علیمہ خان پر انڈے پھینکنے والی خواتین حراست میں لیے جانے پر اڈیالہ چوکی منتقل

اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان کی میڈیا سے گفتگو کے دوران انڈے پھینکنے کا واقعہ پیش آیا، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 2 خواتین کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق حراست میں لی گئی دونوں خواتین کو اڈیالہ جیل چوکی منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کے دوران شور شرابہ بھی ہوا تاہم صورتحال کو قابو میں لے لیا گیا۔علیمہ خان نے ردعمل میں کہا کہ ہمیں فکر نہیں کہ ہم پر کوئی حملے کر رہا ہے، ہمیں پہلے سے سب پتا ہے۔

قبل ازیں اڈیالہ جیل کے باہر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران علیمہ خان کو اس وقت سخت سوالات اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔جب ایک صحافی نے ان پر اور ان کے خاندان پر دھمکیوں کے سنگین الزامات عائد کیے۔

علیمہ خان صورتحال پر کوئی جواب دیے بغیر گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگئیں۔علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عوام کے موڈ اور غصے سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستان کس سمت جا رہا ہے۔

ان کے بقول لوگوں نے ظلم قبول نہیں کرنا، یہاں پولیس والے تک کہتے ہیں کہ ہم تنگ آ گئے ہیں۔ اب سب کو سمجھ آ رہی ہے کہ یہ سسٹم ناقابلِ قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو پاکستانی قوم دنیا کو یہ پیغام دے چکی ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے کھڑی ہو سکتی ہے۔

علیمہ خان نے مزید کہا کہ یہ ظلم عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ پوری قوم کے خلاف ہو رہا ہے۔ اصل میں یہ لوگوں کی آواز بند کرنا چاہتے ہیں، عمران خان تو قانون، جمہوریت اور عوامی حقوق کے لیے کھڑے ہیں۔

گفتگو کے دوران ایک صحافی نے الزام لگایا کہ علیمہ خان بھی میڈیا کو آزادی نہیں دیتیں۔ صحافی نے کہا کہ میڈم آپ بیانیہ بناتی ہیں کہ میڈیا کو آزادی نہیں، لیکن آپ خود سوال نہیں کرنے دیتیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے