حزب اللہ کا تل ابیب کے قریب موساد کے ہیڈ کوارٹر پر میزائل حملہ
حزب اللہ نے پہلی بار تل ابیب کے قریب واقع اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ہیڈ کوارٹر پر میزائل حملہ کیا ہے،اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب لبنان کی حزب اللہ نے وسطی اسرائیل کو نشانہ بنایا ۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ بدھ کو لبنان کی حزب اللہ نے تل ابیب کے قریب موساد کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بناتے ہوئے بیلسٹک میزائل داغا ہے۔ بلیسٹک میزائل کے اسرائیل میں داخل ہوتے ہی اس وقت سائرن بجنا شروع ہو گئے جب اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل کو اسرائیل کی طرف بڑھتے ہوئے سراغ لگا لیا۔

حزب اللہ کا کہنا ہے کہ جس عمارت کو نشانہ بنایا گیا وہ وہ جگہ تھی جہاں اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی نے پیجرز اور دیگر وائرلیس آلات کا استعمال کرتے ہوئے حالیہ حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔
یہ نئی صورت حال ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل کی جانب سے لبنان پر بمباری کا سلسلہ شروع کیا جا چکا ہے جس میں کم از کم 500 افراد شہید اور ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے جب اکتوبر میں غزہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی شروع ہونے کے بعد حزب اللہ نے بیلسٹک میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلامک مزاحمتی تحریک نے بدھ کی صبح ساڑھے 6 بجے ‘قادر 1’ بیلسٹک میزائل داغا جس میں تل ابیب کے مضافات میں موساد کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ہیڈکوارٹر حزب اللہ رہنماؤں کے قتل، پیجروں اور وائرلیس ڈیوائسز کے دھماکے کرنے کا ذمہ دار ہے۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ غزہ کے عوام کی حمایت اور لبنان اور اس کے عوام کے دفاع میں کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب لبنان سے داغا جانے والا میزائل وسطی اسرائیل تک پہنچا ہے۔

اسرائیل میں کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے اور فوج کا کہنا ہے کہ وسطی اسرائیل کے لیے شہری دفاع کی ہدایات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
اسرائیلی فضائیہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ اس کے طیاروں نے اس لانچر کو نشانہ بنایا ہے جس سے میزائل لبنان سے نافخیا کی جانب داغا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے بدھ کو اطلاع دی تھی کہ حزب اللہ نے مقبوضہ شام کے علاقے گولان کی پہاڑیوں اور شمالی اسرائیل میں ماؤنٹ کارمیل کے قریب بھی حملے کیے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دفاعی نظام نے راکٹ اور ڈرون حملوں کو روکا ہے۔

ادھر عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ فائر کرنا تیز کر دیا ہے اور تل ابیب پر داغے جانے والے میزائل کا مقصد بھی اسرائیل کو ایک پیغام دینا تھا کہ وہ یہ بھی کر سکتے ہیں۔ حزب اللہ کی طرف سے اس پیغام کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ان کے پاس اب بھی بیلسٹک میزائل کی صلاحیت ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے میزائل ڈیفنس سسٹم نے حزب اللہ کی جانب سے داغے جانے والے میزائل کو روک لیا تھا، تاہم اسرائیلیوں کے لیے یہ بھی خوف ہے کہ میزائل دفاعی نظام آسانی سے تباہ بھی ہو سکتا ہے۔

ادھر اسرائیل نے لبنان پر بمباری کا سلسلہ رات بھر اور بدھ کو بھی جاری رکھا ہوا ہے، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے 4 مراحل میں متعدد فضائی حملے کیے جو اس کی تاریخ کے سب سے بڑے فضائی حملے تھے، جس میں 250 لڑاکا طیاروں نے 2000 سے زیادہ گولہ بارود گرایا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں