بلوچستان : پسند کی شادی پر خاتون کے دردناک قتل پر ملک بھر سے شدید ردعمل،
بلوچستان میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو جرگہ کے حکم پر سرعام گولیاں مار کر قتل کرنے کی دردناک ویڈیو سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں وائرل ہوگئی ہے جس پر علمائے کرام اور زندگی کے ہرشعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آرہا ہے اور واقعہ کی مذمت کی جارہی ہے۔
وائرل ویڈیو کے مطابق 20 سے زائد مسلح افراد نے جوڑے کو پہاڑوں میں لے جاکر بے دردی سے قتل کیا تھا۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہے کہ ایک خاتون کو دو گاڑیوں پر سوار مسلح افراد کی موجودگی میں ایک ویران مقام پر لایا جاتا ہے ۔
خاتون نے ہاتھ میں قرآن مجید اٹھا رکھا تھا اور بغیر کسی مزاحمت کے چلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں
اس موقع پربلوچی زبان میں کچھ آوازیں سنائی دیتی ہیں ،سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے کپیشن میں دعویٰ کیا جارہاہے خاتون کی جان لینے کی اجازت طلب کی گئی تو اس نے کہا کہ گولی سے مارنے کی اجازت ہے جس کے بعد وہ پورے اعتماد سے چل کر مردوں کے سامنے کھڑی ہوجاتی ہیں
اس دوران ایک مرد اس خاتون پر 9 گولیاں فائر کرتاہے اور تیسری گولی لگنے پر خاتون زمین پر گرجاتی ہے
یہ بھی دعویٰ کیا جارہاہے کہ خاتون کے شوہر کو بھی گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے ۔
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے ویڈیو کا نوٹس لے کر واقعے کی تحقیقات اور ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جائے وقوع اور ملزمان کا تعین کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ایسی سفاکانہ حرکات ناقابل برداشت ہیں، مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
معروف صحافی حامد میر نے اس اندوہناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ ایک نام نہاد جرگے نے عدالت بن کر دو انسانوں کو قتل کر دیا، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس لاقانونیت میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے سزا دے؟
معروف صحافی عاصمہ شیرازی نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ یہ لڑکی بندوق تانے بُزدل سے کہیں زیادہ بہادر اور غیرت مند ہے۔
معروف عالم دین مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ اسلام ہے نہ ثقافت! مجرمانہ خاموشی پر من حیث القوم ہم سب اس بچی کے قاتل ہیں
ممتاز عالم دین مفتی عدنان کاکا خیل نے بھی بلوچستان میں خاتون کے قتل کے واقعہ کو شرمناک اور غیرانسانی فعل قراردیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے ۔
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پر خاتون اور مرد کے قتل کی وائرل ویڈیو کا فوری نوٹس لیا تھا۔انہوں نے بتایاکہ ویڈیو میں مقتولین کی شناخت ہوچکی ہے اور واقعہ عید سے چند دن قبل کا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھاکہ ریاست کی مدعیت میں دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا گیا اور ایک مشتبہ قاتل گرفتار ہوچکا ہے، قانون اس گھناؤنے معاملے پر اپنا راستہ لے گا۔
دوسری جانب کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے بتایاکہ دونوں فیملی کی جانب سے واقعہ کو رپورٹ نہیں کیا گیا۔ شاہد رند کا کہنا تھاکہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کیلئے ڈیٹا نادرا بھیجا گیا، بائیک پر نظر آنے والا نمبر بھی ایکسائز ڈیپارٹمنٹ بھیجا گیا ہے، وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ کسی کا پریشر نہیں لیا جائے گا۔
ویڈیو میں نظر آنے والا ایک شخص گرفتار ہوگیا ہے باقی بھی گرفتار ہوں گے، قبائل اور افراد کی شناخت ہوگئی ہے، حکمت عملی کے تحت فی الحال شناخت ظاہر نہیں کررہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں