گلگت بلتستان میں تباہ کن سیلاب،ہزاروں سیاح پھنس گئے
گلگت بلتستان میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے شاہراہ قراقرم کئی مقامات پر بند ہوگئی جبکہ غیرملکیوں سمیت ہزاروں سیاح پھنس گئے۔
قدرتی حسن اورسیاحتی سرگرمیوں کی بدولت دنیا بھر میں شہرت رکھنے والے پاکستان کے شمالی علاقوں میں ان دنوں ہیٹ ویو کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں ، گلیشئرز پگھلنے کی وجہ سے گلگت بلتستان کے مختلف ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال ہے، سیلابی ریلے کئی علاقوں سے فصلوں کو بہا کر لے جارہے ہیں اور درجنوں مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔ سیلابی صورتحال اور تودے گرنے سکی وجہ سے قراقرم ہائی وے جگہ جگہ سے بندہے ۔ اس کے علاوہ گلگت-شندور روڈ سمیت مقامی رابطہ سڑکیں بھی بلاک ہیں ۔
حکام کے مطابق قراقرم ہائی وے گلگت سے خنجراب تک متعدد مقامات پر بلاک ہے، گلگت کے جگلوٹ اور ہنزہ کے گاؤں ششکٹ میں کیچڑ کے بہاؤ کے سبب شاہراہ بند ہونے سے غیرملکیوں سمیت ہزاروں مسافر اورسیاح پھنس گئے ہیں۔
مقامی نالوں کے اوور فلو ہونے کے بعد گلگت غذر روڈ بھی متعدد مقامات پر بلاک ہہے ۔ ندی نالوں اور دریائوں میں سیلابی صورتحال سے سرکاری اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
سیلاب سے پل، سڑکیں، پانی فراہمی کے چینلز اور بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا جبکہ غذر کے کئی دیہات کا آپس میں رابطہ بھی منقطع ہوگیا۔اسی طرح علی آباد اور ہنزہ کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ شگر اور نگر بھی سیلاب سے متاثر ہوا۔ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ویدر الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام سے پہاڑی علاقوں کا سفر نہ کرنے کی اپیل کی ہے ۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں