عمران خان کی رہائی کے لئے دوہفتے کی ڈیڈ لائن، پہلی گولی میں کھائوں گا، علی امین گنڈا پور
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ’اب سب کو ماننا ہو گا کہ عمران خان ایک حقیقت ہیں، اور اس حقیقت کو قبول کرنا پڑے گا جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے عمران خان کی رہائی کے لئے حکومت کو دو ہفتے کا وقت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد عمران خان کو ہم خود رہا کرائیں گے، سب سے آگے میں چلوں گا پہلی گولی میں کھائوں گا۔
اسلام آباد میں سنگجانی کے مقام پر تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کے دوران چییرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ ’آج اسلام آباد میں عمران خان کا جذبہ بول رہا ہے۔ یہ 90 کی دہائی نہیں ہے کہ کسی کو مائنس کریں، عمران خان مائنس کی سیاست نہیں ہو سکتی، عمران خان تھے، ہیں اور لیڈر رہیں گے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنے خطاب کے دوران الزام عائد کیا کہ ’حکومت جو قانون سازی کرتی ہے اس میں رات کے اندھیرے میں اپنے آپ کو این آر او دیتی ہے۔
آج عدلیہ میں نئی قانون سازی کی جا رہی ہے اور مرضی کے ججز لگائے جا رہے ہیں۔ دنیا کی تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جس ملک کا لیڈر کرپٹ ہو وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ آج بلوچستان ہاتھوں سے نکل رہا ہے۔
انھوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اس حکومت نے آٹھ فروری کو آپ کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا۔ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مرضی کی عدالت بنانا اور مرضی کے جج لگانے کے فیصلے کو نہیں مانیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف کوئی دوسرا کیس بنانا قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی دوسری عدالت میں لے جانا منظور ہے۔
’ہم پورے ملک اور جمہوریت کے لیے نکلے ہیں۔ ہم ملک کے اندھیروں کے خلاف نکلے ہیں۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ اقتدار میں رہنے والے اپنے ملک کے بارے میں سوچیں۔‘
انھوں نے جلسہ گاہ کی جانب آنے والے راستوں کی بندش پر تنقیید کرتے ہوئے کہا کہ راستے بند کرنے کے بجائے راستہ نکالیں اس سے پہلے کہ ملک بند گلی کی جانب جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس جلسے کا چھ ماہ تک انتظار کرتے رہے۔ آج ہر جگہ کنٹینرز تھے لیکن عمران خان کے ٹائیگر یہاں تک پہنچ گئے۔‘
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے عمران خان کی رہائی کیلئے حکومت کو ڈیڈ لائن دے دی۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہاکہ پختونخوا کے عوام نے طاقت کے زور پر اپنا مینڈیٹ چوری نہیں ہونے دیا، جابر حکمران کے خلاف آواز اٹھانا جہاد ہے، ہم یہ جہاد کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ این آر او دینے والے ہار چکے ہیں، بانی پی ٹی آئی جیل میں بیٹھ کر جیت چکا ہے، قوم نے خوف کا بت توڑ دیا ہے، این او سی ہونہ ہواگلا جلسہ لاہور میں ہوگا۔
ان کا کہنا تھاکہ عمران خان کے وکلا نے بتایاکہ عمران خان کے کیسز ختم ہوچکے ہیں، ایک سے 2 ہفتے میں قانونی طور پر عمران خان رہا نہ ہوا تو ہم پھر انہیں خود رہا کریں گے، میں آپ کی قیادت کروں گا اور پہلی گولی میں کھاؤں گا اور آگے میں ہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر پیچھے ہٹے تو نہ دوبارہ ایسا موقع ملے گا، نہ دوبارہ ایسا لیڈر ملے گا، ایسی قوم ملے گی اور نہ ایسا جذبہ ملے گا۔
پی ٹی آئی اور اپوزيشن اتحاد کے رہنماؤں نے بھی جلسے کے شرکا سے خطابات کیے۔ جلسے میں بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان بھی موجود تھیں ۔
جلسے سے خطاب میں شیر افضل مروت نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی، قانون کی بالادستی کیلئے پنجاب میں بھی جلسےہوں گے، پنجاب پیدل جانا ہوا تو جائیں گے، ان کے آنسو گیس کا مقابلہ کریں گے۔
پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ انقلاب کیلئے بنیادی شرط تنظیم ہوتی ہے، پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بانی پی ٹی آئی سے محبت اپنی جگہ لیکن تنظیم کی کمی نظر آرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ جب اسٹیج پر چڑھتے ہیں تو کپڑے پھٹ جاتے ہیں جیبیں کٹ جاتی ہیں، ایسا مجمع انقلاب نہیں لاسکتا۔
محمود خان اچکزئی کاکہناتھا کہ پاکستان میں انقلاب ووٹ کے ذریعے آچکا ہے، موجودہ حکومت بے ایمانی سے اقتدار میں آئی ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے کہا کہ حکومت کو دس پندرہ دن دیں اورکہیں کہ بانی پی ٹی آئی اور تمام لیڈروں کورہاکریں، ورنہ ہر ضلع میں تحریک چلائی جائے۔
اسلام آباد جلسے کے لئے ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو شام 7 بجے تک جلسہ کرنے کا این او سی جاری کیا تھا لیکن اس کے باوجود جلسہ دیر تک جاری رہا۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے جلسے کے قریب 26 نمبر چونگی پر شرکت کیلئے آنے والے شرکا اور پولیس کے درمیان تصادم ہوگیا۔ جلسے کے شرکا نے پتھراؤ کیا جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔
جھڑپ کےدوران ایس ایس پی سیف سٹی سمیت متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سنگجانی کے مقام پر جلسہ میں مختلف شہروں سے ہزاروں کی تعداد میں کارکن تمام رکاوٹوں کے باوجود جلسہ گاہ پہنچے جبکہ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد رات سے ہی جلسہ گاہ پہنچ چکی تھی ۔ انتظامیہ کی جانب سے تحریک انصاف کوجلسے کے لئے 4 بجے سے 7 بجے تک کا وقت دیا گیا تھا تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
علی امین گنڈا پور کی قیادت میں آنے والی ریلی جلسے کے لئے دیا گیا وقت ختم ہونے سے تین گھنٹے بعد جلسہ گاہ پہنچی۔ مقررہ وقت پر جلسہ ختم نہ کرنے پراسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جلسہ منتظمین کو بار بار آگاہ کیا گیا اور جلسہ گاہ خالی کرنے کا نوٹس بھی دیا گیا جس کے بعد صورتحال کشیدگی کی طرف جانے لگی اور 26 نمبر چونگی کے قریب پی ٹی آئی کارکنوں کا پولیس سے تصادم ہو گیا۔
۔پی آئی کے جلسے کی وجہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی کی مختلف سڑکوں کو بند کردیا گیا ہے جبکہ میٹرو بس سروس بھی بند ہے
انتظامیہ نے جلسے سے قبل ایک سکیورٹی اور ٹریفک پلان جاری کیا ہے جس کے تحت سنگجانی کے مقام پر کنٹینرز رکھ کر جی ٹی روڈ کو دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بند کر دیاگیا۔ 26 نمبر چونگی سے اسلام آباد کے داخلی راستے بند ہیں ،ایکسپریس وے کھنہ پل جبکہ مری روڈ کو فیض آباد کے مقام پر کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔
روات ٹی چوک سے راولپنڈی آنے والے راستوں کو بند کرکے فیض آباد انٹرچینج کو سیل کردیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق راول پنڈی اسلام آباد کو ملانے والے متبادل راستے کھلے ہیں، شہریوں کو نائنتھ ایونیو کا راستہ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، پیرودھائی سے گولڑہ موڑ اسلام آباد کا راستہ بھی کھلا ہے جب کہ ریڈ زون داخلے کے لیے متعلقہ افراد کو مارگلہ
روڈ کے راستے سے جانےکی اجازت ہوگی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں