شاہین جھپٹیں گے یا ٹائیگر لپکیں گے

بنگلا دیش کی قومی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر موجود ہے جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلی جانی ہے۔ پہلا ٹیسٹ میچ 21 اگست سے شروع ہو گیا جو 25 اگست تک کھیلا جائے گا، دوسرا ٹیسٹ 30 اگست سے 3 ستمبر تک ہوگا۔ پہلے جاری کئے گئے شیڈول کے مطابق پہلا ٹیسٹ راولپنڈی اور دوسرا کراچی میں ہونا تھا تاہم کراچی میں تزئین و آرائش کے کام کے باعث پہلے یہاں تماشائیوں کے بغیر میچ کروانے کا فیصلہ کیا گیا تاہم اس کے بعد یہ ٹیسٹ کراچی سے راولپنڈی منتقل کر دیا گیا۔ گزشتہ روز ٹرافی کی رونمائی بھی کر دی گئی۔ راولپنڈی اسٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم کے کپتان شان مسعود اور بنگلادیشی کپتان نجم الحسن شانتو نے ٹرافی کی رونمائی کی تقریب میں شرکت کی۔ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان کھیلی جانے والی یہ سیریز ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ 2023-25 کا حصہ ہے۔ جس میں بنگلا دیش آٹھویں پوزیشن پر براجمان ہے جبکہ گزشتہ روز جنوبی افریقہ کی جانب سے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں فتح کے بعد پاکستان ٹیم پانچویں سے چھٹے نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ پوائنٹس ٹیبل پر بھارت پہلے، آسٹریلیا دوسرے، نیوزی لینڈ تیسرے، سری لنکا چوتھے اور جنوبی افریقہ پانچویں نمبر پر موجود ہے۔ انگلینڈ کا ساتواں اور ویسٹ انڈیز کا نواں نمبر ہے۔ ڈبلیو ٹی سی کے 2023-25 سائیکل میں پاکستان نے اب تک پانچ ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں جس میں گرین شرٹس کو سری لنکا کے خلاف 2 ٹیسٹ میچز میں فتح اور آسٹریلیا کے خلاف 3 ٹیسٹ میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رواں سال پاکستان کو ہوم گراؤنڈز پر سات ٹیسٹ میچز کھیلنا ہیں جن میں فتوحات پوائنٹس ٹیبل پر گرین شرٹس کی پوزیشن کو بہتر بنا سکتی ہیں۔ اگلے سال کے آغاز میں دو مزید ٹیسٹ میچز پاکستان ٹیم کے منتظر ہیں۔ بنگلا دیش کے بعد انگلینڈ کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی جس میں پاکستان نے تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلنا ہے اس کے بعد جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ دو دو ٹیسٹ میچز ہونگے۔ یوں مجموعی طور پر پاکستان کو 9 ٹیسٹ میچز کھیلنے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹیسٹ رواں سال کے آخر اور دوسرا ٹیسٹ اگلے سال کے آغاز میں ہوگا اسی طرح ویسٹ انڈیز کے خلاف بھی دونوں ٹیسٹ اگلے سال کے آغاز میں ہونگے۔ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان ٹیسٹ میچز کے اعداد و شمار کی بات کی جائے تو دونوں ٹیموں میں اب تک 13 ٹیسٹ میچز کھیلے جا چکے ہیں جن میں سے 12 پاکستان نے جیتے ہیں جبکہ ایک میچ ڈرا ہوا ہے، بنگلا دیش ٹیم آج تک پاکستان کے خلاف کوئی بھی ٹیسٹ جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ آج سے شروع ہونے والے ٹیسٹ میں پاکستان چار فاسٹ بولرز کے کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترے گا جو ایک حیرت انگیز فیصلہ ہے، سپنر ابرار احمد کو قومی ٹیسٹ سکواڈ میں شامل کرنے کے بعد پھر سے ریلیز کر دیا گیا اور فی الوقت بنگلا دیش کے خلاف پاکستان کے پاس کوئی مستند سپنر موجود نہیں ہوگا۔ سلمان علی آغا سے پارٹ ٹائم سپنر کا کام ضرور لیا جا سکتا ہے لیکن ٹیسٹ میچ میں ایک یا دو مستند سپنرز کی موجودگی نہ صرف ٹیم کو مضبوط بناتی ہے بلکہ فاسٹ بولرز کو ریلیف بھی فراہم کرتی ہے، یہ بھی ممکن ہے پی سی بی کی جانب سے نئے ہائر کئے گئے پچ کیوریٹر ٹونی ہیمنگ نے راولپنڈی کی پچ فاسٹ بنائی ہو تاہم ٹیسٹ میچ کے چوتھے اور پانچویں دن پچ کا سلو ہونا بنگلا دیش کو فائدہ دے سکتا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ بنگلا دیش ٹیم اپنے سکواڈ میں موجود ورلڈ کلاس سپنر شکیب الحسن سمیت مہدی حسن میراز اور تیج الاسلام میں سے کس کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترتی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے