10ٹیلی کام کمپنیوں کو 42ارب روپے واجبات کی چھوٹ ، وزیر اعظم کا سخت ایکشن، سیکرٹری آئی ٹی عہدے سے فارغ
10ٹیلی کام کمپنیوں کو 42ارب روپے واجبات کی چھوٹ دینے پر بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے نوٹس پر وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اپنے احکامات واپس لے لئے جبکہ وزیراعظم نے حساس ادارے کی رپورٹ سیکرٹری آئی ٹی محمد محمود کوعہدے سےہٹادیا۔

موصول دستاویز کے مطابق وزارت انفارمیشن ٹیکنالوی نے 10وائرلیس لوکل لوپ اور ایل ڈی ائی ٹیلی کام کمپنیوں کے لائسنس تجدید کے معاملے پر چند روز قبل پاکستان ٹیلی کو اتھارٹی ایک خط لکھا تھا جس کے تحت کمپنیوں کے ذمے 42 ارب روپے سے زائد واجبات کی وصولی کے بغیر انکے لائسنس میں توسیع ہوجانا تھی تاہم حساس ادارے کی رپورٹ پر وزیراعظم پاکستان نے فوری کاروائی کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی تھی اور اسی سلسلے میں گزشتہ روز سیکرٹری ائی ٹی اینڈ ٹیلی کام کو بھی عہدے سے فوری طور پر ہٹا دیا گیا تھا۔

وزیراعظم کے نوٹس اوروزارت قانون کی رائے کے بعد وزارت آئی ٹی اپنا خط واپس لے لیا۔ذرائع کے مطابق وائرلیس لوکل لوپ اور ایل ڈی ائی ٹیلی کام کمپنیوں کا اربوں بچانے کا پلان ناکام ہوگیا ہے۔ 26اگست تک 10میں سے 8کمپنیوں کے لائسنس کی میعاد ختم ہورہی ہے جس کی توسیع ناگزیز ہے۔ 2ٹیلی کام کمپنیوں نے لائسنس کی رواں ماہ ختم ہوگئی ہے مگر کام بدستورجاری ہے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے پی ٹی اے کو تجدیدی احکامات ارسال کردئیے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں