دہشتگردی کی حالیہ لہر کے پیچھےکون؟

پاکستان میں دہشتگردی کی نئی لہر تشویشناک صورت اختیار کرتی جارہی ہے ، 26 اگست کو بلوچستان میں سابق وزیر اعلیٰ اور بلوچ سردار نواب اکبر بگٹی کی برسی کے موقع پرمختلف شہروں میں ہونے والے دہشتگرد حملے ماضی کی کارروائیوں سے بہت مختلف تھے، بلوچستان میں شورش کے واقعات 70 کی دہائی سے ہی ہوتے رہے ہیں لیکن سنہ 2000 سے ان میں تیزی آئی اور 26 اگست 2006 کو نواب اکبر بگٹی اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد پرتشدد حملوں میں زیادہ اضافہ ہوا۔
نواب اکبر بگٹی کی برسی پر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہڑتال ماضی میں بھی ہوتی رہی لیکن رواں سال دس سے زائد اضلاع میں بیک وقت پرتشدد حملوں کے محرکات اندرونی سے زیادہ بیرونی لگتے ہیں، ان حملوں میں 39 شہریوں کی شہادت ہوئی،14 سکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے حملوں کو ناکام بنانے کے لئے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کیا۔
دہشت گردوں کی جانب سے مختلف شاہرائوں پر مسافروں کو گاڑیوں سےاتار کرشناخت کے بعد گولیاں ماری گئیں اور گاڑیاں بھی نذرآتش کردی گئیں ،ان حملوں کی ذمہ داری ایک کالعدم بلوچ تنظیم نے قبول کی ہے لیکن اندرونی محرکات کے ساتھ ساتھ اس حملے کے بیرونی محرکات کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
رواں ماہ 5 اگست کوبنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کے نتیجے میں بھارت نواز حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ اس خطے میں ایک ایسی تبدیلی تھی جس کے پاکستان پراثرات پہلے دن سے ہی نظر آ رہے تھے ۔ حسینہ واجد کے طویل دور کا جس طرح خاتمہ ہوا اور انہیں فرار ہو کر بھارت میں پناہ لینا پڑی یہ صرف عوامی لیگ کادھڑن تختہ نہیں تھا بلکہ بھارت کے لئے بھی بہت بڑا دھچکا تھا۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش میں کھڑے ہو کر 71 کے واقعات کاکریڈٹ لیا تھا اور بنگلہ دیشی عوام کو پیغام دیا تھا کہ ان کی آزادی میں بھارت کی مدد شامل تھی یہ پیغام دراصل بھارت کی دوسرے ممالک میں تخریب کاری کا اعتراف اور بنگلہ دیش کی حکمران جماعت عوامی لیگ کی حمایت کابھی اعلان تھا۔5 اگست کو ڈھاکہ میں شیخ حسینہ اور عوامی لیگ کے مخالفین نے اقتدار پر نہ صرف قبضہ کرلیا بلکہ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب کے مجسمے بھی توڑ ڈالے ،سرکاری دفاتر سے شیخ مجیب کی تصاویر اتاردی گئیں، وہ بنگلہ دیش جہاں کرکٹ میچ کے دوران شائقین کو پاکستان کا پرچم لہرانے کی اجازت نہیں تھی وہاں جلسوں اور ریلیوں میں پاکستان کا پرچم لہرایا گیا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے،یہ نعرے لگانے والے بنگلہ دیش کے وہ شہری تھے جنہوں نے بھارت نواز عوامی لیگ کے دور حکومت میں ظلم وستم برداشت کئے، بنگلہ دیش کی حالیہ طلبہ تحریک میں شامل نوجوانوں کو جب حسینہ واجد نے رضاکار کا طعنہ دیا تو یہ طعنہ اس تحریک کا سلوگن بن گیا اور ہرطرف یہی نعرے لگنا شروع گئے کہ میں کون تو کون ،رضا کار رضاکار۔ دراصل بنگلہ دیش میں رضاکار کا لفظ ان لوگوں کے لئے استعمال کیا جاتاہے جنہوں نے 1971 کے واقعات کے دوران متحدہ پاکستان کو بچانے کے لئے فوج کاساتھ دیا تھا۔
ڈھاکہ میں نئی نسل کے ہاتھوں آنے والی اس تبدیلی سے بھارت میں تھرتھلی مچ گئی یہی وجہ ہے کہ شیخ حسینہ کابھارت پہنچنے پر سکیورٹی کےمشیر اجیت دوول نے خود استقبال کیا۔
بھارت و عوامی لیگ کاگٹھ جوڑ اور پاکستان دشمنی کسی سے پوشیدہ نہیں، یہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھارت کی طرف سے دہشتگردوں کی فنڈنگ کے واضح ثبوت مل چکے ہیں،بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری نے بھی ان تخریبی سرگرمیوں کو بے نقاب کیاہے، پاکستان کے دو صوبوں میں دہشت گردی کی نئی لہر کسی بیرونی ہاتھ کے سرگرم ہونے کی نشاندہی کر رہی ہے،پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنےوالے اداروں کے جوان روزانہ کی بنیاد پر اپنی جانیں قربان کرکے دشمن کے عزائم کو ناکام بنا رہے ہیں،یہ وقت اپنی افواج کے ساتھ یکجہتی کا ہے،ہر محب وطن پاکستانی کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سےخبردار رہنے کی ضرورت ہے ۔ بلوچستان میں لاپتہ افرادکی بازیابی کے نام پر حالیہ عرصے میں جتنی بھی سرگرمیاں ہوئیں ان سب کا مقصد ریاستی اداروں کو ٹارگٹ کر کے لوگوں کو گمراہ کرنا تھا،اسی مقصد کے لئے سوشل میڈیا پر فیک نیوزکے ذریعے انتشار کو ہوا دی گئی،بلوچستان میں26 اگست کو جوکچھ ہوا اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ لاپتہ افراد کےنام پرپروپیگنڈا کرنے والے اپنی سرزمین پر کیا کھیل کھیل رہے ہیں ۔
معصوم لوگوں کو بسوں سے اتار کر شناخت کے بعد شہید کرنے والے ناراض بلوچ نہیں بلکہ دہشت گرد ہیں جو بیرونی ایجنڈے پر پاکستان میں فساد پھیلارہے ہیں اورہتھیاروں کےذریعے پاکستان توڑنے کی باتیں کر رہے ہیں،ان دہشت گردوں کے پاس اسلحہ افغانستان سے آتاہے ،یہ پاکستان کے خلاف سازش ہورہی ہے جس کامقابلہ ہم سب کو ہرمحاذ پر کرنا ہے۔ پاکستان کا پرچم اگر بنگال سے ابھی تک نہیں اترا تو بلوچستان سے بھی اس پرچم کو اتارنے والے ان شاء اللہ نامراد رہیں گے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے