نوازشریف اور نئی نسل میں دوریاں

پاکستان کے سیاسی افق پر کئی لوگ آئے چھائے اور پھر ایسے غائب ہوئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں لیکن کچھ سیاسی شخصیات ایسی ہیں جنہیں بھلایا تو نہیں جاسکتااالبتہ عوام میں ان کی مقبولیت اتارچڑھائو کا شکار ہوتی رہتی ہے،اچھے برے دن سیاستدانوں کی طرح ہرشعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگی میں آتے رہتے ہیں،یہ اپنی اپنی قسمت ہے کہ کیریئر کااختتام عروج کے زمانے میں ہو یا زوال کے عرصے میں۔
تین بار پاکستان کی وزارت عظمیٰ اور ایک بار پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز رہنے والے مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نوازشریف کی زندگی میں بھی کئی اتارچڑھائو آئے،نوازشریف نے کیریئر کاآغاز ایک بزنس مین کے طورپر کیااورکاروبار کے میدان میں عروج تک پہنچے،حاسدین اور مخالفین نے کئی بار نوازشریف کوکاروبار میں نقصان پہنچانے کی کوششیں کیں مگریہ کوششیں عارضی ثابت ہوئیں،نوازشریف کاروبار سے سیاست میں آئے یا لائے گئے تو قسمت یہاں بھی ان پر مہربان رہی انہوں نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ اور پھر اپنی تین بار کی وزارت عظمیٰ کے دوران پاکستان کے دفاع، ملکی انفراسٹرکچر کی بہتری اور عوام کی خوشحالی کے لئے کئی ایسے کام کئے جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے، بزنس کی طرح حکمرانی میں بھی نوازشریف کی پرفارمنس بہتری کی جانب ہی گامزن رہی ۔
اقتدار کے دوران جب برے دن آئے تویہیں سے نوازشریف کی سیاسی بصیرت کاامتحان شروع ہوا، نوازشریف کے سیاسی فیصلے ہر دور میں تنقید کی زد میں رہے ہیں، کئی فیصلوں پر نوازشریف نے بعد میں معافی بھی مانگی لیکن سیاسی غلطیوں کا یہ سلسلہ کبھی رکا نہیں ،ضیاء الحق کی جانشینی کاعزم، حمید گل کے سکرپٹ کے مطابق آئی جے آئی میں شمولیت،جنرل پرویزمشرف سے ڈیل کرکے10 سال کے لئے سعودی عرب روانگی، جنرل کیانی کے سکرپٹ پر ججزبحالی کی تحریک میں سرگرم کردار،یوسف رضا گیلانی کے خلاف کالاکوٹ پہن کر خود سپریم کورٹ جانا،مسلم لیگ ن کو مشکل وقت میں چھوڑ جانے والے افراد کی پارٹی میں واپسی،عمران خان کے دور حکومت میں علاج کے بہانے ایک بار پھر بیرون ملک جانا، عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد پی ڈی ایم حکومت کی تشکیل سمیت کئی فیصلے ایسے ہیں جن کی وجہ سے نوازشریف تنقید کی زد میں رہے ۔ نوازشریف نے سیاسی بحرانوں کو ہینڈل کرنے کے لئے جواقدامات کئے ان سے سیاسی بصیرت کی بجائے وقتی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششیں واضح نظرآتی ہیں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نوازشریف قسمت کے دھنی ہیں، قسمت انہیں اٹک قلعے کی کال کوٹھڑی سے جدہ کے محلات تک اوراڈیالہ جیل کی صعوبتوں سے نکال کر لندن کے پرتعیش فلیٹس تک لے گئی ،اندازہ کیجیئے عمران خان کے دور حکومت میں جب نوازشریف کی صحت کو خطرات لاحق ہوئے تو 122 ڈاکٹرزان کے علاج کے لئے موجود تھے اور ڈاکٹرز کے جس پینل نے نوازشریف کوعلاج کے لئے لندن بھجوانے کافیصلہ کیااس پینل میں نوازشریف کے سب سے بڑے سیاسی حریف عمران خان کے اپنے بااعتماد ڈاکٹرز اور نوازشریف کے مدمقابل الیکشن لڑنے والی ڈاکٹریاسمین راشد کی رائے بھی نوازشریف کے حق میں تھی ۔ ہو سکتاہے نوازشریف پر "قسمت” پھر مہربان ہوجائے اور وہ دوبارہ سیاسی عروج حاصل کرلیں مگر بظاہر ایسا دکھائی نہیں دیتا۔،نوازشریف نے بہت سی غلطیاں کی ہوں گی مگر ووٹ کو عزت دو کے موقف سے پسپائی ایسی غلطی ہے جس کی تلافی نظرنہیں آرہی،8 فروری کے عام انتخابات سے قبل ہی نوازشریف ووٹ کو عزت دو کے بیانیہ کو ترک کرچکے تھے ،لندن سے وطن واپسی اورکسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہ کرنے کااعلان اس پسپائی کاباضابطہ اقرار تھا، 8 فروری کے انتخابات کے نتائج نے نوازشریف کو سیاست میں اپنی غلطیوں کاازالہ کرکے تاریخ میں امر ہونے کا موقع فراہم کیا لیکن نوازشریف نے یہ موقع ضائع کردیا۔ نوازشریف وکٹری سپیچ کی تیاری کررہے تھے لیکن توقع سے کم نشستیں ملنے کی وجہ سے ان کی تقریر تاخیر کاشکار ہوئی اور پھراس میں ردوبدل بھی کیا گیا،یہ وہ موقع تھا جب نوازشریف دل سے ووٹ کو عزت دو کانعرہ لگاتے اور قوم کے سامنے اعلان کرتے کہ مجھے مینڈیٹ نہیں ملا عوام نے جنہیں منتخب کیا ہے وہ حکومت بنائیں ہم عوام کے فیصلے کااحترام کریں گے لیکن نوازشریف کافیصلہ اس کے برعکس تھاوہ وزارت عظمیٰ کی دوڑسے تو دستبردار ہوگئے لیکن فارم 47 کی ایسی تہمت اپنے گلے میں ڈال لی جس سے اب جان نہیں چھڑائی جاسکتی،لگتاہے نوازشریف سیاسی میدان میں غلطیوں سے باز نہیں رہ سکتے۔
پاکستان کی دوتہائی آبادی نوجوانوں پرمشتمل ہے ،یہ نئی نسل ویسے بھی پرانے سیاستدانوں سے تنگ نظرآتی ہے لیکن انتخابات کے نتائج کے بعد نوازشریف سمیت پاکستانی سیاست پردھائیوں تک چھائے رہنے والے جن قائدین نے فارم 47 والے گروپ میں شمولیت اختیار کی وہ نئی نسل کی نظروں میں اپنی اہمیت کھوبیٹھے ہیں اور برسوں تک ساتھ چلنے والے سیاسی کارکنان بھی ناخوش دکھائی دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے اندر سے بھی ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔
نوجوان طبقہ جذباتیت کا شکار ہوتاہے ،بنگلہ دیش کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں نوجوان سڑکوں پر نکلے تو انہوں نے یہ نہیں دیکھا حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کوغربت سے نکال کرخطے میں سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ ترقی کرنے والا ملک بنادیا،چار بارملک کی وزیراعظم رہنے والی حسینہ نوجوانوں کے سامنے ایسے بے بس ہوگئیں کہ محض45 منٹ کی ڈیڈلائن پرانڈیافرار ہونا پڑا۔
اللہ کرے پاکستان ایسے انتشار کاشکار نہ ہولیکن پرانے سیاستدان جتنی تیزی کے ساتھ نئی نسل میں اپنی مقبولیت کھو رہے ہیں اس سے یہ بات توصاف نظرآرہی ہے کہ اگر انہیں پاکستان سے فرار نہ بھی ہونا پڑا تو یہ مستقبل کی سیاست سے ضرورآئوٹ ہوجائیں گے۔ پرانے قائدین کی سیاست اب تک جن طاقتور حلقوں کی پشت پناہی سے زندہ دکھائی دے رہی ہے طاقت کے ان ایوانوں میں بھی بھونچال آچکا،یہ بھونچال واضح پیغام ہے کہ ہمیشہ رہنے والی طاقت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، کل تک جو خود کو ریاست سے زیادہ طاقتور سمجھتے تھے آج وہ نرغے میں ہیں، عمران خان اپنے دور کی اسٹیبلشمنٹ کے فیصلوں کی حمایت کرتے تھے آج اپنا کیا بھگت رہے ہیں،نوازشریف موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے فیصلوں کی حمایت کررہے ہیں تو کل انہیں بھی بہت کچھ بھگتنا پڑسکتاہے۔ قسمت نوازشریف پر کتنی بھی مہربان ہوجائے مگر پاکستان کے نوجوان ووٹرز نوازشریف سے بہت دور جاچکے ،نوجوان نسل اور نواز شریف کے درمیان فاصلے کم ہوتے دکھائی نہیں دیتے ، نوازشریف جنریشن گیپ کاادراک نہیں کرسکے،پچھلے تیس چالیس میں ایک نئی نسل پروان چڑھ کر بہت سے معاملات اپنے ہاتھوں میں لے چکی ہے اور وہ دن دور نہیں جب یہ نسل سیاست اورریاست سے بھی پرانے چہروں اور پرانے نظام کی چھٹی کردے گی ۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے