گلگت بلتستان کی پہلی خاتون اے آئی جی نوکری کیوں چھوڑنا چاہتی تھیں

طاہرہ یعصوب نے گلگت بلتستان کی پہلی خاتون اے آئی جی بننے کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیا۔

گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ سے تعلق رکھنے والی طاہرہ یعصوب نے گلگت میں پرورش پائی،وہ گلگت بلتستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر ہیں۔

گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان اور صوبائی وزیر ترقی نسواں دلشاد بانو نے طاہرہ اورنگزیب کوایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کے رینک لگائے ۔ طاہرہ یعصوب اپنی کامیابی پر خوش ہیں لیکن انہیں اس بات کا دکھ بھی ہے کہ اگر اس وقت ان کے والدین زندہ ہوتے تو یہ خوشی اور بھی بڑھ جاتی کیونکہ والدین نے انہیں یہ سارا سفر طے کرتے دیکھا تھا۔ بھائی بہنوں کے لئے بھی خوشی کا دن ہے لیکن طاہرہ یعصوب کہتی ہیں کہ شائد ان کو پتہ بھی نہیں کہ یہ ایونٹ ہو چکا ہے ۔

گلگت میں میڈیاکے نمائندوں سے بات چیت کے دوران طاہرہ یعصوب نے کہا کہ جب میں ڈی ایس پی بنی تو کہا گیا پہلی خاتون ڈی ایس پی، پھر ایس پی ،پھر ایس ایس پی اور اب اے آئی جی کا رینک پہن لیا ہے ۔ یہ میری زندگی کا اہم ترین دن ہے ،میں بہت زیادہ خوش ہوں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ ہمیشہ اچھے سینئرز ملے۔ کیریئر کے دوران جو بھی چیلنجز آئے سینئرز نے ہمیشہ مجھے سپورٹ کیا۔ میرے والدین نے بہت سپورٹ کیا ۔ جس وقت میں نے پولیس سروس میں شمولیت اختیار کی اس وقت لڑکیوں کا پولیس یونیفارم میں جانا اور چوبیس گھنٹے ڈیوٹی میں گزارنا اچھا نہیں سمجھا جاتاتھا ۔ یہ سفر کافی کٹھن تھا بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا ، کئی مواقع پر تو یہ فیصلہ کیا تھا کہ آج میرا پولیس میں آخری دن ہے لیکن اگلی صبح میں ایک نئی توانائی اور ہمت کے ساتھ دوبارہ کام شروع کردیتی تھی ۔

طاہرہ یعصوب کا کہنا تھاکہ پولیس ایسا شعبہ ہے جس میں آپ لوگوں کو ریلیف دے سکتے ہیں اگر نیک نیتی سے کام کریں تو معاشرے کے لئے نیک نامی کا ذریعہ بن سکتے ہیں،جب ہم پولیس میں آئے تو بہت مسائل تھے نئے آنے والوں کے لئے وہ مسائل نہیں ہوں گے ، اب وقت بد ل چکا ہے اب جب ریکروٹمنٹ کرتے ہیں تو ماسٹر ڈگری والے لوگ آتے ہیں۔
ڈیپارٹمنٹ میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں سپورٹ کرنے والے بھی ہوتے ہیں مایوس کرنے والے بھی ۔ میں ہمیشہ اپنے اہداف پر توجہ دیتی رہی، لوگ کیا کہتے ہیں اور کیا سوچتے ہیں اس بارے میں دلچسپی نہیں لیتی ۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے