ایف – سی آزاد کشمیر میں

حکومت پاکستان نے 15 جولائ کو ایک آرڈیننس کے زریعہ  وفاقی حکومت کو ایک آرڈی ننس کے زریعہ فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) — جو کہ ایک سرحدی سیکیورٹی فورس ہے ،  کی ازسرنو تشکیل دے کر “فیڈرل کانسٹیبلری” میں تبدیل کیا ہے – فرنٹیئر کانسٹیبلری کا قیام ابتدائی طور پر فرنٹیئر کانسٹیبلری ایکٹ 1915ء کے تحت عمل میں لایا گیا تھا جو سرحدی اور فرنٹیئر علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے ،سکیورٹی یقینی بنانے، اور  امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا تھا لیکن قومی سلامتی کی بدلتی ہوئی صورت حال، ہنگامی حالات کی بڑھتی ہوئی تعداد، قدرتی آفات، سول بدامنی، اور دیگر نئے خطرات کے پیش نظر ایک ایسی فورس کی ضرورت محسوس کی گئی جو ان چیلنجز کا فوری اور موثر مقابلہ کر سکے تاکہ امن و امان قائم رکھا جا سکے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کی جا سکے، اور سکیورٹی کے متنوع تقاضوں کو مربوط انداز میں پورا کیا جا سکے۔  اس آرڈیننس کا نام  “فرنٹیئر کانسٹیبلری (ازسرنو تنظیم) آرڈیننس، 2025” ہے – فرنٹیئر کانسٹیبلری کو سب سے پہلے کراچی،  وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تعینات کیا گیا،  گلگت بلتستان میں چائنا-پاکستان اکنامک کاریڈور (CPEC) اور بڑے ڈیم منصوبوں کی حفاظت کے لیے تعینات کیا گیاہے – اس پر متعدد حلقوں کی طرف سے اعتراض کیا جاتا رہا جس کے بعد اس آرڈیننس کے ذریعے وفاقی حکومت کو یہ مکمل قانونی اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ ایف سی کو پورے ملک میں، کسی بھی مقصد کے لیے، سکیورٹی کے نام پر استعمال کر سکے۔

ا س قانون  میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان  کو بھی شامل کیا گیا ہے حالانکہ  یہ علاقے نہ پاکستان کا آئینی حصہ ہیں نہ ہی وفاق پاکستان  کا —

اس کالم کے ذریعہ میرا موضوع بحث اس کا آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک اطلاق ہے جبکہ اس سے  پہلے سوائے Disaster Management Act 2010 . ایسا کبھی نہیں ہوا – تاہم آزاد کشمیر  میں اس سے پہلے اس کی مماثل  موجود فورس اور موجودہ آرڈی ننس کے زریعہ تشکیل  نو کا مختصر تبصرہ نظر قارئین کرنا ضروری محسوس کرتا ہوں –

 آزاد کشمیر حکومت نے پولیس ایکٹ 1913 اور اس کے قواعد 1934  کے تحت “بارڈر پولیس فورس” کے نام سے جنوری 1964 میں “ آزاد کشمیر  پولیس رینجرز “ کی تشکیل عمل میں لائ تھی جس کا مقصد Patrolling and monitoring the Ceasefire Line to prevent and respond to violations, infiltration, smuggling, espionage, and to protect the civil population and their property”  تھا – پنجاب میں “ بارڈر پولیس فورس” کے نام سے پہلے ہی ایک فورس قائم تھی جبکہ سال 1958میں “ پاکستان رینجرز “ کے نام سے ایک فورس قائم کی گئ تھی  جس کا مقصد  Security , especially during sectarian “

violence, terrorism, civil unrest, and in intelligence-based operations. “ تھا-

اس  لحاظ سے فرنٹئیر  کانسٹیبلری کو  سکیورٹی کے جدید اور پیچیدہ تقاضوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جدید ٹرینگ ، ٹیکنیک، ھتیاروں ، ٹیکنالجی  اور عالمی سطح پر انسانی حقوق  کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ریاست کی تحفظ ، سلامتی ، نظم و نسق کو  بھی اندرونی اور بیرونی سازشوں اور بد امنی پھلانے کے دیگر ہتھکنڈوں سے مقالہ کے لئے ہمہ وقت مخصوص فورس کا ہونا نا گزیر بن گیا ہے  —  اس میں توازن پیدا کرنا بڑا مشکل عمل ہے لیکن اس کے بغیر جدید تشدد پسند تحریکوں کا مقابلہ ممکن نہیں –

آرڈیننس کے مطابق، اس فورس کی سربراہی ایک انسپکٹر جنرل کرے گا جس کا تقرر وفاقی حکومت کرے گی۔ ایف سی کو ایک ریزرو فورس کے طور پر استعمال کیا جائے گا، جو اسلام آباد پولیس، صوبائی پولیس، اور دیگر سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کے لیے خصوصی فرائض انجام دے گی۔

فیڈرل کانسٹیبلری مجموعی طور پر انسپکٹر جنرل کے زیرکمان ہو گی، جن کی معاونت ایڈیشنل انسپکٹرز جنرل، ڈپٹی انسپکٹرز جنرل، اسسٹنٹ انسپکٹرز جنرل اور پولیس سروس آف پاکستان (PSP) کے دیگر افسران کریں گے، جن کا تقرر مقررہ طریقہ کار کے مطابق کیا جائے گا۔جہاں تک اس قانون کے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر براہ راست اطلاق کا تعلق ہے اس طور  یہ پہلی بار ہوا ہے –

 سال 2005 کے زلزلے کے بعد آزاد کشمیر سمیت خیبر پختون خواہ میں انسانی اور تعمیر نو کے عمل کو بحال کرنے کے لئے دنیا بھر سے ٹیمیں آنا شروع ہوئیں ، پاکستان کے پاس کوئ مربوط نظام نہیں تھا جس کے لئے 2006 میں پاکستان کی حکومت نے Disaster Management ordinance جاری کیا جس کا براہ راست اطلاق تو آزاد کشمیر میں نہیں ہوا لیکن عملی طور State Disaster Management  کے نام سے ایک ادارہ وجود میں لایا گیا جس کا نظم و نسق پاکستانی فوج ہی کے پاس تھا آزاد کشمیر کی حکومت معاونت کرتی تھی – سال 2010 میں اس آرڈی ننس کو ایکٹ کے زریعہ پاس کیا گیا جس کا اطلاق براہ راست آزاد کشمیر پر بھی ہوا اور اس کا نام سٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ ہی رکھا گیا لیکن کنٹرول فوج ہی کے پاس رکھا گیا –

سال 1975 جب سے آزاد جموں و کشمیر آئین کے تحت  کونسل قائم کی گئ تھی اس کے تحت فیڈرل نوعیت کے تمام معاملات پر قانون سازی کی کاغذی کاروائ کونسل کے نام پر ہی ہوا کرتی تھے عملی طور پاکستان کی وزرارت قانون ، داخلہ اور خارجہ کے مشورے کے مطابق ہی ہوتی تھی –

سال 2018 میں آئین میں تیرہویں ترمیم کے بعد آزاد کشمیر آئین کے تحت کونسل کے قانون سازی کے سارے اختیارات حکومت پاکستان کو منتقل کئے گئے -اس لحاظ سے یہ پہلا قانون ہے جو حکومت پاکستان نے براہ راست نافذ کیا –

    اس قانون کا تعلق” ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی” سے متعلق ہے جو آزاد کشمیر کے آئین کے تحت  یوں بھی  حکومت پاکستان کے اختیار میں ہے جس کی بنیاد 1949 کا معائدہ کراچی ہے ، اس لئے میری رائے میں یہ آئینی طور درست طور سمت میں ہے – ریاست کی سلامتی صرف فوجی دفاع تک محدود نہیں، بلکہ ایسے داخلی خطرات سے تحفظ بھی اس میں شامل ہے جو آئینی نظام یا امن عامہ کو اس حد تک متاثر کریں کہ وہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن جائیں۔

 ریاست کا دفاع اور سلامتی داخلی سلامتی کو بھی شامل کرتا ہے، کسی  علاقے میں مسلح بغاوت ہو جائے یا ملک کے اندر کوئی دہشت گرد نیٹ ورک فعال ہو، تو یہ صرف “امن و امان” کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ یہ “ریاست کی سلامتی اور دفاع” کا معاملہ بن جائے گا۔  ،شورش• دہشت گرد ی، ہنگامے، فسادات اور عوامی بے چینی، منظم جرائم اور اندرونِ ملک تخریبی سرگرمیاں ، ملک کی اندرونی سلامتی ، استحکام یا سالمیت  کے لئے چیلینج  بن جائیں- یہ صرف معمول کی کارروائی تک محدود نہیں  رہ سکتے –

اٹھارویں ترمیم کے بعد جن امور کے بارے میں قانون سازی کا اختیار حکومت پاکستان کو دیا گیا ہے ان پر حکومت پاکستان کو قانون سازی پارلیمنٹ کے زریعہ ہی کرنا چاھئے – اس اختیار کی سمت محولہ بالا معائدہ کراچی کے علاوہ حکومت پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نو ٹیفکیشن 11 مئ 1971 کے تحت مقرر کی گئ ہے کہ”  آزاد کشمیر پاکستان کے آئین کے تحت پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے باوجود  پاکستان کے صوبوں کے مماثل سمجھا جا ئے گا -“ یہ نو ٹیفکیشن تیرہویں آئینی ترمیم کے بعد آزاد کشمیر آئین کی دفعہ 19 کا حصہ ہے – اس لئے آئینی طور یہ سارا عمل درست ہے لیکن Legitimacy and propriety کے طور درست نہیں ہے کیونکہ آزاد کشمیر کے لوگ اس پارلیمانی ادارے اور حکومت کا حصہ نہیں ہیں  جو یہ قانون سازی کرتا ہے-

         آزاد کشمیر پر حکومت کرنے والے سیاست دانوں نے حکومت پاکستان کو آزاد کشمیر کو کنٹرول کرنے کے لئے مکمل اختیار دیا ہے جیسے آزاد کشمیر اسمبلی کی 1/3 نشستیں،   اور آزاد کشمیر کی سروسز کا 19 % حصہ پاکستان میں مستقل طور آباد اور پاکستانی شہریت کے حامل  لوگوں کو کشمیری مہاجرین کے نام پر دیا ہیں جبکہ ان کو پاکستان کے شہری کے طور متعلقہ صوبوں میں وہاں کے باقی شہریوں کے برابر حقوق حاصل ہیں ، آزاد کشمیر میں فیڈرل معاملات کے بارے میں قوانین سازی معہ ان کے نفاذ کے جملہ  اختیارات  ، ایمر جنسی نافذ کرنے ، آزاد کشمیر کے آئین سے ما وراء اقدامات کا  اختیار بھی حکومت پاکستان کو دیا ہے جبکہ نہ آزاد کشمیر کے لوگ پاکستان کے شہری ہیں  اور نہ زاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ ہیں – اکیسویں  صدی میں یہ کیا مضحکہ خیز صورت حال ہے ؟ اب اس صورت حال کو بدلنے کا وقت آگیا ہے اور یہ پاکستان کی سیکیورٹی اور سالمیت کا تقاضا ہے –

گذشتہ چار دن کی لڑائ کے بعد پاکستان نے ہندوستان کے خلاف جو فعال رویہ اپنایا ہے اس سے دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ،  مزاہمت کرنے والے کشمیر یوں میں اعتماد  بحال اور  ہندوستان دفاعی پوزیشن میں چلا گیا ہے – اس رویہ کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے – آئینی ، قانونی اور سیاسی پس منظر میں  کشمیر پر ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس سے  دنیا سوچنے پر مجبور ہوجائے جیسے ؛-

۱- گورنر جنرل ہندوستان کا مہاراجہ کشمیر کا الحاق نامہ تابع استصواب رائے تسلیم کر کے استصواب نہ کرانا اور نہ ہی سلامتی کونسل کی استصواب رائے کی قراردادوں کے  مطابق استصواب کرانا؛

۲- مہاراجہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ معاہدہ قائمہ اور پاکستان  کی اس کا منظور کرنا؛،

  ۳- 24 اکتوبر 1947 کی آزاد  کشمیرکے حکومت کے قیام کے بعد 26 اکتوبر کو مہاراجہ کشمیر کے  ہندوستان سے ریاست کے  الحاق کے وقت آزاد علاقے اس کی حکمرانی میں نہ ہونے:

۴- 4 اپریل 1949 کو  معاہدہ کراچی کے تحت آزاد حکومت اور اس کی حکمران جماعت کا پاکستان کے ساتھ الحاق اور گلگت بلتستان کو پاکستان کے سپرد کرنا-

            ا ن آئینی، سیاسی اور سفارتی حقائق کی روشنی میں ریاست کے آزاد علاقے مہاراجہ کشمیر کے الحاق نامہ کا حصہ نہیں – اس لئے

پوری ریاست جموں و کشمیر کو  یو این سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں اور یو این چارٹر کے مطابق فیصلہ کے تابع پاکستان کا حصہ اور  آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو آئین پاکستان کی دفعہ 257 کے تحت اس وقت تک حکومت پاکستان کے کیبنٹ ڈویژن کی نو ٹیفکیشن 11 مئی 1971 کے  تحت  صوبے کے برابر درجہ د یا جائے یا دفعہ 1 کے  کلاذ 2(d) کے تحت صوبہ یا کلاز 3 کے تحت صوبے کے درجہ کی شرائط کے ساتھ وفاق میں شا مل کر کے ان کی موجودہ متنازعہ حیثیت کو بحال رکھتے ہوئے ، ان  کی موجودہ مضحکہ خیز آئینی اور سیاسی صورت  حال کو بدل کر باعزت مقام دیا جائے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے