ہمیں اپنے بھولے بھالے بندر عزیز ہیں!!
نقل کے لئے زیادہ عقل درکار نہیں ہوتی۔بس ایک ڈھیٹ پن چاہئے جو ہمیشہ نہ سوچنے کی طرف مائل رکھے۔ سہل پسندی کا ایک داعیہ چاہئے جو مشکلات سے بچانے کی سعی کرے۔ ایک جرأت چاہیئے مکھی پہ مکھی مارنے کی۔پھر نقل کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں رہ جاتا۔۔۔
”یہ بندر نقلیں کیوں اتارتے ہیں؟”
”شاید اس لئے کہ ان کے پاس اتارنے کے لئے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا!”
”کیا مطلب؟”
”مطلب یہ کہ اب وہ اپنی کھال تواتارنے سے رہے!”
”میراخیال ہے کہ یہ عقل سے پیدل ہوتے ہیں اس لئے نقل سے کام چلاتے ہیں۔”
”اگر یہ درست ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بندر آخر انسانوں ہی کی نقل کیوں اتارتے ہیں؟ حالانکہ ان کے لئے جانوروں کی نقلیں اتارنا آسان بھی ہے اور انکی فطرت سے قریب تر بھی! جبکہ ان کی حالت یہ ہے کہ یہ آدمیوں کی طرف غور سے دیکھتے رہتے ہیں اور پھر انہیں جیسی حرکتیں کرنے پر اترآتے ہیں۔۔۔اور پھر پس ماندہ علاقوں کے جنگلوں میں رہنے والے بندر تو بالکل گئے گزرے ہیں وہ ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے بندروں کی نقل سے ہی کام چلالیتے ہیں، انسانوں کی نقل اتارنے کی نوبت ہی نہیں آتی!”
”بہرحال ! نقل کے لئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے!”
”میرا تو خیال ہے کہ یہ مفروضہ غلط ہے۔ نقل کے لئے کوئی بہت زیادہ عقل درکار نہیں ہوتی…بس ایک ڈھیٹ پن چاہئے جو ہمیشہ نہ سوچنے کی طرف مائل رکھے۔ سہل پسندی کا ایک داعیہ چاہئے جو مشکلات سے بچانے کی سعی کرے۔ ایک جرأت چاہیئے مکھی پہ مکھی مارنے کی۔پھر نقل کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں رہ جاتا اور یوں بہت سی ذہنی مشقتوں اور جسمانی کاوشوں سے جان بچائی جاسکتی ہے!”
”ویسے بندروں کو بے وقوف کہنے والوں کی یہ دلیل بڑی وزنی ہے کہ یہ انسان کے ہاتھوں بڑی آسانی سے استعمال ہوتے رہتے ہیں۔ اسی نقل اتارنے کی بندریانہ کمزوری کا انسان بہت فائدہ اٹھاتے ہیں۔ فضول سے فضول کام کرکے بندر کو نقل اتارنے پر اکساتے ہیں۔ اور اکثر یوں جگ ہنسائی کا اہتمام کرلیتے ہیں! مثلاً منہ چڑا کر بندر کو طبع آزمائی پر آسانی سے مائل کیا جاسکتا ہے۔ ”
” خیر بات اتنی بھی گئی گذری نہیں ”
” مداری تو ڈگڈگی بجا کربندرسے انسانوں جیسی حرکتیں بھی کروالیتا ہے۔ اب اس سے زیادہ بندر کی بے وقوفی اور کیا ہوسکتی ہے! بعض لوگ تو زمین میں ایک بانس گاڑ لیتے ہیں اور اس کے اوپر والے سرے پر ایک صلیب بنا کر بندر کو زنجیر کے ساتھ باندھ دیتے ہیں۔ زنجیر ی کے ایک سرے پر ایک کڑا ، بندر کی گردن کے گرد ہوتا ہے اور زنجیر کے دوسرے سرے پر موجود دوسرا کڑا، بانس کے گرد ہوتا ہے اور وہ بندر کی اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر ، آمد روفت میں مدد دیتا ہے۔ یوں بندر قید آزادی میں، بامشقت زندگی گزار کے خوش ہوتارہتا ہے۔”
”یہ بات توٹھیک ہے کہ بندر انسانی عقل سے مات کھاجاتا ہے مگر اس کی چالاکیاں بھی دیکھئے کہ یہ مداریوں کو اپنے ساتھ ساتھ آوارہ گردی کرواتا ہے ۔جو اسے باند ھ کے رکھتا ہے اسے یہ بھی کھلانہیں چھوڑتا۔ مداری نے اگر بندر کو روزی کمانے کا ذریعہ بنایا ہے تو بندر بھی توآدمی کو اپنی روزی کمانے کے لئے استعمال کرجاتا ہے۔ جس طرح سدھائے بندر کو آدمی جیسی بعض حرکتیں کرنا پڑتی ہیں اس طرح سدھانے والے آدمی کو بندر جیسی حرکتیں بھی سرانجام دینا پڑتی ہیں۔کبھی کبھی میں سوچتا ہوں ڈارون کو کسی ایسی ہی چیز نے بہکایاہوگا جو وہ بندر کو آدمی کا پہلاجنم قراردینے لگا اور اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ بندر میں جتنی آدمیت ہوتی ہے، آدمی میں اتنی بندریت بھی ہوتی ہے۔ ”
"خیر!۔۔۔ یہ تو اپنے رنگ میں ، کلچر میں اور اپنی تہذیب میں رنگ لینے کی صلاحیت پر منحصر ہے کہ کون کتنا دوسرے جیسا ہوجاتا ہے! اسی سے عقل اور نقل کا فیصلہ ہوجاتا ہے اور یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کون عقل سے کام لے رہا ہے اور کون نقل سے!”
”ویسے بعض میں سے اکثر بندر تو بھلے مانس ہوتے ہیں۔ آپ جو چیز ان کی طرف پھینکیں وہ تحفہ سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں۔ آنکھیں یوں جھپکتے ہیں جیسے شرم و حیا سے نظر یں جھکارہے ہوں۔ آپ کھانے کی کوئی چیزانہیں دیں تو بغیر شک کئے اطمینا ن اور اعتماد کے ساتھ اسے چبانا شروع کردیتے ہیں یہ سمجھ کر کہ انسانوں کی طرف سے آئی ہے، کوئی اچھی چیز ہی ہوگی!”
”لیکن انسان نے بندر کی ان اچھی عادتوں کو بھی اپنی عقل کے استعمال سے اپنے کھاتے میں ڈال لیا ہےاور مغربی سائنس دان ، ڈارون نے تو یہ تک ثابت کردیا کہ بندر، ابتدائی انسانوں کے کزن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج مغرب میں بندروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے اور بعض گھروں میں اسے بزرگوں کی آخری نشانی سمجھ کر پالا جاتا ہے ۔”
”جہاں انسانی زندگی میں حیوانی خصوصیات کا عمل دخل بڑھ جائے وہاں انسانیت کا قحط آجاتا ہے اور پھر حیوانوں میں انسانی خصائص کی تلاش شروع ہوجاتی ہے۔ مغرب کے جنگل میں انسان سے متنفر انسان نے جنگلی جانور وں کے ساتھ دوستی لگانا اسی لئے شروع کردیا ہے۔”
”میرے خیال میں جب سے انسانوں نے بندروں کو سدھانا شروع کیا ہے اور بندروں کے ساتھ انسانوں کا میل جول بڑھا ہے تو دونوں کے درمیان تہذیبی اقدار کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ جہاں بندروں کی اخلاقیات پر انسان اثر انداز ہوا ہے وہاں انسانوں کی اخلاقیات پر بندر نے بھی اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔”
” تاہم جب تک انسان آدمیت کے تقاضے پورے کرتا رہے اور انسانیت کا بھرم رکھتا رہے تو انسان ہے اور جب یہ نہ ہو تو بندر اور آدمی ایک جیسے ہیں خواہ وہ مشرق میں ہوں یا مغرب میں…”
”لیکن مشرقی بندر اور مغربی بندر میں بڑا فرق ہے۔ جس طرح اہل مشرق اور اہل مغرب کی سوچ میں ۔ یہاں الو کو بے وقوفی کی علامت سمجھا جاتاہے او روہاںاسی الو کو عقلمندی کی نشانی گرداناجاتا ہے کیونکہ انہوں نے عقل مندی ہم بے وقوفوں سے سیکھی ہے اور ہم بے وقوفی، ان عقلمندوں سے سیکھ رہے ہیں۔ان کے ہاں کا بندر زیادہ باشعور ہے ۔ ۔۔وہ کمپیوٹر چلاسکتا ہے اور گاڑی ڈرائیو کرسکتا ہے جبکہ ہمارے ہاں کے بندر تو بے چارے بے سرے ہیں ۔ان سے پوچھا جائے کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو یہ بتائیں گے ”چار روٹیاں” بے چارے بھوکے جو ٹھہرے۔۔۔ مدتوں کی تشنہ لبی اور ناکامی کے مارے ہوئے یہ غلام بندر، اہل مغرب کے خوش خور اک آزاد منش بندروں کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں؟”
”ایک تو آپ اہل مغرب سے بہت متاثر ہیں! حتیٰ کہ ان کے بے وفا اور شہری قسم کے بندروں کو اپنے دیہاتی ، سادہ اور پرخلوص بندروں سے بہتر قراردے رہے ہیں۔ ہمیں تو اپنے بے وقوف اور بھولے بھالے بندر ہی عزیز ہیں۔ نہ وہ چالاک ہوں نہ ہی بددیانتی کریں۔ ایک سامراجی ذہنیت کے مالک باشعور بندر سے، غریبی ذہنیت اور بھوکی نوابیت رکھنے والا بے وقوف بندر ہی بہتر ہوتا ہے!”
” ہوا یوں کہ جب انگریز نے برصغیر پر قبضہ کیا اور اس ملک کو بھی اپنی سلطنت کا حصہ بنایا تو ہمارا جنگل بھی ان کے زیرنگیں تھا۔ لہٰذا یورپ کے باشعور بندر ہماری جنگلی دنیا پر حکومت کرتے رہے ۔انہوں نے ہمارے سادہ لوح غلام بندروں کو اپنے سارے داؤ پیچ سکھادیئے اور بندربانٹ کا اصول بھی اچھی طرح سے سمجھا دیا تھا۔ اس لیے ہمارےبھولے بھالے بندر دراصل اپنے استادوں سے زیادہ ماہر ، زیادہ جاہل ، اور زیادہ خطرناک بن چکے ہیں! آپ نے بندر بانٹ والے محاورے کا وہ پس منظر تو سنا ہوگا جس میں دو بلیوں کے جھگڑے کا انصاف ، ایک سیانے بندر نے کیا۔۔۔ اگرچہ بلیوں کی محرومی کا اصل سبب تو ان کی بے وقوفی ہے کہ وہ انصاف کے لئے کس ہستی کا انتخاب کرتی ہیں مگر بندر کا ”صاف شفاف انصاف” اس کی اپنی ”ذہانت” کا مرہون منت ہے۔ اس لیے ثابت یہ ہوا کہ بندر انصاف کر سکتا ہے۔”
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں