قیام پاکستان ، یوم آزادی اور ہماری زمہ داریاں

‎ہم وطن پاکستانیوں کو بر صغیر ہندوستان کے بر طانوی‎سامراج سے آزادی ، پاکستا ن کے قیام اور آج اس کی سالگرہ کی  مبارک ہو-

‎قائد اعظم کی قیادت میں جن لوگوں نے یہ پاکستان کا تحفہ دیا اللہ ان کو جنت میں اعلی مقام نصیب کرے – نریندر مودی کی حکومت میں بی جے پی مسلمانوں اور باقی اقلیتوں سے جو سلوک کررہے ہیں اس سے واضع ہوتا ہے کہ قائد اعظم نے کتنا دور رس فیصلہ کیا تھا –

‎  ہم وطنوں کو اس سال مئ میں ہندوستان کے خلاف حاصل ہونے والی دفاعی اور سفارتی برتری بھی مبار ک ہو – یہ خوشی بڑے زمانے کے بعد دیکھنے کو ملی – دعا ہے کہ یہ عمل  قائم دائم رہے -آمین-

پس منظر

بر صغیر ، جس کو کسی زمانے میں ایک ہندو بادشاہ بھرت کے نام پر بھارت یا بھارت ورش بھی کہا جاتا تھا کی اسی فیصد سے زیادہ آبادی بیرونی تاجروں اور حملہ آوروں کی اولاد میں سے ہے- بھارت کے اصل باشندے تو ادی واسی تھے جن کے ساتھ بڑی زات کے ہندؤں وہی سلوک کر رہے ہیں جو گوروں نے امریکہ میں ریڈ انڈئینز کے ساتھ  کیا تھا اور اب مسلمانوں ، عیسائیوں ، سکھوں وغیرہ کے ساتھ کیا جارہا ہے –

حملہ آور ، تاجر اور سیاح  اپنی مذہبی رسومات اور تہذیب لیکر آئے تھے ان  میں سے اکثر یہاں آباد ہوگئے – ان میں سے  آرئیین ، دراوڑ ، کچھ چنگیزی ، مغل  ، یورپئین ، افغان ، عرب ، مشرق وسطی وغیرہ کے  لوگ ہیں –

بر صغیر کسی ملک کا نام نہیں بلکہ جغرافیائی خطہ ہے جس میں سینکڑوں چھو ٹے بڑے ملک ، راجواڑے اور جاگیر دار تھے – اس وقت کا پاکستان ، بنگلہ دیش ، سری لنکا ، بھو ٹان ، نیپال ، افغانستان ، میانمر کے علاقے  بھار ت میں شامل تھے اور آج بھی technically خطہ بھارت کے واسی ہیں ، لیکن وہ بھارت نہیں جسے نریندر مودی مہا بھارت کہہ کر اکھنڈ بھارت کے طور  ہندو ملکیت جتلا کر پارلیمنٹ ہاؤس میں اس زمانے کے بھارت ورش کے طور مہا بھارت کا نقشہ لگایا  ہے  ۔اس کو بر صغیر ہند بھی کہتے ہیں – یہ ہندو ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ ایرانیوں نے اس کا نام دریائے سندھ کے حوالے سے سندھو جو ہندی پھر ہندوستان کے نام سے بھی جانا  جاتا ہے –

مذاہب اور حکو متیں

یہاں غالب اکثریت ہندؤں کی تھی جن میں برھمن حکومت کرتے تھے  جن کی زیادتیوں اور جور و جبر سے تنگ آکر  بیدار مغز ہندؤں نے نئی سوچ اپنائ جن سے دوسرے مذاہب وجود میں آئے جیسے بدھ مت ، جین مت ، شئیو مت ، ویشنو مت ، سکھ مت وغیرہ – عرب دنیا کا تجارت کے حوالے سے  بھارت کے ساتھ بحری رابط تھا- پیغمبر اسلام کی بعثت کے بعد مسلمان ہونے والے عربوں کے تعلقات ویسے ہی رہے جن میں سے بے شمار یہاں آباد ہو گئے- اسلام کے افریقہ ، وسطی ایشیا ، جنوبی ایشیاء ،اور باقی دور نذدیک کے ملکوں میں پھیلنے سے بھارت میں بھی ان کی تعداد بڑھنے لگی – خوش حال مسلمان تاجروں نے اپنے اثر ورسوخ اور امارت سے چھو ٹی چھوٹی جاگیریں خریدیں  جو بڑھتے بڑھتے ریاستوں میں ڈھل گئیں – آٹھویں صدی سے بیسیوں صدی تک برصغیر کے مختلف  حصوں پر درجنوں مسلمان خاندانوں جیسے اموی، غزنوی ، غوری، خلجی ، تغلق، سید ، خاندان غلاماں ، لودھی، سور وغیرہ کی حکو متیں وجود میں آئیں  – مسلمان خاندانوں میں سے مغلیہ خاندان نے تقریبآ ساڑھے تین سو سال حکومت کی – مغلوں کے اکبر بادشاہ کے زمانے میں نصف سے زیادہ بھارت ان کے قبضے میں تھا جو ان سے پہلے صرف اشو کا اور ان کے بعد انگریزوں کے زمانے میں تھا –

مسلمانوں کی حکومتوں کے خلاف ہندوستان کے اصل ہندو واسیوں  نے انگریزوں سے مل کر  مغلوں سے حکومت چھینی اور خود ان کی قلمروں کے علاقوں پر حکومت قائم کی – ہندؤں اور انگریزوں نے پھر ملکر مسلمانوں سے چن چن کے انتقام لیا – پھر ہندؤں اور مسلمانوں نے مل کر انگریزوں کے خلاف آزادی کی جنگ شروع کی – مسلمانوں نے انگریزوں سے آزادی کے علاوہ  انگریز ، ہندو گھٹ بندھنُ کے تعصب اور زیادتیوں کے پس منظر میں  بر صغیر کی آزدی کے ساتھ اپنے لئے الگ ملک کی مانگ بھی کردی –

‎   پاکستان کا قیام برصغیر کے سارے مسلمانوں کی کوشش سے ممکن ہوا جن میں وہ لوگ سر فہرست تھے  جن کے علاقے اور گھر بار نے  کبھی پاکستان ‎ نہیں بننا تھا – پاکستان کے لوگ ان کے مقروض ہیں جن کیُ نسلیں اب نریندرہ مودی کے جبر کا شکار ہیں-

پاکستان کا نام

  بر صغیر میں مسلمانوں کے لئے الگ ملک کا تصور تو      علامہ اقبال کے 1930 کے خطبہ الہ آباد اور قائد اعظم کی صدارت میں مسلم لیگ کے اجلاس 1940 میں  قرارداد  لاھور کے زریعہ وجود میں آیا تھا اور قرار داد لاھور کو لوگوں نے قرار داد پاکستان کہنا شروع کردیا تھا ،  لیکن ان میں  “ ہندوستانی وفاق کے اندر آذاد اور خود مختار ریاستوں “ کا تصور تھا –   پاکستان کے نام سے ملک ہونے کے طور تجویز چوہدری رحمت الٰہی کے ‎ کے ( Now or Never) انگریزی کے( پمفلٹ) زریعہ 1933 میں سامنے آیا تھا   – لفظ “ پاکستان “ کی باز گشت تو 1930 میں مظفر آباد کے  مرحوم سید غلام حسین شاہ کی ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کے پاس اس درخواست سے سامنے آئ تھی جو انہوں نے اپنے اخبار کے ڈیکلریشن کے لئے دی تھی –

‎مسلمانوں کے لئے  “ پاکستان “ کے نام سے ایک آزاد اور خود مختار  ملک   کا مطالبہ  پہلی بار9 اپریل  1946 میں منتخب ہونے والے مسلم لیگ کے صوبائی اور مرکزی ممبران نے  قرار داد دہلی کے زریعہ کیا جس کا قیام   14/15 اگست  1947کیُ درمیانی  رات کو ہوا – پاکستان کا یوم آزادی غالبآ دو یا تین سال تک 15 اگست کو ہی منایا جاتا رہا- قائد اعظم نے حلف بھی اسی تاریخ کو لیا ، ڈاک ٹکٹ اور سال بھر کی چھٹوں کا کیلنڈر بھی اسی تاریخ سے جاری ہوا تھا – لیکن  پاکستان کو اقتدارمنتقلی ،  آزادی کی رسمی تقریبات 14 اکست سے ہی شروع ہوگئ تھیں – کچھ عرصہ بعد  آزادی کی یہ تقریبات سرکاری طور 14 اگست کو منانی شروع کی گئیں جو لیاقت علی خان کے حکم سے منسوب ہیں ۔

‎غالبآ وقت کے فرق کی وجہ سے پاکستان کا یوم آزادی 14 اگست کو مقرر کیا گیا اور منایا جاتا ہے کیونکہ رات بارہ بجے  جس وقت ہندوستان کی آزادی کا اعلان ہوا اس وقت پاکستان میں 14 اگست رات کے ساڑھے گیارہ بجے تھے جب کہ ہندوستان میں بارہ بجے تھے جو پندرہ اگست بنتا ہے –

  ہندوستان کے تقسیم کے اصول

ہند وستان کی آزادی کے قانونُ 1947 میں یہ اصول وضع کیا گیا تھا کہ جو جو صوبے براہ راست بر طانوی ہند  کا حصہ ہیں اور ان دو میں سے جس  ملک کے ساتھ متصل ہیں  اور ان کی آبادی کی اکثریت کا مذہب اس سے ملتا ہو وہ اس کا حصہ ہو ں گی اور جو خود مختار ریاستیں ہیں وہ 15 اگست سے آزاد ہونگی لیکن وہ بھی ان ہی دو ملکوں سے ان ہی اصولوں کی بنیاد پر الحاق کا فیصلہ کریں گی – بنگال اور پنجاب کی سرحدیں دو نوں ملکوں سے ملتی تھیں اس لئے یہاں تقسیم کے لئے ثالث مقرر ہوا جس نے تقسیم کی جو بلا شبہ ہندوستان کے حق میں جانبدارانہ تھی –

سال 1947 میں وجود آنےوالا ملک  مشرقی اور مغربی پاکستان کے علاقوں پر مشتعمل تھا جو سال 1971 میں انتظامی اور اقتصادی نا انصافیوں کی وجہ سے شورش کا شکار ہوگیا اور ہندوستان کی مدد سے الگ ہوکر  بنگلہ دیش کے نام پر نئے ملک کے طور وجود میں  آگیا لیکن اس میں ہندوستان کی بے جا مداخلت کی وجہ سے عوامی نفرت  بغاوت  میں بدلتی رہی ، حکمرانوں کی قتل و غارت  شروع دن سے جاری رہی – اس کی انتہا مئ 2024 کو ہوئُی جب شیخ حسینہ کو حکومت چھوڑ کے ہندوستان میں پناہ لینا پڑی اور  بنگلہ دیش  اپنی آزادی بحال رکھتے ہوئے پاکستان کے ساتھ دو قالب اور ایک روح کے مطابق متحد ہو گیا – میری نظر میں یہ  دو ملک ضرور ہیں لیکن ان کی قوم ایک ہے –

 ریاست جموں و کشمیر مسلمان اکثریت کی ریاست تھی لیکن اس کا مالک حکمران ہندو تھا اور اس کی سرحدیں بھی ہندوستان سے نہیں ملتی تھیں لیکن اس نے قانون کی خلاف ہندوستان سے الحاق کیا گوکہ اس کے 2/3 حصہ نے  مہاراجہ کی فوجیوں سے آزاد کر کے اس الحاق سے دو دن پہلے  الگ ہوکر اپنی آزاد حکومت بنالی تھی  جس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے شامل ہیں جو آج تک پاکستان کے زیر انتظام ہے  لیکن ان کو پاکستان کا حصہ نہیں بنایا جا سکا حالانکہ ان کا نظم و نسق ایک صوبے کے طور چلایا جاتا ہے گوکہ   پاکستان کے کسی نمائندہ ادارے کے ممبر نہیں-  بقیہ ہندوستان کے پاس ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان باعث کشیدگی اور اس وقت تک ان دو ملکوں کے درمیان  سال 1947- 1965- 1971 – 1999 میں زمینی اور 2025 میں جدید ٹیکنالجی سے گھمسان کی ہوائی جنگ ہوئ  جس میں پاکستان نے ہندوستان کے نصف درجن جنگی فائیٹر گرا دیے جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا سیاسی ،  سفارتی  اور نا قابل شکست فوجی  طاقت کے طور تاثر ابھرا – پاکستان کو اس تاثر کو نہ صرف روز بروز بڑھانے کی ضرورت ہے بلکہ اس کے زریعہ ایسا اثر و رسوخ پیدا  کرنے کی ضرورت ہے کہ دنیا ہندوستان کو پاکستان کے ساتھ کشمیر کا تنازعہ حل کرنے پہ مجبور کرے -اس کے حتمی حل اور تقسیم ہند  کے اصولوں کے مطابق پاکستان کا حصہ  بنے بغیر پاکستان بھی نامکمل ہے-ہندوستان اور پاکستان کو اپنے اثاثے بارود کے زریعہ اڑانے کے بجائے اپنے غریب لوگوں  کی صحت، تعلیم و تربیت اور انسانی فلاح و بہبود  ، ملکی سائنس اور ٹیکنالجی پر خرچ کر کے ان کے معیار زندگی کو بلند کریں ۔

  14 اگست، پاکستان کا یومِ آزادی، نہ صرف ہماری تاریخی جدوجہد کی علامت ہے بلکہ ایک نئے عہد کا آغاز بھی ہے۔ یہ دن ہمیں اپنی آزادی کی قدر سکھاتا ہے اور ہر پاکستانی کو یہ عہد کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی ریاست کو مضبوط، خوشحال اور عالمی سطح پر سربلند کریں گے۔ آج، جب ہم اپنی آزادی کی 78ویں سالگرہ منا رہے ہیں، ہمیں چند عملی اقدامات پر غور کرنا ہوگا جو پاکستان کی ترقی، استحکام، کشمیر کے عادلانہ حل، اور عالمی امیج کی بہتری کے لیے ناگزیر ہیں۔

  1. قومی اتحاد اور معاشی استحکام

پاکستان کی ترقی کا اولین ستون قومی اتحاد ہے۔ ہمیں سیاسی، مذہبی، اور لسانی تقسیم سے بالاتر ہو کر ایک قوم بن کر کام کرنا ہوگا۔ حکومت کو اپوزیشن کو سپیس دینے  اور اپوزیشن کو حکومت کو کامُ کرنے کا موقع دینے کی ضرورت ہے -معاشی استحکام کے لیے، ہمیں اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ مقامی صنعتوں کو فروغ دینا، برآمدات بڑھانا، اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ زراعت، جو ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جانا۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کو آسان قرضوں اور تربیت کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے  تاکہ وہ معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

  1. تعلیم اور ہنر کی ترقی

ایک ترقی یافتہ پاکستان کے لیے تعلیم بنیادی ضرورت ہے۔ ہر بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی یقینی بنائی جائے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت کے اداروں کو مضبوط کیا جائے تاکہ ہماری نوجوان نسل عالمی معیار کے مطابق ہنر سیکھ سکے۔ ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دینے سے ہم نہ صرف اپنی افرادی قوت کو مضبوط کریں گے بلکہ عالمی مقابلے میں بھی آگے بڑھیں گے۔

  1. کشمیر کے مسئلے کا پرامن حل

کشمیر پاکستان کے دل کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ ہمیں عالمی فورمز پر کشمیر کے لیے آواز اٹھانی ہوگی اور سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ہوگا۔ پرامن مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کے تحت کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھنی ہوگی۔ ہمیں اپنی سفارتی صلاحیتوں کو بڑھانا ہوگا تاکہ عالمی برادری کو کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ کشمیر کا منصفانہ حل زمینی حقائق کی روشنی میں صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے کسی مہم جوئ یا بٹ دھرمی سے نہیں-

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت ختم کئے بغیر   پاکستان کے آئین کی تحت رشتہ قائم کرنے کی ضرورت ہے  تاکہ ان علاقوں کا مقامی اور بین الاقوامی تشخص قائم ہو سکے – پاکستان کے پاس جو ہے وہ اس کو اپنا بنائے دوسرے کی کرشش جاری رکھے –

  1. عالمی امیج کی بہتری

پاکستان ایک پرامن، ترقی پسند، اور متحرک قوم ہے۔ ہمیں اپنی ثقافت، سیاحت، اور مثبت اقدار کو اجاگر کرنے کے لیے عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا کا موثر استعمال کرنا ہوگا۔ پاکستانی سفارتخانوں کو چاہیے کہ وہ ثقافتی تقریبات، نمائشوں، اور بین الاقوامی فورمز کے ذریعے پاکستان کا مثبت امیج پیش کریں۔ ہماری نوجوان نسل کو سوشل میڈیا پر پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کرنے کی ترغیب دی جائے۔

  1. ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی

ہمارے ملک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہمیں جنگلات کی بحالی، صاف پانی کی فراہمی، اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر توجہ دینی ہوگی۔ شہریوں کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے آگاہی مہمات کا حصہ بنایا جائے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک سرسبز پاکستان چھوڑ سکیں۔

  1. قانون کی بالادستی اور انصاف

ایک مضبوط پاکستان کے لیے قانون کی بالادستی، اداروں کو اپنے معروف حدود میں رہنے کی ضرورت  اور عدل و احتساب  کا بے لاگ نظام ناگزیر ہے۔ اداروں کو اپنے اپنے حدود میں مضبوط بنایا جائے، کرپشن کے خاتمے کے لیے شفاف نظام وضع کیا جائے، اور ہر شہری کو انصاف تک رسائی یقینی بنائی جائے۔ جب ہر پاکستانی کو یہ یقین ہوگا کہ اسے انصاف ملے گا، تو قوم خود بخود ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی۔ انصاف انتظامی، عدالتی اور انفرادی ہی بقاکی ضمانت ہے –

  1. نوجوانوں کی شمولیت

پاکستان کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ ہمیں انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا ہوگا۔ ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے اسپورٹس، آرٹس، اور سائنس کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس کے علاوہ، انہیں قومی اور عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرنے کی تربیت دی جائے۔

8- خواتین کا سیاسی اور سماجی زندگی میں حصہ

  ہمارے ملک میں آبادی کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل  ہے  اس لئے زندگی کے ہر شعبہ میں ان کی نمائیندگی بھی اتنی ہی ہونی چاھئے – فطری جنسی تفاوت کے علاوہ ان کو ہر اس تعلیم اور ہنر سے بہرہ مند کرنے اور آزادانہ فیصلہ لینے کا موقعہ ملنا چاھئے جو مرد کرے ہیں –

آخر میں

یہ یومِ آزادی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے اسلاف نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر یہ وطن حاصل کیا۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے مضبوط، خوشحال، اور با عزت بنائیں۔ آئیے، ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم اپنی آزادی کی حفاظت کریں گے، اپنے وطن کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے، اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں گے۔ یہ ہمارا وطن ہے، اور اس کی ترقی ہمارے ہاتھوں میں ہے۔

پاکستان زندہ باد

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے