ہاتھی ذرا اونچا سنتے ہیں!

”بچپن میں کبھی ہاتھی پہ سواری کی آپ نے؟”
”نہیں تو! البتہ دوسروں کو ایسے کرتے دیکھا ہے۔ مجھے یہ کام مشکل لگتا ہے۔ میں ایک کمزور نحیف غریب کا بچہ، بھلا ہاتھی پہ سواری کیسے کرتا؟مجھے تو ویسے بھی یہ جانور بھدا سا لگتا ہے۔ بدصور ت اور دیوہیکل ، بھاری بھرکم ، شکل اور رنگ دونوں کے لحاظ سے نا پسندیدہ۔”
”ویسے بڑا زبردست جانور ہے یہ۔ کھاتا کافی ہے، مگرمیلوں چلتا ہے۔ بڑے بڑے بوجھ اٹھاجاتا ہے۔ بڑے وزن کھینچ لیتا ہے۔اپ کو معلوم نہیں کیوں اچھا نہیں لگتا”
"اچھا لگنے اور نہ لگنے کی بات اورہے۔ میں تو اس کی ہیبت کی بات کررہاہوں۔ جنگل کے سب جانوروں پہ حاوی ہوتاہے۔ چھوٹے موٹے جانورتو اس کا نام سن کر اور شکل دیکھ کر ہی دبک جاتے ہیں جبکہ بڑ ے جانور اس کی اہمیت کے پیش نظر، اس سے دوستی کرلیتے ہیں ۔۔۔”
” مجھے پتہ تھا آپ بات سیاست کی طرف لے جائیں گے۔۔۔خیر،آپ ہاتھی کے بدصورت اور بھدا ہونے کی بات کررہے تھے، ویسے ہاتھی کے کچھ پہلو خوبصورت اور نازک بھی ہوتے ہیں۔ ہاتھی کے دانت خوبصورت اور بہت قیمتی چیز ہے جس کی دنیا میں بہت مانگ ہے، اسی طرح ہاتھی کی سونڈ بڑی نازک ہوتی ہے۔ اس کے پاؤں کے تلوے بڑے نرم و گداز ہوتے ہیں۔”
”ویسے آپ خواہ مخواہ متاثر ہوتے جارہے ہیں۔بچپن میں یہ مجھے صرف ناپسند تھا۔ جب سے تھوڑا شعور ملا، مجھے ہاتھی قابل نفرت لگنے لگا۔ اس لئے کہ اس کی تمام تر خصوصیات جدید زمانے کی بڑی طاقتوں سے ملتی جلتی ہیں، جنہوں نے پوری دنیا کو اپنا باجگزار بنایاہوا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے ہم سب ہاتھیوں کے ہتھے چڑ ھ گئے ہیں۔ خاص طور پر ایک ”سفید ہاتھی”نے تو سب کا جینا حرام کررکھا ہے۔”
”آپ تو خیر ہر بات کو سیاسی رنگ دینے لگ جاتے ہیں۔ میں تو صرف ایک معصوم جانور کی بات کررہا تھا جو امن پسند اور صلح جو قسم کا ہوتا ہے۔ سیدھا سادا مگر باشعور ۔۔۔سنا ہے اس کے کان راڈار کا کام کرتے ہیں۔ میلوں دور کی ہلکی سی آواز بھی سن لیتا ہے۔ انسان کی خدمات کے حوالے سے بھی ہاتھی بہت مفید جانور ہے۔ ہاتھی دانت سے بہت خوبصورت اور اعلیٰ چیزیں بنتی ہیں جو انسانوں کے کام آتی ہیں۔ انسانی زندگی میں اس کی اہمیت اور خدمات کے تحت ہماری زبانوں میں ہاتھی کے بہت سے محاورے استعمال ہوتے ہیں جیسے ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں وغیرہ ۔یہاں تک کہ کچھ علاقوںمیں ہاتھی کی پوجا ہوتی ہے۔”
”یہ سب کچھ بالکل ٹھیک کہا آپ نے ! عام تام ہاتھی ایسا ہی ہوتا ہے ۔ مگر یاد رکھنا کہ ہاتھی کی ایک قسم بڑی خطر ناک اور سفاک ہوتی ہے ۔ میں جس ہاتھی کی بات کر رہا ہوںوہ ہےنظام سرمایہ داری کی علامت ، استعمار کا دادا اور دلدادہ۔جس کے دانت، کھانے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ یہ بظاہر خوبصورت نظرآنے والے دانت اپنے عمل اور سرگرمیوں کے لحاظ سے بڑے خوفناک اور ہولناک ہیں ۔ آپ نے ہاتھی کے پاؤں کی نرمی کی بات ہے، یہ اس قدر نرم و گداز اور بے آواز و بے نشان ہوتے ہیں کہ بیسیوں انسانوں کو بھی ”لتاڑ” جائے تو کوئی نشان نہیں ملتا۔ خود ہاتھی کو بھی خبر نہیں ہوتی۔ ”
” ویسے ہاتھی واقعی حساس بھی ہوتے ہیں ، ان کے کانوں کو دیکھا آپ نے۔۔۔”
"آپ نے کہا اس کے کان بڑے حساس ہوتے ہیں۔جی ہاں! یہ کان اس کے مفاد پر ہی کھڑے ہوتے ہیں۔صرف اپنے ہم جنس کی آواز کو ہی دور سے سنتے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہاتھی کانوں کے کچے ہوتے ہیں اور ذرا اونچا سنتے ہیں۔ اپنے مطلب کی آواز دوسرے براعظم سے بھی سن لیتے ہیں مگر اپنے پاؤں تلے کچلے جانے والے لاکھوں انسانوں کی چیخ و پکار قریب سے بھی نہیں سنتے یا پھر دیر سے سنتے ہیں، جب تک اس کا کام تمام ہوچکا ہوتا ہے۔آپ نے سونڈ کی نزاکت کی بات کی، مگر اس کی ہوسناکیوں کو بھول گئے۔ ہاتھی کی یہ سونڈ اس کی حرص و ہوس کا آلہ ہے اور سب کچھ ہڑپ کرلینے کا بنیادی ذریعہ۔یہ ہاتھی کی ثقافتی علامت ہے جس سے وہ سونگھنے اور راستہ بنانے کے سارے کام کرتاہے۔۔۔ خام مال کو لپیٹ کر، توڑ مروڑ کے اس کے دانتوں تک پہنچاتا ہے۔ اسی بنیاد پر میں تو ہاتھی کواستعمار کا استعارہ سمجھتا ہوں۔”
” یہ بات تو آپ کی صحیح معلوم ہوتی ہے، مگر بڑی طاقتوں کے عوام تو ایسے نہیں ، یہ حکومتوں کا معاملات ہیں میرے خیال میں ۔۔۔”
” درست کہا آپ نے مگر ایسی حکومتیں بھی تو معصوم عوام ہی منتخب کرتے ہیں ، اور پھر ظالموں کا احتساب بھی نہیں کرتے۔۔۔آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت کی دنیا ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے سے دوچار ہے۔ اس کے دیگر نقصانات کے علاوہ ایک مسئلہ پورے خطہ زمین کے اوسط درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہے جس کے نتیجے دنیا ایک جہنم میں تبدیل ہورہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں کئی مقامات پر قیامت صغریٰ برپا کر رہی ہیں۔ یہ بھی آپ کے علم میں ہوگا کہ یہ سب صنعتی انقلاب سے مفادات پورے کرنے والوں کی لاپرواہی کا شاخسانہ ہے۔ یورپ کی ترقی کا یہ ”دھواں دھار”اور بھیانک پہلو ہے جس نے انسانیت کا منہ کالا کردیا ہے۔”
” مگر امریکہ تو بنیادی حقوق اور انسانی آزادی کا چیمپین ہے، اور بہت سے لوگوں کے لیے دنیاوی جنت ہے۔”
” جب براعظم امریکہ دریافت ہوا تو یورپی ملکوں سے انسانی آبادیوں کے غول یہاں آکر بسیرا کرتے گئے۔یہاں کی قدیم انسانی آبادی کو قتل کیا یا غلام بناکے بیچا۔یہاں تک انسانی گوشت کی دکانیں تک چلائیں۔ امریکیوں کا شجرہ نسب یورپی اقوام سے ملتا ہے ۔ جغرافیائی طور پر مغرب سے الگ ہونے کے باجود ، ثقافتی ورثے کے لحاظ سے ، ان کا استاد ہے۔ انسان کے بنیادی حقوق کا بھی اپنے آپ کوعلمبر دار سمجھتا ہے۔ مگرا سکی کھلے بندوں منافقت کا منظر سب کے سامنے ہے۔اس کے ہاتھ کتنے معصوم فلسطینوں کے خون سے رنگے ہیں ۔ امریکی، دنیا کی کل آبادی کا چار پانچ فیصد ہیں مگر ان مہلک گیسوں کا ایک چوتھائی حصہ صرف امریکہ کی طرف سے ماحول میں مسلسل شامل کیا جارہا ہے، جو پورے خطۂ زمین اور انسانی آبادیوں کے لئے خطرناک ہیں۔ یہ آلودگی دیگر معاشرتی سرطانوں سے الگ ہے، جو امریکہ اور یورپ نے انسانیت کو تحفے میں دیئے ہیں اورسب نے ہاتھوں ہاتھ لئے ہیں۔ ایک طرف انسان دوستی کے نعرے اور دوسری طرف انسانیت کشی کے منصوبے، ایک طرف قومیتوں کی تقسیم اور دوسری طرف اقوام متحدہ کے نام پر بلیوں کی دمیں اکٹھی باندھنے کا تجربہ ۔ پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات۔ ”
"خیر اقوام متحدہ نے تو کافی کام اچھے بھی کیے ہیں، انسانیت کی خوشگواری اور خوشحالی کے۔۔۔”
"جی کیے ہیں لیکن بڑے ہاتھیوں کے ہاتھ میں جو وی ٹو پاور رکھی گئی ہے فقط اس کی ہولناکیوں کی ہی داستان سن لیں تو الامان کی سسکیوں میں ڈوب جائیں گے۔۔۔ایک طرف بنیادی حقوق کے نام پر سیاسی ہوس بازی اور دوسری طرف معاشی قتل عام کا سرمایہ داری نظام، انسانی مساوات کے نام پر اخلاقیات سے آزادی کا دلکش نعرہ اور ”فری مارکیٹ اکانومی” کے نام پر بھوکے بھیڑیئے اور نحیف و نزار بھیڑ کے درمیان ”آزادانہ مقابلے” کی فضا۔۔۔یہ ہیں آپ کے سیدھے سادھے اور انسانیت کے خدمت گزار ہاتھیوں کے کمالات! یہ ہے یو این کی سلامتی کونسل کے نام پہ بڑوں کی بیٹھک کی روداد سیاہ!!! کسی کے ایک تبسم پہ بنائے آشیاں رکھ دی؛ شراروں کو نشیمن کا نگہباں کر لیا میں نے !”

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے