بھارتی فوج نے کشمیریوں کا قتل عام بند نہ کیا تو آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو خونی لکیر پار کرنے سے کوئی نہیں روک سکے گا : وزیر اعظم انوار الحق

آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے کہا ہے کہ میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور اس کی کابینہ پر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اگر بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا قتل عام بند نہ کیا تو پھر آزاد جموں وکشمیر کے نوجوانوں کو خونی لکیر پار کرنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

ہمیں محافظ اور قابض فوج میں فرق کو سمجھنا ہوگا ، مسلح افواج پاکستان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے ، تاریخ میں پہلی بار بھارتی وزیر دفاع نے بوکھلا کر آزادکشمیر کے وزیراعظم کا نام لے کر دھمکی دی ہے ، واضح کرتا ہوں کہ الحاق پاکستان ہماری منزل ہے ، ہم خوش قسمت ہیں کہ بزرگان دین اور اولیاء کرام کی دعائیں ہمارے ساتھ ہیں ، وسائل تحریک آزادی کشمیر اور عوامی فلاح کے لیے بروئے کار لائیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں : وزیر اعظم انوار الحق کی حضرت بابا پیرے شاہ غازی المعروف دمڑی والی سرکار کے سالانہ عرس کی تقریبات میں شرکت

جاتلاں انٹر کالج کی بلڈنگ کا ٹینڈر اسی سال کریں گے ۔ RMC پنڈی سبھروال کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے برابر آسامیاں فراہم کی جائیں گی، میں نے اختیار کو اپنوں میں تقسیم کرنے کی روایت ختم کردی ہے ۔ تعصب اور برادری ازم کی سیاست کو رد کردیا ہے ، وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی پر سبسڈی دینے پر مشکور ہیں ، کسی ڈسپنسری کو بی ایچ یو یا کسی ہائی سکول کو بغیر سٹاف کے اپ گریڈیشن نہیں کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے کھڑی شریف چیچیاں ہاؤس میں مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر آزادکشمیر کے وزیر توانائی چوہدری ارشد حسین اور وزیر ہاؤسنگ و فزیکل پلاننگ چوہدری یاسر سلطان نے بھی خطاب کیا جبکہ اسٹیج پر چیئرمین ضلع کونسل راجہ نوید اختر گوگا،میئرچوہدری عثمان علی خالد، چوہدری محمد ریاض بھی موجود تھے۔

وزیر اعظم آزادکشمیر چوہدری انوار الحق کی چیچیاں آمد پر ڈسٹرکٹ کونسلر عبدالسلام نے گھڑ سواروں کے ہمراہ استقبال کیا،وزیر اعظم پر گل پاشی کی گئی اور انہیں ہار پہنائے گے،استقبال کرنے والوں نے صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری،وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے حق میں زبردست نعرہ بازی بھی کی ، اس موقع پر استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے کہا کہ ریاست آزادکشمیر کا نظام تحریک آزادی کشمیر کے مرہون منت ہے ، وفاقی حکومت اپنا پیٹ کاٹ کر ہمیں ہر سہولت مہیا کررہی ہے ، 3روپے بجلی اور دو ہزار روپے من آٹا سارے پاکستان میں کسی کو نہیں ملتا۔

کشمیریوں اور اہلیان پاکستان کا کلمہ طیبہ کا انمٹ رشتہ ہے جس میں دنیا کی کوئی طاقت دارڑ نہیں ڈال سکتی،انھوں نے کہا کہ خونی لکیر کے اس پار ان سہولیات کا کوئی تصور نہیں ، نریندر مودی اور اس کی قابض فوج نے مقبوضہ کشمیر میں جو قتل و غار ت اور ظلم و ستم کا بازار گرم کررکھا ہے اس کی مثال دنیا میں کئی نہیں ملتی۔گم نام قبریں،ایک لاکھ سے زائد شہداء، ہزاروں عورتوں کی عصمت دری،جبری گمشدگیاں اس کا واضح ثبوت ہے۔

انھوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھائیں گے ، مقبوضہ کشمیر کو بھارتی قبضہ سے آزاد کروانے کے لیے اخلاقی ،سفارتی،سیاسی حمایت سے بڑھ کر عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے،پاکستان آرمی ہماری محافظ آرمی ہے اور دنیا جانتی ہے کہ بھارتی فوج ایک دہشت گرد فوج ہے جس کے ہاتھ بے گناہ کشمیریوں کے خون اور کشمیری خواتین کی عصمت دری سے رنگے ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ 5فروری کو مقبوضہ کشمیر کے عوام نے اپنے گلی محلوں میں کھل کر پاکستان سے اپنی محبت اور بھارت سے نفرت کا اظہار کیا مقبوضہ کشمیر میں گلی گلی کشمیریوں نے پاکستانی حکمرانوں،پاکستانی پرچم اور چیف آف آرمی سٹاف کے پوسٹر لگا کر اپنا مقدر پاکستان سے جوڑ دیا۔آزادی کی قدر و قیمت جاننی ہے تو خونی لکیر کے اس پار جھانک کر دیکھیں جہاں کسی کو مذہبی عبادات کی اجازت تک نہیں ہے،وہ لوگ اونچی آواز میں بات کرنے کو بھی ترس رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حقوق مانگنا جمہوریت کا حسن ہے لیکن ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ کسی کو نظریاتی آلودگی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ایسا کرنے والوں کو آہنی ہاتھوں سے روکنا ریاست کا فرض بنتا ہے،موجودہ دور بیانیہ کی جنگ کا دور ہے۔سوشل میڈیا پر نظریاتی کشمکش ہورہی ہے،نوجوانوں کو اپنے آپ کو ایسی آلودگی سے محفوظ رکھنا ہوگا،انھیں اپنی مملکت اور نظریہ کے تحفظ کے لیے ہر دم تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی سرپرستی میں اتحادی حکومت قائم ہوئی ، گزشتہ 21ماہ میں اس اتحادی حکومت نے نفرت،تعصب،برادری وعلاقائی ازم کا بت پاش پاش کردیاہے ۔مخالفین نے بدترین سازشیں کیں لیکن ہم پر اللّہ کا کرم رہا۔اتحادی حکومت سمجھداری اور بردباری سے کام لے رہی ہے بھرپور کوشش رہی کہ تمام فیصلے اتفاق رائے اور احترام سے کیے جائیں،انھوں نے کہا میرٹ اور انصاف براہ راست میری جسم اور رو ح کا حصہ ہیں ، اس کا درس مجھے میرے والد محترم نے دیا قلم کے اختیار کو امانت سمجھتا ہوں ۔

میں نے اختیار کو اپنوں میں تقسیم کرنے کی روایت ختم کردی ہے ، جہاں جہاں جس جس جگہ ادارے یا سب ڈویژن وغیرہ بنانے ہیں تو اس کے لیے ہم خالی اعلانات نہیں کریں گے بلکہ اس مقصد کے لیے پہلے تمام فنڈز کا بھی انتظام کریں گے، اگرمیرے دور حکومت میں میرٹ کے اعتبار سے کوئی سب ڈویژن بنی تو سب سے پہلے کھڑی شریف کوسب ڈویژن کا درجہ دیں گے لیکن اس کے لیے پہلے درکار تمام فنڈز کا بندوبست کریں گے،کسی ڈسپنسری کو بی ایچ یو یا کسی ہائی سکول کو بغیر سٹاف کے ہائیر سیکنڈری سکول نہیں بنائیں گے، وہ نوٹیفکیشن کریں گے جس کا انتظام اور آسامیاں بھی مہیا کرسکیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے