پاکستان اور عمان کا افرادی قوت کے تبادلے کا عمل آسان بنانے پر اتفاق
سمندر پار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کے وزیر چوہدری سالک حسین نے عمان کے تین روزہ دورے کے دوران عمان کے وزیر برائے افرادی قوت ڈاکٹر مہاد بن سعید بن علی باوین سے ملاقات کی ہے ۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے لیبر اور افرادی قوت کے تبادلے سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا جس کے ذریعے افرادی قوت بھجوانے کا عمل مزید آسان بنایا جائے گا۔ وفاقی وزیر چودھری سالک حسین نے عمانی ہم منصب کو پاکستانی کارکنوں کی امیگریشن کے عمل کو بہتر بنانے، پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے اور پاکستانی افرادی قوت کی بیرون ملک مارکیٹنگ کے لیے کی جانے والی اہم اصلاحات سے آگاہ کیا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بعد عمان پاکستانی افرادی قوت کا تیسرا سب سے بڑا آجر ملک ہے ۔ عمان میں تقریباً تین لاکھ 60 ہزار پاکستانی کام کررہے ہیں۔ پاکستان کو عمان سے ہر سال 1 بلین ڈالر سے زیادہ کی ترسیلات زر موصول ہوتی ہیں اور سمندر پار پاکستانی پاکستان کے زرمبادلہ میں بہت زیادہ حصہ ڈالتے ہیں۔
عمان میں زیادہ تر پاکستانی تعمیرات، تیل اور گیس، تیار کرنےکی صنعت، نقل وحمل، تھوک اور پرچون کے شعبوں میں ملازم ہیں۔ پاکستانی صحت، تدریس، مہمان نوازی، بینکنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت پاکستان بیرون ملک جانے والے تمام ورکرز کے لیے قبل از روانگی تربیتی پروگرام شروع کرنے جا رہی ہے جس میں انہیں میزبان ملک کے لیبر قوانین، ورکرز کے حقوق و فرائض، میزبان کی ثقافتی حساسیت کے بارے میں آگاہی دی جائے گی۔
اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کے ذریعے پاکستان سے تربیت یافتہ افرادی قوت کو عمان میں بھیجا جائے گا ۔
اس موقع پر عمان کے وزیر برائے افرادی قوت ڈاکٹر مہاد بن سعید نے کہا کہ پاکستان اور عمان کے درمیان انتہائی خوشگوار تعلقات ہیں ۔ پاکستانی ،عمان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ عمان میں کارکنوں کی نقل و حمل کے عمل کو بہتر اور اس میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے اقدامات اٹھائیں گے ۔
ملاقات کے دوران چودھری سالک حسین نے عمانی وزیر کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور ہنر مندی کے فروغ کے مراکز میں سرمایہ کاری کی درخواست کی ۔
اس موقع پر چودھری سالک حسین نے کہا کہ مسقط میں پاکستان انٹرنیشنل سکول کی نئی برانچ کا افتتاح بھی کیا جائے گا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں