بیلجیم نے فلسطین کو تسلیم کرنے اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا
بیلجیم کے وزیرِ خارجہ اور نائب وزیرِاعظم میکسم پریوو نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک رواں ماہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر منگل کی صبح اپنے بیان میں میکسم پریوو نے کہا کہ بیلجیم اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں فلسطین کو تسلیم کرے گا اور اسرائیلی حکومت کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
وزیرِ خارجہ کے مطابق بیلجیم کی جانب سے اسرائیل پر 12 پابندیاں لگائی جائیں گی، جن میں مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیرقانونی اسرائیلی بستیاں سے آنے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی اور اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ سرکاری معاہدوں کا ازسرنو جائزہ شامل ہے۔
میکسم پریوو نے کہا کہ یہ فیصلہ فلسطین، خصوصاً غزہ میں جاری انسانی المیے کے پیشِ نظر کیا جا رہا ہے، تاہم بیلجیم کی جانب سے فلسطین کو باضابطہ تسلیم کرنے کا عمل اس وقت مکمل ہوگا جب آخری اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیا جائے اور حماس کا فلسطین کے انتظامی معاملات میں کوئی کردار باقی نہ رہے۔
بیلجیم کے وزیرِاعظم بارت دے ویور نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ فلسطین کو تسلیم کرنے کو سخت شرائط سے منسلک ہونا چاہیے۔ جولائی میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک اقوامِ متحدہ کے اجلاس کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں