کوئی دستار کو ترسے،کوئی سر کو ترسے

”میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ وہ قوم جس نے ہر دور میں اپنے مذہب کے لئے ، ملک و قوم کے لیے، ہر طرح کی قربانی دی ہو، آگ اور خون کے دریا عبور کئے ہوں، کلمہ طیبہ اور صلوٰة و سلام کے ورد کو اپنی عادت بنایا ہو، اس کے بارے میں آپ یہ تصور رکھیں کہ وہ آزادی کا مفہوم تک نہیں سمجھتی، کوئی کام نہیں کرتی بس اپنے تئیں میاں مٹھو بنی ہوئی ہے!۔۔۔بھئی ابھی سال ہی کتنے ہوئے ہیں آزاد ہوئے۔”
” مشہور روایت کے مطابق ہم نے ایک ملک بنایا اسلام کے اصولوں پر چلنے کا مقصد لے کر، پھر دس سال کی گو مگو میں جب آرزوؤں کے آیئنے چور چور ہوگئے تو ہم نے ایک دستور بنالیا۔دستور زبان بندی و نظر بندی! کسی نے یاد دلا کہ آپ نے اسلام کے لئے یہ ملک بنایا تھا تو ہم نے فوراً اپنے اس مقصد کو پانے کے لئے دستور میں چند دفعات شامل کردیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام نہ آسکے۔ اردو زبان کو قومی زبان کا درجہ دے دیا اور انگریزی زبان کو ملکی زبان کا! کچھ عرصہ بعد ہم نے ملک کے آدھے حصے پر قناعت کرلی ، کشمیر ہندوستان کو دے دیا کشمیری ہمارے رہے ۔ ہمارے پاس نظام تعلیم اپنانہیں تھا لہٰذا ہم نے وہ بھی ادھار مانگ لیا اورآج تک واپس نہیں کیا ۔مال اچھا ہو تو قیمت نہیں دیکھی جاتی! پھر ہم نے قوم کو مختلف طبقوں میں تقسیم کرنا شروع کیا تاکہ آنیوالی نسلوں کو اتحاد و اتفاق کی اہمیت کا احساس ہو۔ تقسیم کار کی حکمت عملی پر گامزن ہوتے ہوئے سیاست کا شعبہ جاگیرداروں کو دے دیا تاکہ ہم اس جھنجھٹ سے تو آزاد ہوں ویسے بھی جس کا کام اسی کو ساجھے اور مذہب کا شعبہ ٹھیکے پر چڑھا دیا تاکہ اس کی آبیاری اور کاشتکاری بلکہ کشیدہ کاری اچھی طرح سے ہوسکے!”
”نہیں خیر!آزادی۔۔۔جو کہ ایک بہت بڑی نعمت ہے ہم نے محنت سے حاصل کرلی ہے اورآج ہماراشمار دنیا کی آزاد قوموں میں ہوتا ہے۔ اس آزادی نے ہمیں جرأت اظہار دی ہے، جذبہ دیا ہے ولولہ اور جوش دیا ہے ، عزت نفس اور وقار سے مالا مال کیا ہے۔ اب ہر فرد انفرادی آزادی کا لطف اٹھا رہا ہے…”
” جی ہاں یہ سب بجا مگر لگتا یوں ہے کہ آزادی ملی ہے ہمیں اپنے ماضی سے ، اپنے فرائض سے، اخلاقی قیود سے، مذہبی پابندیوں سے، قومی تقاضوں سے۔۔۔ہرفرد آزاد ہے خواہ وہ راہزن ہو ظالم ہو یا قانون شکن، قاتل ہو یا قومی مفادات کا سوداگر۔۔۔بس اسے معلوم ہونا چاہئے کہ قانون میں کہاں کہاں سقم ہیں، نظام میں کس کس جگہ ڈھیل ہے اور اس کے پاس کہاں کہاں مواقع میسر ہیں! مجھے تو لگتا ہےاس کا نام ہے آزادی! ۔۔۔ایک آزادی یہ بھی ہمیں حاصل ہے، جھوٹ بولو، الزام لگاؤ، تہمتیں باندھو، چور چور کا شور مچاؤ خود اپنی چوری سے مکر جاؤ، یو ٹرن پہ یوں ٹرن لیتے جاؤ۔۔۔یار کون لوگ ہو تم؟”
” آپ مایوسیوں والی بات کر رہے ہیں،ہم مسلمان ہیں کچھ تو خیال کریں، چھوٹی موٹی کوتاہیاں تو ہو ہی جاتی ہیں، ہلکی پھلکی موسیقی تو جائز بھی ہوتی ہے۔۔۔ہم اللہ کے قانون کو ماننے والےہیں۔”
”زباں سے کہہ بھی دیا لا الٰہ ۔۔۔جہاں تک ہماری مذہبی زندگی کا تعلق ہے ، ہم نیت قبلہ کی طرف باندھ کر نماز کلیسا کے طرف پڑھ رہے ہیں۔ ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر؛ کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے ! المیہ یہ ہے کہ خود مذہب ہی پر حملہ آور ہیں۔ ہماری مذہب سے وابستگی بھی جذباتی ہے، شعوری نہیں۔ اسلام پر مارنے مرنے کو تیار ہیں اسلام پر جینے کو تیار نہیں۔”
”لیکن ہم نے تو تحریک پاکستان میں بھی اسلام کے لئےبے انتہا قربانیاں دی تھیں پھر پاکستان بننے کے بعد اسلامی دستور کے لئے مہم چلائی ، قرارداد مقاصد منظور کروائی تھی۔ ۔۔ ”
” اس کے بعد کیا ہوا۔ بھائی میں جس پہ رو رہا ہوں وہ ہے بات ہی کچھ اور۔۔۔ہم اللہ کے قانون کو مانتے ہیں اور شیطان کی اطاعت بھی کرتے ہیں۔ درودو سلام کا ورد بھی کرتے ہیں اور فحش فلموں کے دیوانے بھی ہیں۔ ناموس رسالت کے مسئلہ پر جذباتی ہوجاتے ہیں مگرآپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ سے اپنی زندگی سنوارنے کی طرف قطعاً نہیں آتے۔یہ رسمی اور رواجی دین اور یہ عملی منافقت و بے دینی۔۔۔سب کے سب تشنۂ تکمیل ہیں اس شہر کے لوگ،کوئی دستار کو ترسے کوئی سر کو ترسے !”

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے