بنگلہ دیش میں طلباء تحریک ، شیخ مجیب کے خاندان کا انجام اور مابعد
شیخ مجیب الرحمن نے ہندوستان کی مدد سے پاکستان سے الگ کر کے 1971 میں بنگلہ دیش کی بنیاد ڈالی جس کو سوائے دو بیٹیوں حسینہ اور رخسانہ کے پورے خاندان سمیت پہلے ہی چار برسوں میں قتل کردیا گیا ، جبکہ دو بیٹیاں بیرون ملک ہونے کے باعث بچ گئیں –
ان کی بیٹی شیخ حسینہ واجد نے پندرہ سال پہلے بنگلہ دیش میں حکومت بناکے ملک کو جمہوری ڈکٹیٹر شپ میں بدلنے کے لئے 1971 میں پاکستان سے اس کے باپ کی لیڈرشپ میں علیحدگی کی تحریک میں حصہ لینے والوں کے لئے بنگلہ دیش کی سرکاری نوکریوں میں کوٹہ پنتیس فیصد کردیا – یہ بنیادی طور اس نسل کے لئے تھا جس نے جنگ آزادی میں حصہ لیا تھا لیکن اب یہ تیسری نسل تک پہنچ کر پچاس فیصد تک پہنچ گیا ہے جس سے بیزار ملک کے پچاس فیصد طلباء نے اس کو ختم کرنے اور نہ کئے جانے کی وجہ سے ملک گیر تحریک شروع کی جو قابو سے باہر ہوجانے کی وجہ سے حکومت نے تحریک پر پابندی ، ملک بھر میں کر فیوں ، مظاہروں پر کریک ڈاون ، سینکڑوں بنگالیوں کو ہلاک کرنے ، فوج نے گولی چلانے سے انکار پر حسینہ واجد نے فوج کی ہی مدد سے ہندوستان میں پناہ لینے میں عافیت سمجھی اور ہندوستانی بنگال کے اس مقام ، اگر تھلہ ، پر بنگلہ دیشی ہیلی کا پٹر کےذریعہ لینڈ کیا جہاں سے بنگلہ دیش کو الگ کرنے کی سازش شروع ہوئی تھی اور وہاں سے ہندوستانی حکومت نے اسے دہلی کے اڑوس پڑوس میں کسی جگہ پہ پہنچا دیا ، جہاں مبینہ طور اس کا قیام عارضی ہے اور وہ کسی اگلی پناہ گاہ کی تالاش میں ہے -یہ پناہ گاہ بھی یقینآ ہندوستان کی مہیا کرنے کا بندو بست کرے گا –
حسینہ واجد کی حکومت کے پندرہ سال ہر اس بنگالی کے لئے جس نے بنگلہ دیش کی پاکستان سے علحدگی اور اس کی نسلوں کے لئے عقوبت اور ازیت کا باعث بنی رہی – اس میں سر فہرست بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی تھی جس کے ان متعدد رہنماؤں اور ورکرز کو پھانسی چڑھایا گیا یا اس وقت تک جیلوں میں گل سڑ رہے ہیں – ان کی استقامت خراج تحسین کی مستحق ہے جس کی وجہ سے حسینہ واجد کے فسطائ دور کے خلاف لاوا پکتا رہا جو طلباء تنظیم کے والہانہ جذبہ سے پھٹ پڑا – ملک اور قوم کے خاطر اس کے ثمرات سمیٹنے کے لئے دونوں اس پر اپنا اپنا جھنڈا گاڑنے کی کو شش نہ کریں بلکہ عقلمندی سے آگے بڑھیں – ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش نہ کریں – یہ تحریک چونکہ عوامی حقوق پر ڈاکہ کے خلاف یک نکتہ ایجنڈے پہ مر کوز تھی اس کو اگر کوئ سیاسی جماعت ہائ جیک کرنے کی کوشش کرے گی تو سارا کیا دھرا ختم ہو جائے گا – ہم مقبوضہ کشمیر میں یہ دیکھ چکے ہیں کہ 1987 کے اسمبلی کے انتخاب میں ریکارڈ دھاندلی کے خلاف پوری وادئ کشمیر میں یک زبان عوامی حقوق کی تحریک سے شروع ہوکر انفرادی جماعتوں کے غلبہ کی کوشش کی نظر ہو گئی – جس کو بہانا بنا کے ہندوستان نے کشمیری پنڈتوں کو کشمیر سے نکال کر باقی وادی کے لوگوں پر انسانیت سوز مظالم کئے –
کل ہی نریندرا مودی نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کو ہندو اقلیت کی جان و مال کی حفاظت کے لئے تجویز کی صورت میں تنبیہ کی ہے ، ایسا نہ ہو کہ ہندوستان کشمیر کی طرح ہندو اقلیت کو خود مروائے یا ان کے لئے ہندوستان کے بارڈر کھول دے اور بنگلہ دیش میں مکتی باہنی کی طرز کی شرارت کرے – حسینہ واجد کی حکومت کے دوران ہندوستان نے بنگلہ دیش میں اپنے پنجے بھی گاڑھے ہیں اور سورس بھی بنائے ہیں اس کے ساتھ ہی گودھی میڈیا آئ ایس آئ کو اس سازش کا حصہ قرار دے رہا ہے –
اس سارے عرصہ کے دوران ہندوستانی حکومت بلخصوص نریندرا مودی ، حسینہ واجد اور اسکی حکومت کا پشتبان رہا جس کا اظہار اس نے بطور وزیر اعظم ڈھاکہ میں ایک سرکاری استقبالیہ میں کیا کہ ہندوستانی جوانوں نے اس دھرتی کی آزادی کے لئے اپنا خون دے کر آزادی دلائ ہے – پریس رپورٹس کے مطابق ہندوستانی را کے آفیسر بنگلہ دیش کے اندر حسینہ واجد کے مفادات کی حفاظت پر معمور تھے اور طلبہ تحریک کو دبانے کے لئے بھارتی فوجی بنگالی فوج کی وردیاں پہن کر فوج کے اندر سے بھی پکڑے گئے –
بنگالی اور پاکستانی سیاست دانوں اور لوگوں کی یہ قدر مشترک ہے کہ وہ نہ جمہوری حکومت کے بغیر رہ سکتے ہیں ، نہ چلا سکتے ہیں اور نہ ہی حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہیں جس کی وجہ سے فوج “ قومی مفاد میں “ عنان حکومت سنبھال لینے کے لئے تیار ہوتی ہے لیکن پھر مجبورآ سیاست دانوں کے لئے راستہ ہموار کرتی ہے – میں اس عبوری عرصہ کو ایک لوہے کی زنجیر کی اس “ کڑی “ جیسا سمجھتا ہو ں جس کی ذاتی حیثیت میں کوئی طاقت نہیں ہوتی لیکن اس کے بغیر پوری زنجیر کی بھی کوئ حیثیت نہیں ہوتی – اس لئے ان ملکوں میں اس کڑی کا وجود ناگزیر ہے –
حسینہ واجد کی حکومت گرنے اور اس کے ہندوستان میں پناہ لینے یا اس کی مدد سے کسی اور ملک میں پناہ لینے سے اس کے اثرات خطے ہی نہیں پوری دنیا پر بھی پڑیں گے – اب بنگلہ دیش میں حسینہ واجد جیسی کوئ اور حکومت نہ بن سکنے سے نہ صرف ہندوستان کے لئے براہ راست بلکہ باقی دنیا کے لئے بھی تشویش ناک ہوگی کیو نکہ اس کا پاکستان کے لئے اگر نرم گوشہ نہ بھی ہو مخاصمت نہیں ہوگی، ہندوستان ، امریکہ اور یورپی ملکوں کو نئی حکومت کے چین کے حوالے سے خدشات اور تحفظات بڑھیں گے جو یہاں سی پیک اور BRI کے زریعہ اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کرے گا — اس لئے یہ ملک یہاں کوئ مستحکم حکومت نہیں بننے دیں گے جس سے اندرونی خلفشار ہمسایہ ملکوں پر بھی اثر انداز ہوگا- اندرونی خلفشار کو لیکر یورپی ملک ہندوستان کی سازشوں سے بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ہندؤں پر ظلم کی داستانیں گڑے گا، جنوبی ایشیاء میں سیاسی اور سفارتی توازن پر فرق پڑے گا ، ہندوستان کے خلاف تحفظات رکھنے والے نیپال ، سری لنکا، بھوٹان کو خطے میں ایک ہندوستانی ہم نواز حکومت سے مخالفت میں کمی آئیگی ، سارک ممالک میں اس کے اثر رسوخ میں فرق پڑے گا –
سفارتی اور اندرونی سطح پر پاکستان کو مستعد رہنے کی کوشش کرنا پڑے گی ، کوئی ایسی بچگانہ حرکت سے باز رہنے کی کوشش کر نا پڑے گی جو آئ ایس کے سابق سربراہ جنرل پاشا نے امریکیوں کے انخلاء کے موقع پر افغانستان میں پاکستانی سفارت خانہ میں تفاخر سے “ جام چائے “ کا کش لگا کر افغانیوں کے بجائے اپنی فتح کا جھنڈا گاڑنے کا تاثر دیا تھا –
بنگالیوں کو پاکستان سے 1971 کی شورش کے حوالے سے بہت شکایات ہیں ، ان کا تدبر سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ اور تشفی پیدا کرنے کا ادراک کرنا پڑے گا – اگر تدبر اور حوصلے سے کام لیا گیا تو بنگلہ دیش پاکستان کی حفاظت کے لئے اس سے بہتر کردار ادا کرے گا جو افغانستان ہندوستان کے لئے کرتا رہا ہے –
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں