ملک دشمن عناصر طلبا کو منشیات کے کاروبار میں بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں: سجیل حیدر
ڈائریکٹر اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف ) سید سجیل حیدر نے کہا ہے کہ ملک کو خصوصاً تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کرنے اولین ترجیح ہے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں منشیات کی کاشت روکنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
پیر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید سجیل حیدر نے کہا کہ منشیات کی خرید و فروخت اور اسمگلنگ میں بچوں اور خواتین کا استعمال ہونا سماجی، اخلاقی، معاشی اور معاشرتی نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر اس گناؤنے کھیل میں ناصرف کالج، یونیورسٹی بلکہ اسکول کے طلبا کو بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں، تعلیم اور روزگار کی غرض سے بیرون ملک جانے والے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بھی اسمگلنگ میں ملوث ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو نوجوان بیرون ملک منشیات لے کر جا رہے ہیں ان کی وجہ سے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بلکہ سفارتی سطح پر بھی ہمارے تعلقات خراب ہو رہے ہیں، ملک کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2024 میں اگرانسداد منشیات کے خلاف کیے گئے آپریشن کا جائزہ لیا جائے تو اے این ایف نے چھوٹی بڑی کارروائیوں میں 1 لاکھ 13 ہزار 7 سو 98 کلوگرام منشیات پکڑی ہیں جن کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مجموعی مالیت ساڑھے 6 ارب ڈالر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کارروائیوں کے دوران ایک ہزار 4 سو 6 گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں، جن میں حیرت انگیز طور پر 116 خواتین اور 44 غیر ملکی باشندے بھی شامل ہیں جبکہ ان کارروائیوں کے دوران اے این ایف کے 3 بہادر جوانوں نے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا۔رواں سال اے این ایف کے زیرانتظام 7 ری ہیبیلیٹیشن سینٹر سے 2 ہزار 31 نشے سے متاثرہ افراد کا علاج کیا گیا، جو صحتمند ہو کراچھی زندگی گزار رہے ہیں۔
سید سجیل حیدر نے مزید بتایا کہ موجودہ سال منشیات کے خلاف عوامی آگاہی مہم کے دوران اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیز میں ساڑھے 5 ہزار آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 4 اگست کو لاہور میں کوٹ عبدالمالک کے قریب سے 88 کلوگرام چرس اور 34 کلوگرام افیون برآمد کی گئی، اسی طرح 6 اگست کو پشاور خیبر پختونخوا کے نادرن بائی پاس کے قریب کارروائی کے دوران 52 کلوگرام افیون اور 61 کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔
سید سجیل کا کہنا تھا کہ 10 اگست کو کراچی میں ایک کارروائی کے دوران 30 کلو گرام آئس برآمد کی گئی، 15 اگست کو کوئٹہ بلوچستان میں ایک کارروائی کے دوران 24 کلوگرام چرس اور آئس برآمد کی گئی اسی طرح 14 اگست کو حب کے قریب 40 کلو گرام چرس اور 14 کلو گرام آئس برآمد کی گئی ہے۔
19 اگست کو سیالکوٹ کے قریب ایک کارروائی کے دوران 10 کلوگرام افیون، 10 کلو گرام چرس اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیا، اس دوران اے این ایف کی ٹیم پر فائرنگ بھی کی گئی، اسی طرح 20 اگست کو اسلام آباد کے قریب 14 کلوگرام افیون اور 45 کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ 24 اگست کو چمن کے قریب ایک کارروائی کے دوران 52 کلوگرام ہیروئن اور 51 کلوگرام مارفین برآمد کی گئی، اسی طرح 28 اگست کو گجرانوالہ میں ایک کارروائی کے دوران 49 کلو گرام چرس اور 164 کلو گرام افیون برآمد کی گئی، اسی طرح 4 ستمبر موٹرے ٹول پلازہ کے دوران ایک کارروائی کے دوران 17 کلو گرام افیون اور 13 کلو گرام چرس برآمد کی گئی ہے۔
منشیات کی روک تھام اے این ایف کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، پڑوسی ملک میں تیار کردہ آئس کی ضبطگی میں 12 گنا اضافہ ہوا ہے جو کہ 2017 میں اڑھائی ٹن سے بڑھ کر 2023 میں تقریباً 30 ٹن پہنچ گیا ہے۔
اس صورت حال میں قومی سطح پر منشیات کے خلاف مکمل یکسوئی اور نئے جذبے بھرپور کارروائیاں ناگزیر ہو چکی ہیں، حکومت کی ہدایات کے مطابق منشیات کی روک تھام کے لیے نئی مہم شروع کی جا رہی ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں