وزیراعظم سے بیلا روس کے وزیر دفاع کی زیر قیادت سات رکنی وفد کی ملاقات
وزیراعظم شہباز شریف سے بیلا روس کے وزیر دفاع کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد نے وزیر اعظم ہاوس میں ملاقات کی ۔ وزیر اعظم نے ٹیکنالوجی اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے مثبت جواب دینے کی بجائے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا۔
وزیراعظم ہاوس میں بیلا روس کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل وکٹر خرینن (Lt General Victor Khrenin) کی قیادت میں سات رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان بہترین دو طرفہ تعلقات ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم بیلاروس کے ساتھ معاشی شراکت داری کی مزید ترویج کے خواہاں ہیں ،زرعی مشینری کی تیاری کے حوالے سے بیلاروس کی مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔بیلاروس کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دفاعی شعبوں میں بھی تعاون کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔
وزیراعظم نے وفد کو جنوبی ایشیاء میں حالیہ کشیدہ صورتحال پر پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی جس کا مثبت جواب دینے کی بجائے بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئےپاکستان پر حملہ کیا۔10 مئی کو پاکستان نے اپنے دفاع میں بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔

اس موقع پر بیلا روسی وزیر دفاع نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں۔ دورہء پاکستان کا مقصد بیلاروس اور پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر پیشرفت کو مزید آگے بڑھانا ہے ۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں