امریکی خوشنودی کے لئے مودی کا دورہ یوکرین، بھارتی دوغلا پن پھرعیاں
بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے یوکرین کے دورے نے ہندوستان کادوغلاپن پھر سے عیاں کردیا۔
نریندرمودی23 اور 24 اگست کو یوکرین کادورہ کرنے والے ہیں،بھارتی وزیراعظم کے اس دورے کو امریکا اور یورپ کی خوشنودی کے لئے ایک موقع پرست اقدام کے طور پردیکھاجارہاہے کیونکہ نریندر مودی کو روس کے اعلیٰ ترین ایوارڈ سے عین اس وقت نوازاگیا تھا جب روس نے یوکرین کے بچوں کے ہسپتال پر حملہ کیا تھا،اس ایوارڈکی وجہ سے بھارتی وزیراعظم کو سخت تنقید کابھی سامنا کرناپڑا تھا۔
نریندرمودی یوکرین جنگ کے دوران جب روس کے دورے پر گئے تو انہوں نے امریکی خدشات کے باوجودنہ صرف روس سے تیل کی خریداری جاری رکھی بلکہ 9 معاہدوں پر بھی دستخط کئے جن میں ایک معاہدہ ایسے بھارتی شہریوں کی واپسی کا تھا جو یوکرین میں روسی فوج کےلئے لڑرہے تھے۔

بھارت روس سے ایس400 میزائل سسٹم بھی حاصل کرچکا ہے اور تیل کی خریداری بھی جاری رکھے ہوئے ہے ایسے میں اب بھارتی وزیراعظم روس کے ساتھ برسرپیکار یوکرین کادورہ کرنے جارہے ہیں ۔ بھارتی وزیراعظم کے اس دورے کی وجہ سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر بھی کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں