مربوط جوہری نظام اور وسیع انفرا اسٹرکچر، ایران کا افزودہ یورینیئم کہاں ہے؟
ایران ایک ایسا مربوط جوہری نظام چلاتا ہے جو نقشے پر محض چند جامد مقامات نہیں بلکہ ایک وسیع، محفوظ اور مضبوط انفرا اسٹرکچر پر مشتمل ہے۔
مغربی میڈیا رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں درجنوں تنصیبات میں ہزاروں سائنسدان اور انجینئر کام کرتے ہیں، ایران کا افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ، جسے 16 چھوٹے کینسٹروں میں سمیٹا جاسکتا ہے، کسی ایک جگہ نہیں رکھا جاتا، وہ ایران کے مختلف جوہری مراکز میں مسلسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔
ایران نے 22 مئی کو سفارت کاروں کو بتایا تھا کہ وہ اسرائیلی حملے کی صورت میں اپنے یورینیئم کے ذخیرے کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کرے گا لیکن IAEA کو ناصرف ان اقدامات کی تفصیلات کا علم نہیں بلکہ یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ مواد اب کہاں ہے۔ یہی غیر یقینی صورتحال عالمی ماہرین کو شدید پریشان کیے ہوئے ہے۔
بین الاقوامی میڈیا نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال مئی تک ایران کے پاس 408.6 کلو گرام یورینیئم موجود تھا۔رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس اس وقت 60 فیصد افزودہ یورینیم ہے جب کہ 90 فیصد افزودہ یورینیم 10 جوہری ہتھیار بنانےکےلیےکافی ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں