سرکاری ملازمین پر داڑھی لازمی قرار دینے کی خبریں بے بنیادہیں: ترجمان افغان طالبان

طالبان حکومت نے افغانستان میں سرکاری ملازمین پر داڑھی لازمی قرار دینے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔
ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نےکہا ہے کہ افغانستان میں سرکاری ملازمین پر داڑھی لازمی قرار دینے کی خبریں بے بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سرکاری ملازمین پر داڑھی لازمی قرار نہیں دی گئی۔باجماعت نماز نہ پڑھنے والے ملازمین پر جرمانہ یا تنخواہوں میں کٹوتی کی خبر میں بھی کوئی صداقت نہیں ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق البتہ باجماعت نماز نہ پڑھنے والوں کو صرف نصیحت کی جائے گی اور سمجھایا جائےگا کہ وہ باجماعت نماز کا اہتمام کریں۔
واضح رہے کہ منگل کو طالبان حکومت کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا تھا کہ داڑھی نہ رکھنے پر سکیورٹی فورس کے 280 سے زائد اہلکاروں کو برطرف کیا گیا۔اس سے قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ افغانستان میں حکومت سنبھالنے کے بعد ملک میں تمام سرکاری محکموں میں ملازمین کیلئے داڑھی نہ منڈوانے اور مقامی لباس پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے