سماجی تتلیوں کی جنت

"میں نہیں مانتا کہ ملک و قوم کی زبوں حالی جس کا آپ نےذکر کیا، اس میں میرا کوئی قصور ہے۔”
"آپ مانتے نہیں یا ماننا چاہتے نہیں۔۔۔آپ یہ مانتے ہیں کہ آپ ایک انسان ہیں اور اس قوم کے ایک فرد؟۔۔۔آپ یہ بھی مانتے ہیں انسان سے خطا بھی ہوتی ہے؟”
"ہاں جی مانتا ہوں غلطیاں انسان کرتے ہیں۔۔۔۔مگر میرا کوئی قصور نہیں، حالات کی خرابی میں۔”
"سب یہی کہتے ہیں ۔آپ کہتے ہیں آپ کی کوئی غلطی نہیں میں کہتا ہو ں میرا کوئی قصور نہیں۔حکومت کہتی ہے اپوزیشن غلط ہے ، اپوزیشن کہتی ہے ہم پاک ہیں، حکومت درستنہیں۔ استاد کہتا ہے شاگرد قصور وار ہے ، میں پیغمبر وں کا وارث ہوں،شاگرد کہتا ہے میں معصوم ہوں۔
بڑے کہتے ہیں چھوٹے بے وفا ہیں، چھوٹے کہتے ہیں بڑےبے اعتبار ہیں۔یا اللہ یا رسول ! ہم سب بے قصور!۔۔۔لگتا ہے ہم سب بے قصوروں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔”
"آپ تو لمبا فلسفہ لے کے بیٹھ گئے ، بات سادہ سی تھی ۔ میں نے اپنی بے گناہی کی بات کیا کی کہ آپ نے آسمان سر پہ اٹھا لیا۔۔۔آپ کا خیال ہےجب غلطی معلوم نہ ہو تب بھی اپنے آپکو قصور وار ٹھہرائیں، کوئی جرم نہیں کیا تو بھی اقرار کرلیں۔
کیسی شکست خوردہ ذہنیت ہے آپ کی ۔۔۔اپنے ہاتھوں اپنی ہتھکڑی پہننے اور چور کو چور نہ کہنے کا مشورہ خوب ہے۔”
"سوال یہ ہے کہ اگر غلطی ہم میں نہیںتو پھر یہ ہنگامہ چار سوکیاہے؟ کیا یہ سب خرابیاں آسمان سے اتر رہی ہیں یا زمین سے اگ رہی ہیں؟۔۔۔مجھے تو یہ لگتا ہے کہ ہم سب سے کوتاہی ہو رہی ہے۔ ہم میں سے کوئی اپنی طرف دیکھنے اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ہر ایک کے پاس، میںنہیں مانتا کی رٹ ہے۔
حقائق سے انکار کا یہ واویلہ۔ ۔۔ اپنی ذمہ داری سے کنی کترانے کا یہ رویہ ، اصل میںاپنی چوری چھپانے کے لیےایک اوٹ ہے۔اپنی کوتاہی کو تسلیم کرنے سے گریز ہے اور اپنے گناہ کے آشکار ہونے کا خوف ہے۔۔۔دوسروں کی زبانوں پہ تالا لگانے کی ایک کوششہے اور اپنے ضمیر کونہیں نہیں کے شورسے تھکا دینے کا ایک حربہ۔”
"جو مزہ انکار میں ہے وہ اقرار میں نہیں۔ناں میں جو زور ہے وہ ہاں میں کہاں ہے۔انکار فعالیت ہے، پیش قدمی ہے ،حفظ ما تقدم ہے۔۔۔۔ اور اقرار؟۔۔۔انفعالیت،پسپائی اور حملے کی دعوتغلطی مان لینے سے غلطی کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ اپنی کوتاہی تسلیم کرلینے سے اس کا شاخسانہ بھی قبول کرنا پڑتا ہے۔آپ مانتے جائیں الزامات آتے جائیں گے حتیٰ کہ دوسروں کی غلطیاں بھی آپ کے کھاتے میں پڑ جائیں گی۔اس سے پہلے کہ خرابیوں کا سارا ملبہ آپ پر گرے گا۔
بہتر حکمتعملی یہ ہے کہ آپ نہ ماننے کا اعلان کردیں۔ اس سے آپ نہ صرف خود کسی الزام سے بچ جائیں گے بلکہ دوسروں کو الزاموں کے گورکھ دھندے میں الجھا کے رکھ دیں گے۔عمل کی دنیا میں یہی چلتا ہے، آپ کسی وقت کتابوں سے نکل بھی آیا کریں جناب”
"دیکھیں۔۔۔منفی فعالیت سے بہتر ہے مثبت انفعالیت۔انکار کے پتھر اٹھا کے چلنے سے بہتر ہو گا کہ اقرار کے پھول سجا لیں۔انکار میں تنگ نظری ہے اور اقرارمیں وسعت قلبی۔۔۔انکار بنجرپن ہے اور اقرا ر زرخیزی۔انکار راستے بند کرتا ہے اور اقرار نئی راہیں کھولتا ہے۔انکار تحریب ہے اور اقرار تعمیر۔انکار خوف کی علامت ہے اور بے یقینی کی دلدل، اقراراعتماد کیسیڑھی ہے اور یقین کی منزل۔۔۔انکار اعلان ابلیس ہے اور اقرا رتحفہ جبریل!
دوسروں کو چور چور کہتے رہنے سے اپنے اندر کا چور چھپ جاتا ہے۔ پھر اپنا قصورنظر نہیں آتا ۔ خود فریبی کا برزخ حقیقت کو اوجھل کر دیتا ہے۔۔۔آئیے ہم ڈھٹائی کا لبادہ اتار پھینکیں۔ اپنی غلطیوں کی تلاش میں لگ جائیں۔ اعتراف کرنااور مان جانا سیکھ جائیں۔اپنی اصلاح کا دروازہ کھول لیں، کوتاہی پر ندامت کی ڈھال اوڑھ لیں۔۔۔
آدم نے غلطی مانی، توبہ کی اور سربلند ہو گیا۔ ابلیس نے انکار کیا اور دھتکار دیاگیا۔ ہم ابن آدم ہیں ابن ابلیس نہیں۔۔ ۔آیئے، اپنی غلطی نہ ماننے کے ، قومی گناہ سے توبہ کریں۔۔۔سب کہیں استغفراللہ

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے