زلزلے کے دوران ملیر جیل سے216قیدی فرار،فائرنگ سے ایک قیدی مارا گیا،78دوبارہ گرفتار

کراچی میں زلزلے کے دوران  ملیر جیل سے 216 قیدی فرار ہوگئے جبکہ پولیس فائرنگ سے ایک قیدی ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہوئے ،فرار ہونے والے قیدیوں میں سے 78 کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ہے ۔

ملیر جیل کے سپرنٹنڈنٹ ارشد شاہ کے مطابق جیل کی دیوار نہیں ٹوٹی تھی بلکہ زلزلے کے جھٹکوں کے سبب قیدیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا کہ کہیں چھت ان پر نہ گر جائے، جس کے بعد ایک سے ڈیڑھ ہزار قیدی جیل کے دروازے پر جمع ہوگئے اور ’اتنی بڑی تعداد میں قیدیوں کو کنٹرول کرنا مشکل تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی ٹیمیں فرار ہونے والے قیدیوں کے پتے پر بھیجی گئی ہیں اور جلد ہی تمام قیدیوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

ملیر جیل انتظامیہ کا کہناہے کہ پیر کی رات زلزلے کے دوران نقصان سے بچنے کے لیے قیدیوں کو بیرکوں سے باہر بٹھایا گیا تھا، زلزلےکے باعث ہنگامہ آرائی شروع ہوئی، قیدیوں نے پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی کی اور اسلحہ چھین کر فائرنگ کی۔

واقعہ میں ایک قیدی ہلاک ہوا جبکہ 3 قیدی، 3 ایف سی اہلکار اور 2 جیل پولیس اہلکار زخمی ہوئے جنہیں جناح اسپتال منتقل کردیا گیا۔

سندھ کے وزیر جیل علی حسن زرداری نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی جیل اور ڈی آئی جی جیل سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی قیدی فرار ہوا ہے تو اسے ہر صورت میں دوبارہ گرفتار کیا جائے۔‘ انھوں نے غفلت کے مرتکب افسران کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت بھی کی ہے۔

 وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک سنجیدہ واقعہ ہے اور اس میں ممکنہ کوتاہی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے کہا کہ 6 ہزار قیدی جیل میں موجود ہیں،ان کا کہنا تھا کہ پولیس، رینجرز اور ایف سی نے ملیر جیل کا کنٹرول سنبھال لیا۔دیگر مفرور قیدیوں کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے