک مثبت تبدیلی جو مرحلہ وار اور صحیح سمت میں ہو ۔ سہج پکے سو میٹھا ہو!”

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے