آپریشن سندور میں بھارتی فوج کے نقصانات کی تفصیل سامنے آگئی، ہلاکتیں چھپانے کی کوشش ناکام
آپریشن سندور میں بھارتی فوج کے نقصانات کی تفصیلات پہلی مرتبہ سامنے آگئی ہیں جن کے مطابق رافیل طیاروں کے 3 اور مجموعی طور پر 4 پائلٹس اور روسی میزائل دفاعی نظام ایس 400 کے 5 آپریٹرز سمیت ہلاک ہونے والے 100 اہلکاروں کو اعزازات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق مصدقہ اطلاعات ہیں کہ صرف لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کو 250 سے زائد ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق بھارت نے آپریشن سندور میں کہیں زیادہ مارے جانے والے فوجیوں میں سے 100 سے زائد فوجی اہلکاروں اورپائلٹس کو ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارت اپنی رسوائی اور شکست چھپانے کے لیے ہلاکتوں کے حوالے سے حقائق کو آج تک مسلسل چھپاتارہا ہے۔
مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارت کی جانب سے چھپائی گئی ہلاکتوں میں انڈین ایئر فورس یونٹ کے 7 جوان بھی شامل ہیں، جنہیں اعزازات سے نوازنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ جی ٹاپ میں 10 انفینٹری بریگیڈ کے 5 ہلاک جوان بھی اعزاز کے مستحق قرار پائے ہیں۔
ہیڈکوارٹر 93 انفینٹری بریگیڈ میں ہلاک ہونے والے 9 فوجی اہلکاروں کو بھی اعزازات دیے جا رہے ہیں۔
بھارتی فضائیہ کے 4 ہلاک پائلٹوں کو بھی اعزازات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن میں رافیل طیاروں کے 3 پائلٹس بھی شامل ہیں۔
اعزاز حاصل کرنے والوں میں آدم پور ایئربیس پر مارے گئے جدید ایس 400 دفاعی نظام کے 5 آپریٹرز بھی شامل ہیں جبکہ ادھم پور ایئربیس بشمول ایئر ڈیفنس یونٹ پر ہلاک ہونے والے 9 اہلکاروں کو بھی فوجی اعزاز دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایوی ایشن بیس راجوڑی میں ہلاک ہونے والے 2 اہلکار اور اڑی میں ہلاک ہونے والے سپلائی ڈپو کے او سی سمیت 4 بھارتی فوجی بھی اعزاز حاصل کرنے والوں کی فہرست کا حصہ ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس فیلڈ سپورٹ یونٹ نوشہرہ میں ہلاک ایک اہلکار اور 12 انفنٹری بریگیڈ اڑی میں ہلاک 3 فوجیوں کو بھی اعزازات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق پٹھان کوٹ اور اُدھم پور سمیت دیگر دفاعی تنصیبات پر پاکستان کے متعدد موثر حملوں کے بعد بھارت سیز فائر پر مجبور ہوا، سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی بھارتی جنرل اور سفارتی نمائندے بھی مجبوراً تباہ شدہ بیسز اور رافیل کے نقصانات کا اعتراف کر چکے ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں