بھارتی پارلیمنٹیرین پر غیر قانونی سرمایہ کاری کا الزام، 908 کروڑ کا جرمانہ

بھارتی رکن پارلیمنٹ ایس جاگتھرکشکن اور ان کے خاندان پر غیر ملکی اداروں میں غیر قانونی سرمایہ کاری کے الزام پر 908 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا گیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی سیاسی جماعت دراوڑا منیترا کزگم (ایم کے ڈی) سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ پر یہ جرمانہ بھارت کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی) کی طرف سے عائد کیا گیا۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ادارے نے ستمبر 2020 میں جاگتھرکشکن کے خلاف فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ (فیما) کے قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں تحقیقات کیں۔
تحقیقات کے بعد مالی تحقیقاتی ایجنسی نے جاگتھرکشکن اور ان کے خاندان کے ارکان کی ملکیتی تقریباً89.19کروڑ روپے کی جائیداد ضبط کر لی تھی تاہم ضبطی کے حکم کو مجاز اتھارٹی نے فروری 2021 میں معطل کر دیا تھا۔ جس کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی اپیل ٹریبونل میں زیر التوا ہے۔
بعد ازاں دسمبر 2021 میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے فیما کے سیکشن 16 کے تحت جاگتھرکشکن اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف ایک نئی شکایت درج کی۔ جس میں ان پر غیر ملکی اداروں میں غیر قانونی سرمایہ کاری کا الزام لگایا گیا تھا۔
جگتھرکشکن کے خلاف الزامات میں 2017 کے دوران سنگاپور کی ایک شیل کمپنی میں 42 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری، اور سنگاپور میں حصص کا حصول اور اس کے بعد خاندان کے افراد کو منتقلی شامل ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے