حسینہ واجد حکومت گرانے کامبینہ الزام،امریکا نے خاموشی توڑ دی

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو ہٹانے میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں تھا، اور امریکی مداخلت کے الزامات کو ’سراسر غلط‘ قرار دیا۔
جنہوں نے حال ہی میں اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا اور جنوبی ایشیائی ملک سے فرار ہو گئے تھے،
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پریس میں بریفنگ میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کرائن جین پیئر نے کہا کہ ’ہمارا کوئی دخل نہیں ہے۔ کوئی بھی ایسی اطلاعات یا افواہیں کہ ان واقعات میں امریکہ کی حکومت ملوث تھی سراسر غلط ہے۔‘
اتوار کو انڈیا میں اکنامک ٹائمز اخبار کی ایک رپورٹ میں حسینہ واجد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ امریکہ نے انہیں بے دخل کرنے میں کردار ادا کیا کیونکہ وہ خلیج بنگال میں واقع بنگلہ دیش کے سینٹ مارٹن جزیرے پر اپنا کنٹرول چاہتا ہے۔ اخبار نے کہا کہ حسینہ نے یہ پیغام اپنے قریبی ساتھیوں کے ذریعے اسے پہنچایا تھا تاہم حسینہ واجد کے بیٹے سجیب وازید نے اتوار کو ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے کبھی ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔
وائٹ ہاؤس نے مزید کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ بنگلہ دیشی عوام کو بنگلہ دیشی حکومت کے مستقبل کا تعین کرنا چاہیے اور ہم اسی جگہ کھڑے ہیں۔‘

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے