مقبوضہ جموں و کشمیر میں10 سال بعداسمبلی انتخابات کااعلان
بھارتی الیکشن کمیشن نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں دس سال بعد اسمبلی انتخابات کرانے کااعلان کردیا، یہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد پہلے انتخابات ہوں گے۔
جمعہ کے روز بھارت کے چیف الیکشن کمشنرراجیو کمار نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کااعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ انتخابات 18 ستمبر سے یکم اکتوبر تک تین مراحل میں ہوں گے۔
پہلے مرحلے کی ووٹنگ 18 ستمبراوردوسرے مرحلے کی 25 ستمبر کوہوگی جبکہ ووٹنگ کاآخری مرحلہ یکم اکتوبر کوہوگاجس کے بعد4 اکتوبر کو نتائج کااعلان کیا جائے گا۔
بھارتی الیکشن کمیشن نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں 90 نشستوں پرانتخابات کاشیڈول جاری کیا ہے جہاں87 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹرز بتائے جارہے ہیں۔
یاد رہے کہ کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آخری بار دس سال قبل 2014 میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔ اس الیکشن میں کسی جماعت کو قطعی اکثریت نہیں مل سکی تھی جس کے بعد پی ڈی پی اوربی جے پی نے اتحادی حکومت بنائی تھی تاہم بی جے پی کے اتحاد سے نکلنے کے بعدجون 2018 میں حکومت گر گئی تھی ۔
بھارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک ایسے موقع پر انتخابات کااعلان سامنے آیا ہے جب کشمیریوں کے نمائندہ سیاسی فورم کل جماعتی حریت کانفرنس کے مرکزی قائدین زیر حراست ہیں ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس بھارتی انتظامیہ کی طرف سے کروائے گئے انتخابات کابائیکاٹ کرتی رہی ہے اس باربھارت نواز جماعتیں بھی مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے پر دہلی سرکار سے ناراض ہیں اس لئے مجوزہ انتخابات میں عوام کی شرکت ماضی کے مقابلے میں بھی کم رہنے کی توقع ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں