بنگلا دیشی عوام اتنے حساس کیوں ہیں۔۔؟

بنگال کے لوگ سیاسی و مذہبی نظریات،زبان ،کلچر،قومیت اور اپنے محسنوں کے معاملے میں بڑے حساس ہیں بنگلہ دیش کا ماضی اور حالیہ تاریخ اس حساسیت کی گواہی دے رہی ہے۔
پانچ اگست 2024 کو بنگلہ دیش میں طلبہ کی کال پر عوام کا ایک سیلاب دارالحکومت ڈھاکہ کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج سے شروع ہونے والی یہ طلبہ تحریک کئی دوسرے شہروں میں بھی پھیل چکی تھی اورلوگ سڑکوں پر نکل کر اپنے غم وغصے کااظہار کررہے تھے ،اس عوامی احتجاج کے نتیجے میں جس طرح وزیراعظم شیخ حسینہ کواستعفیٰ دے کر بیرون ملک پناہ لینا پڑی اس کاادراک ہوسکتاہے بہت ہی کم لوگوں کو ہوگالیکن یہ پہلا موقع نہیں جب بنگال کی سرزمین پر عوام کی طاقت سے حکومت اور نظام کو تبدیل کیا گیا ہو۔
بنگالی عوام اس طرح کی طاقت کااظہارایک صدی پہلے بھی کرچکے ہیں اور گزشتہ90 سال کے دوران عوامی طاقت کااظہارکئی مواقع پر کیا گیا۔
تقسیم برصغیر سے قبل بھی جب حقوق کے لئے آوازیں بلند ہوناشروع ہوئیں تو سب سے پہلی کامیابی بنگال کے لوگوں کے حصے میں ہی آئی تھی ۔ بنگال کے لوگوں کو1905 میں ہی مسلم اکثریتی صوبہ مل گیا تھا جہاں وہ آزادی کے ساتھ اپنے آپ کو سیاسی ،معاشی اور تعلیمی اعتبار سے مضبوط بنانے کے خواہشمند تھے لیکن یہ کامیابی دشمنوں کی نظر میں کھٹکنے لگی، ہندوئوں نے مسلمانوں کو الگ تھلگ صوبہ دینے کی اتنی شدت کے ساتھ مخالفت کی کہ 12 دسمبر 1911 کو انگریز سرکار نے بنگال کی تقسیم منسوخ کردی یوں یہ کامیابی اور خوشی عارضی ثابت ہوئی۔
تقسیم بنگال منسوخ ہونے کے باوجودبنگال کے لوگوں نے جدوجہد ترک نہیں کی ،وہ اپنے حقوق کے لئے سرگرم رہے ۔ہندوئوں کی طرف سے جس تعصب کا مظاہرہ کیا گیا بنگال کے لوگ اسے بھولے نہیں اور اپنی توانائیوں کا رخ مسلم لیگ کے ساتھ وابستگی کی طرف موڑ دیا۔
بنگال کے لوگوں نے نہ صرف تحریک پاکستان شروع کی بلکہ 1937 میں آل انڈیا مسلم لیگ کوبنگال میں حکومت بھی دلوا دی ، مسلم لیگ کو یہ کامیابی اس لئے ملی کہ بندے ماترم کو قومی ترانہ بنانے پربنگال کے مسلمان سخت ناراض تھے اور مسلم لیگ نے مسلمانوں کے جذبات کی کھل کرترجمانی کی تھی جس کی وجہ سے کانگریس کو شکست ہوئی۔ آگے چل کر انہی بنگالی مسلمانوں نے قیام پاکستان کی تحریک کو بھی کامیابی سے ہمکنار کیا لیکن پاکستان کے فیصلہ سازوں نے بنگال کے لوگوں کے ساتھ کوئی قابل فخر سلوک نہ کیا جس کانتیجہ یہ نکلا کہ سابق مشرقی پاکستان کے لوگ ایک نئی تحریک کے سفر پر چل نکلے یہی تحریک مختلف مراحل سے ہوتی ہوئی بنگلہ دیش کے قیام تک پہنچی۔ مغربی پاکستان یعنی موجودہ پاکستان کی حکومتوں اور شخصیات کے ساتھ بھی بنگالیوں کی ناراضی بنگالی زبان کو قومی زبان کا درجہ نہ دینے سے شروع ہوئی اور پھر اس میں دیگر عوامل بھی شامل ہوتے گئے، بنگلہ دیش کے آزادریاست بنتے وقت ایک طبقہ ایسا تھا جس کے پاکستان کے ساتھ نظریاتی رشتے کو سخت دھچکا لگا اور اسی طبقے کے حامی عناصر نے بنگلہ دیش کے بابائے قوم کادرجہ رکھنے والے شیخ مجیب اور ان کے خاندان کے افراد کو قتل کرکے اقتدار سنبھال لیا۔
اگست 1975ء میں بنگلہ دیشی فوج کے جن افسران نے شیخ مجیب کے خلاف بغاوت کی ان میں لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الرحمان بھی شامل تھے جو بعد میں بنگلہ دیش کے صدر بن گئے لیکن ان کا انجام بھی وہی ہوا جس انجام سے جنرل ضیاء الرحمان اور ان کے ساتھیوں نے مجیب خاندان کو دوچار کیاتھا
۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ جب ہم اصطلاحات کے ذریعے واقعات کو بیان کرتے ہیں تو تاریخ کا نقطہ نظر بدل جاتا ہے۔ مثلا بنگلہ دیش کے انیس سو اکتہر کے بحران کو پاکستان میں سقوط ڈھاکا کہا جاتا ہے یوں سقوط کی یہ اصطلاح بنگلہ دیشی عوام کی قربانیوں اور تحریکوں کو پس پردہ ڈال دیتی ہے۔
پاکستان کی طرح یہی حال بنگلہ دیشی دانشور اور مؤرخین کا ہے جو اس واقعے کو پاکستان سے لبریشن کا نام دیتے ہیں۔ فریڈم اور لبریشن میں فرق ہے۔ ایشیا اور افریقہ کے، جن ممالک نے یورپی سامراج سے قانونی اور دستوری جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کی ان کی جدوجہد کوفریڈم کا نام دیا جاتا ہے لیکن اگر یہ آزادی مسلح جدوجہد کے ذریعے حاصل کی گئی ہے تو اسے لبریشن کا نام دیا جاتا ہے۔ اس لئے بنگلہ دیشی مورخ اپنی تاریخ میں آزادی کو پاکستان سے لبریشن کہتے ہیں۔
تاریخ کو شخصیات اور اصطلاحات کے تناظر میں بیان کرنے سے ان سیاسی اور معاشی وجوہات کو اہمیت نہیں دی جاتی، جو بحران کا سبب بنے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بنگلہ دیش کی آزادی کو سمجھنے کے لئے تقسیم کے بعد سے، جن حالات کا اس نے سامنا کیا تھا، انہیں سمجھا جائے۔ بنگلہ دیش کی موجودہ ترقی میں چار بار وزیراعظم رہنے والی حسینہ واجد کی جدوجہد قابل ذکر ہے۔ اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی وجوہات تھیں، جنہوں نے شیخ حسینہ کے بارے میں اس قدر تلخی پیدا کردی کہ نوبت 5 اگست جیسے واقعات تک جا پہنچی۔
حسینہ واجد کے دور میں بنگلہ دیش نے صنعتوں،تعلیم ،سماجی بہبود اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں نمایاں ترقی کی، پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے، جنگ کے امکانات سے ملک کو نکالا،مذہبی انتہاپسندی کے خلاف ایک سخت پوزیشن لی لیکن اس سب کچھ کے باوجود مخالفین کو اور خصوصی طورپر سیاسی مخالفین کو طاقت کے ذریعے کچلنے کی غلطی بھی کی گئی ۔
جب بھی طاقت کے ذریعے تحریکوں کو کچلا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں قتل و غارت گری اور خونریزی ہوتی ہے۔ یہی سب کچھ بنگلہ دیش میں ہوا۔ آج حسینہ واجد کی جگہ ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں ایک عبوری حکومت وجود میں آچکی ہے اگر اس حکومت نے بھی مخالفین کے ساتھ وہی سلوک کیا جو حسینہ واجد نے کیا تھا تو حکومتوں کا تختہ الٹنے کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکے گا اور آج کے عبوری حکمران بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں، فوج نے اگر آج حسینہ واجد کو تنہا چھوڑ کرمظاہرین سے ہاتھ ملا لیا ہے تو کل یہ ہاتھ کسی اور کے ساتھ بھی ملایا جاسکتاہے ۔ اس لئے بنگلہ دیش کے معاملات چلانے والوں کو ماضی سے سبق سیکھ کر آگے چلنا ہوگا اورجذبات کی بجائے حکمت کا راستہ اپنانا ہوگا کیونکہ جذباتیت کی بنیادپر حاصل ہونے والی کوئی کامیابی آج تک دیر پاثابت نہیں ہوئی۔ کامیابی تو اخوان المسلمون کو بھی مل گئی تھی مگر صرف ایک سال کے بعد پہلے سے زیادہ جابر ڈکٹیٹر نے انہیں دبوچ لیا تھا۔خدا کرے بنگلہ دیش استحکام کی راہ پر چلے اورطلبہ تحریک کو مصر کے اخوان المسلمون کی طرح کسی جنرل سیسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے