برطانیہ نے پی آئی اے پروازوں پر پابندی ختم کردی

برطانیہ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت سے پاکستان ایئر لائنز( پی آئی اے) پر عائد  پابندیاں پانچ سال بعد ختم کر دیں۔

برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ پاکستانی ائیر لائنز اب برطانیہ کے لیے پروازوں کے لیے درخواست دے سکتی ہے۔

برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق ائیرلائنز کو پروازوں کے لیے یوکے سی اے اے سے اجازت لینا ہوگی۔

برطانوی ہائی کمیشن کا بتانا ہے کہ سیفٹی لسٹ سے اخراج  آزاد اور تکنیکی عمل کے تحت ہوا۔

پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کا کہنا ہے کہ میں پاکستانی ائیر لائن سے سفر کی منتظر ہوں، پاکستان کے ساتھ فضائی رابطوں میں بہتری خاندانوں کے ملاپ میں مددے دے گی۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت کے دوران مئی 2020 میں کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کو پیش ہونے والے حادثے کے بعد اس وقت کے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان  نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ ہمارے ملک کے ایک تہائی کمرشل پائلٹس کے پاس بوگس ڈگریاں ہیں جس کے بعد جون 2020 میں برطانیہ اور یورپ کے لیے پاکستانی پروازوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

حکومت کی مسلسل کوششوں کے بعد گزشتہ برس نومبر میں یورپی یونین نے پاکستانی ائیر لائن کی یورپ کے لیے پروازوں پر سے پابندی اٹھا لی تھی تاہم اب برطانیہ نے بھی پاکستانی ائیر لائنز پر عائد پابندی ہٹا لی ہے۔

دوسری طرف وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ قومی ائیر لائن پر پابندی کیوں لگی اس کا تعین کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کا نام ائیر سیفٹی لسٹ سے نکالے جانا اہم سنگ میل ہے، خوش اسلوبی سے پی آئی اے پر  پابندیاں ہٹ گئیں، اس پابندی سے قومی شناخت اور اربوں روپے کا نقصان الگ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ قومی ائیرلائن کےعلاوہ ایک نجی ائیرلائن کوبھی برطانیہ نے اجازت دی ہے،  ہماری کوشش ہے کہ نیویارک کی پروازیں بھی بحال ہوں، پاکستان بیرون ملک اپنی پروازوں کےلیے  آپریٹنگ لائسنس کے لیے  اپلائی کرے گا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ سابق وزیر ہو ابازی غلام سرور کے اقدامات سے  پی آئی اے پر پابندیاں لگیں، سابق وزیر کا بیان غلط ثابت ہوا، غلام سرورخان نے اپنے ادارے کے خلاف جو جرم کیا وہ قومی جرم تھا، اس میں بانی پی ٹی آئی برابرکے شریک تھے، ان دونوں نے قومی ائیرلائن کو قبرستان بنایا۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ قومی ائیر لائن پر پابندی کیوں لگی اس کا تعین کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت طے کرے گی کہ ادارہ جاتی کارروائی کیسے کی جائے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ اجتماعی ہوگا اور  کابینہ فیصلہ کرے گی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے